ذکا اشرف کے ساتھ ....ادھوری ملاقات

ذکا اشرف کے ساتھ ....ادھوری ملاقات

رمضان المبارک میں شام کے وقت سڑکوں پر غیر معمولی تیزی کا ماحول ہوتا ہے ۔شاہراہواںپر چلتی گاڑیاں کم سے کم وقت میں اپنی منزل پر پہنچنا چاہتی ہیں۔ ٹریفک انتہائی بے ترتیب ہوتی ہے، لیکن رکتی نہیں۔دو روز پہلے پاکستان کرکٹ بورڈ کی افطار ی میں شرکت کے لئے ہم روانہ ہوئے تو سڑکوں پر کچھ ایسی ہی صورت حال تھی۔ڈیوس روڈ سے گزرتے ہوئے ٹریفک کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ شاید مقررہ وقت پر پہنچنا مشکل ہو، لیکن یہ رمضان کی برکت ہے کہ ہم افطاری سے چند منٹ پہلے پی سی ہوٹل پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ افطاری سے چند منٹ پہلے ہوٹل کے ہر کونے میں میز افطاری کے سامان سے سجے ہوئے تھے اور لگ رہا تھا کہ جیسے آج روزہ کھلتے ہی روزہ دار کھانے کے خلاف ایک باقاعدہ جنگ شروع کردیں گے ۔ میرے دوست شاہ جی صحیح کہتے ہیں کہ افطاری کے وقت کھانوں پر جو بھر پور حملہ کرتے نظر آتے ہیں وہ شاذو نادر ہی روزہ رکھتے ہیں۔ کرسٹل ہال کے سامنے سیڑھیوں سے اترتے ہوئے ہمیں اطمینان کا احساس ہوا، کیونکہ ہم اپنی منزل کے قریب پہنچ چکے تھے ۔ پی سی بی کی منیجر کمیونی کیشن ایند پبلی کیشن صبوحی جمشید اپنی والہانہ مسکراہٹ کے ساتھ مہمانوں کا استقبال کررہی تھیں۔ ہال کی ڈیزائنگ میں جو سکون کا احساس پایا جارہا تھا اس میں صبوحی کی دلچسپی اور نفیس سوچ شامل نظر آرہی تھی۔ہال میں کینڈل لائٹ کی روشنیاں افطار پارٹی کو منفرد بنا رہی تھیں ۔ویسے تو کینڈل لائٹ پر دو بندے ہی بیٹھے ہوں تو رومینٹک لگتا ہے،لیکن یہ کریڈٹ بھی صبوحی کو جاتا ہے کہ اس نے کینڈل لائٹس کی اس طرح ڈایزائننگ کرائی کہ ہال میں بیٹھے درجنوں افراد اس منظر کی شادابی سے لطف اندوز ہورہے تھے۔سیٹوں کی ترتیب اس طرح تھی کہ گلاب کھلے ہوئے ہیں ۔اس تقریب کا بنیادی مقصد سپورٹس کے صحافیوں کے ساتھ ایک خوبصورت محفل سجانا تھا ۔اس محفل میں ملک کے نامور کالم نویسوں اور تجزیہ نگاروں کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ہال کے سامنے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ چودھری ذکاءاشرف سینئر صحافیوں کے ساتھ محو گفتگو تھے اور پاکستان کی کرکٹ اور ملکی سیاست پر طبع آزمائی نظر آرہی تھی ۔ذکاءصاحب مسکراتے چہرے کے ساتھ صحافیوں کی کچھ سن رہے تھے اور کچھ سنا رہے تھے ۔درمیان کی ایک میز پر پاکستان کرکٹ ٹیم کے کچھ کھلاڑی بھی براجمان تھے۔ ایک زمانہ تھا کہ لوگ کھلاڑیوںکے ارد گرد گھومتے تھے اور مداح آٹوگراف لینے کے لئے بے چین رہتے تھے ۔میں نے اپنے دوست منشاءچیمہ سے کہا کہ اب کیا وقت آرہا ہے کہ کھلاڑی لوگوں کی طرف دیکھ رہے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ وہ لوگوں سے آٹو گراف نہ لینا شروع کردیں ۔اعزاز چیمہ ، اسد شفیق ، جنید خان، محمد سمیع اور انور علی سے ملاقات ہوئی ۔ نوجوان کھلاڑیوں کے چہرے پُرعزم نظرآئے اور باتوں باتوں میں کھلاڑیوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں وہ اچھا کھیل پیش کریں گے ۔ قوم کی دعائیں یقینا ان کے ساتھ ہیں اور آج کل پاکستان کرکٹ جن مشکلات سے گزر رہی ہے اس میں آسٹریلیا جیسی بڑی ٹیم کے خلاف اچھی کارکردگی سے یقینا دنیا میں پاکستان کا ایمج بہتر بنانے میں مدد ملے گی ۔

