کنفیڈریشن کی تجویزکا تاریخی جائزہ (آخری قسط)

کنفیڈریشن کی تجویزکا تاریخی جائزہ (آخری قسط)

خان عبدالغفار خاں کا سیاسی سفر:۔

1۔ تفصیل میں جانے سے پہلے قارئین کو یہ بتانا ضروری ہے کہ1928ءمیں کانگریس پارٹی کا اجلاس کلکتہ میں ہوا تھا۔اِس اجلاس میں موتی لال نہرو نے اپنی مشہور نہرو رپورٹ پیش کی جو پاس ہوئی۔یہ مسلم کش ہندو ذہنیت کی آئینہ دار تھی۔اِس رپورٹ کے بعد ہی مسلمانانِ ہند بیدار ہوئے کہ اگر انگریزوں نے کانگریس پارٹی کو حکومت منتقل کی تو پھر ہندوستان میں مسلمانوں کا کیا حشر ہوگا۔اِس کانگریس پارٹی کے اجلاس میں خان عبدالغفار خاں اپنے ذاتی اعتقاد کے باعث شامل ہوئے۔ تاریخ میں کوئی ریکارڈ نہیں کہ اُنہوں نے نہرو رپورٹ کی کبھی مخالفت کی ہو۔ اِسی نہرو رپورٹ کے جواب میں1929ءمیں قائداعظم نے اپنے مشہور زمانہ14نکات پیش کئے جو مسلمانانِ ہند کے لئے رہنما اُصول بن گئے او رپاکستان کی بنیاد بنے۔

2۔ ستمبر1929ءمیں ایک شخص سید قاسم شاہ نے صوبہ سرحد میں ایک سیاسی تنظیم افغان جرگہ کے نام سے قائم کی جو دیہات سدھار قسم کی غیر سرکاری تنظیم تھی۔خان عبدالغفار خاں بھی اِس میں شامل ہوگئے۔اِس تنظیم نے رضا کار بھی بنائے، جن کو خدائی خدمت گار کا نام دیاگیا۔اُن کا لباس سرخ تھا لہٰذا سرخ پوش کہلانے لگے۔

3۔جب کانگریس پارٹی نے1927ءمیں اپنا سالانہ اجلاس لاہور میں منعقد کیا تو خان عبدالغفار خاں بغیر کسی دعوت کے اجلاس میں شامل ہوئے اور کانگریس کے پروگرام سے بڑے متاثر ہوئے۔

1930ءمیں مسٹر گاندھی نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کی تو اُنہوں نے بھی صوبہ سرحد میں اِس میں زورشور سے حصہ لیا۔پشاور میں انگریزی حکام نے نہتے شہریوں پر فائرنگ کی اور بہت سارے لوگ موت سے ہمکنار ہوئے۔متعدد رہنماﺅں مثلاً سید عطا اﷲ شاہ بخاری، مفتی کفایت اﷲ، ڈاکٹر انصاری کے ساتھ خان عبدالغفار خاں بھی گرفتار ہوئے اور اُنہیں موجودہ گجرات کی جیل میں قید کردیا گیا۔خان عبدالغفار خاں نے جیل میں ایک شخص سنت رام سے گیتا اور گرنتھ کا سبق لینا شروع کردیا۔کچھ نیشنلسٹ مسلمانوں کے قرب اور باتوں نے بھی اثر کیا، یہاں تک کہ ہندوﺅں کے احترام میں خان عبدالغفار خاں نے گوشت کھانا چھوڑ دیا۔اِس کے علاوہ گاندھی کی پیروی میں ہفتے میں ایک دن مرن برت بھی شروع کردیا ۔ غفار خاں کو گاندھی کا اُسوہ اتنا پسند آیا کہ ہندوﺅں نے اُن کو ازراہِ عقیدت سرحدی گاندھی کہنا شروع کردیا اور مسلمانوں نے طنزاً۔ بعدازاں خان عبدالغفار خاں نے ہندوﺅں میں اپنی خواتین کی شادی کرکے ہندوﺅں سے بھی رشتہ داری قائم کرلی۔

4۔ مسٹر گاندھی جب1931ءکو رہا ہوئے تو اُس نے وائسرائے سے اِس یقین دہانی پر رہائی کروائی کہ غفار خاں کی تحریک کوئی جدا تحریک نہیں، بلکہ کانگریس پارٹی کی تحریک کا ہی حصہ ہے۔