ٍٍکوچ ڈےو واٹمور تقریب میں نمایاں تھے اور افطاری کے موقع پر پاکستانی کھانوں سے خوب لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ان سے ہلکی پھلکی بات ہوئی تو انہوں نے اکیڈیمی میں کھلاڑیوں کی ٹریننگ کے بارے میں بتایا جب ان سے آسٹریلیا کے ساتھ سیریز کا پوچھا گیا تو انہوں نے مشکل سے اردو کا لفظ بولا انشا اللہ ۔اتنے میں پی سی بی کے میڈیا منیجر ندیم سرور ہمارے پاس آگئے اور کہنے لگے کہ میں آپ کے کالم دل ناداں سے مطمین نہیں ہوں،کیونکہ انسان دنیا میں وہی جیتا ہے جتنا وہ من سے جی لے۔ندیم سرور کی بات سے میں نے اتفاق کیا، کیونکہ مجھے لگا کہ ابھی اسکا دل جوان ہے ۔صبوحی جمشید کو موقع ملتا تو اس بحث میں شامل ہو کر دل کے سارے دریچے کھول دیتیں،لیکن دوسری مصروفیات کے باعث وہ اس بحث میں شامل نہ ہوسکیں اور یوں دل ناداں کا معاملہ وقتی طور پر التوا میں چلا گیا ۔اسی دوران مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے راجہ اسد علی خان سے ملاقات ہو گئی۔بڑی محبت سے ملے اور چند لمحوں میں کئی اچھی باتیں ہمارے کانوں میں چھوڑ گئے۔افطاری کے دوران صبوحی جمشید کی وضع داری عروج پر رہی اور وہ ایک ایک میز پر جا کر مہمانوں سے کھانے کے بارے میں پوچھتی رہیں۔ مجھے لگ رہا تھا کہ صبوحی نے پی سی بی کی ورکنگ میں سلجھاﺅ پیدا کردیا ہے اور پی سی بی کی کوئی بھی تقریب ہو اس میں نظم و ضبط ، نفاست اور مہمان نوازی کی اعلی روایات کا خیال رکھا جاتا ہے ۔یہ تقریب بھی ایک خوبصورت خیال کی طرح آگے بڑھتی رہی۔ میں اپنے دوست منشا چیمہ سے کہہ رہا تھا کہ چیئرمین ذکاءاشرف کے آنے سے پی سی بی کی پوری ورکنگ تبدیل ہوگئی ہے۔جب ذکاءاشرف نے اس عہدے کی ذمہ داریاں سنبھالی تو پاکستان میں کرکٹ کے لئے ایک مشکل دور تھا اوریہ چیئرمین صاحب کی مینا کاری اور سفارت کاری ہے کہ آج پاکستان کرکٹ ٹیم عالمی کرکٹ کا بڑی تیزی سے حصہ بن رہی ہے اور وہ دن دُور نہیں جب پاکستان کے گراونڈ میں بھی غیر ملکی ٹیمیں کھیلتی نظرآئیں گی۔سپورٹس کے کئی پرانے صحافی بھی ملے اور ماضی کے دنوں کے حوالے سے کئی یادوں کو ذہنوں میں تازہ کیا گیا ۔ صحافیوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کی بحالی چوہدری ذکا ءاشرف کا مثبت کارنامہ ہے اور اس کی ہرسطح پر پذیرائی ہونی چاہئے۔ صحافیوں نے اپنی اس ذمہ داری کا بھی اعادہ کیا کہ کرکٹ کی بحالی کے لئے میڈیا کو اپنا بھرپور رول ادا کرنا چاہئے۔

 خاص طور پر چودھری ذکاءاشرف کی کامیابیوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے اور اس حوالے سے اُن کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ بڑھانا چاہئے ۔ہمارا خیال تھاکہ افطاری کے آخری لمحات میں چیئرمین صاحب سے علیک سلیک ہو گی اور کرکٹ کی بحالی کے حوالے سے چیئرمین صاحب کی کوششوں پر انہیں مبارکباد دیں گے۔ اتنے میں چیئرمین صاحب کی میز پر شور کی آواز آئی اور پتہ چلا کہ سینئر صحافیوں کے درمیان ہونے والی سیاسی گفتگو ذہنوں سے بڑھ کر ہاتھوں کی جنبش تک پہنچ گئی ہے ۔اس صورت حال میں چیئرمین ذکاءاشرف نے انتہا ئی فراست کا مظاہرہ کیا اور معاملے کوکنٹرول کر لیا ۔ اگرچہ اس سے تھوڑی سی بدمزگی ہوئی لیکن اس واقعے سے اتنی خوبصورت تقریب نظر بد سے بچ گئی اور تھوڑی ہی دیر بعد چیئرمین صاحب کے مسکراتے چہرے نے ماحول کو پُرسکون کردیا،لیکن اس سارے واقعے سے ہمارا نقصان یہ ہوا کہ چیئرمین صاحب سے ملاقات نہ ہو سکی۔ جب ہم افطاری سے نکل کر مال روڈ پر آ رہے تھے تو میں نے چیئرمین پی سی بی کو اتنی شاندار تقریب کے اہتمام پر مبارک کا میسج بھیجا تو اگلے چند سیکنڈ میں چیئرمین صاحب کا شکریہ کا جواب آگیا ۔مجھے چیئرمین صاحب کی اس محبت پر دلی خوشی ہوئی اور مجھے لگا کہ اس چھوٹی سی بات سے چاہے ادھوری سہی، لیکن اُن سے ملاقات ہو گئی ہے۔  ٭

مزید : کالم