5۔1921ءمیں خان عبدالغفار خاں نے انجمن اصلاح الافاعنہ کے نام سے تحریک بھی شروع کی ۔1929ءمیں جب سید قاسم شاہ نے افغان جرگہ کے نام سے تنظیم بنائی تو یہ اُس میں شامل ہوگئے۔اِس حوالے سے اُوپر لکھا جاچکا ہے۔1929ءمیں خان عبدالغفار خاں اور اُن کے ساتھیوں نے افغان یوتھ لیگ بنائی جس میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو شامل کیا گیا۔

6۔ خان عبدالغفار خاں کا انگریزوں کی مخالفت کا ڈھونگ:

 سرخ پوش تنظیم اپنے آپ کو انگریزوں کے مخالف کے طور پر پیش کرنے پر بڑا فخر کرتی ہے۔ذرا ملاحظہ فرمائیں۔1941ءمیں جب جاپان نے برما پر حملہ کیا تو غفار خاں نے انگریزوں کی حمایت کا منصوبہ بنایا۔خان صاحب نے گورنر سرحد جارج کننگھم سے رابطہ کیا اور اِس سے قبائل میں وفود بھیجنے کی اجازت مانگی تاکہ قبائلیوں کو جاپان کے خلاف لڑنے پر تیار کریں۔گورنر سرحد نے اجازت دے دی۔ اِس طرح اُنہوں نے انگریزوں کی جنگ میں حمایت کی ۔

7۔ جب صوبہ سرحد میں1947ءمیں ریفرنڈم کرانے کا اعلان ہوا تو ناکامی سے بچنے کے لئے اُنہوں نے گورنر سرحد اولف کیرو پر جانبداری کا الزام لگا کر اُس کو تبدیل کرایا مگر مسلمانانِ سرحد نے سرخ پوشوں کو عبرت ناک شکست سے دوچار کیا۔اِس کے باوجود خان عبدالغفار خاں،اُن کے بیٹے اور پوتے انگلینڈ جاتے تو یہ تمام لوگ اولف کیرو کے گھر رہتے۔

8۔ کانگریس سے روحانی اور مادی تعلقات: اکتوبر1931ءکو دہلی میں کانگریس کی ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں مسٹر نہرو خان عبدالغفار خاں کو ایک طرف لے گئے اور کہا کہ اب تک ہم صوبہ سرحد کی کانگریس کمیٹی کو ماہانہ500روپے بھیجتے رہے ہیں۔آئندہ سے ہم ایک ہزار روپیہ بھیجا کریں گے۔اِس ماہانہ قسط کے علاوہ بھی کانگریس اُن کو عرصہ دراز تک ہزاروں روپے دیتی رہی۔خاں عبدالغفار خاں نے خواہش ظاہر کی کہ وہ پشاور میں گاندھی کی تقلید میں سردریاب آشرم بنانا چاہتے ہیں تو کانگریس نے ابتدائی طور پر خان عبدالغفار خاں کو25ہزار روپے بھیجے اور اِس گاندھی آشرم کو بنانے میں سینکڑوں سرخ پوشوں نے حصہ لیا۔سرخ پوشوں کی وردی پہلے سفید رنگ کی تھی، بعد میں وردی کا رنگ سرخ کردیا گیا کہ سفید وردی جلدی گندی ہوجاتی ہے۔

9۔ پختونستان کا شوشہ: خان عبدالغفار خاں نے کانگریس پارٹی کے ایما پر یہ منصوبہ بنایا تھا کہ صوبہ سرحد پاکستان میں شامل نہیں ہونے دینا۔ صوبہ سرحد اُوپر پاکستان کے شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان سے ملتا ہے جو اُس وقت، یعنی آزادی سے پہلے کشمیر کا حصہ تھے۔انگریزوں نے پنجاب باﺅنڈری کمیشن ایوارڈ میں مسلم اکثریتی ضلع گورداسپور ہندوستان کو دے کر اُسے کشمیر تک جانے کا راستہ دے کر کشمیر ہندوستان کو دے دیا۔ صوبہ سرحد ،بلوچستان کے پختون حصے کو اور کشمیر کو ملا کر پاکستان کو شمال مغرب سے گھیرنے کا پروگرام بنالیا گیا تھا۔ افغانستان نے بھی اقوام متحدہ میں1947ءمیں پاکستان کی اقوام متحدہ کی ممبر شپ کی مخالفت کی تھی، تاہم اﷲ تعالیٰ نے سرخ پوشوںاور غفار خاں کے منصوبے کو 1947ءمیں کامیاب نہیں ہونے دیا، مگر اب سرخ پوشوں کی وارث عوامی نیشنل پارٹی وہی تاریخ دہرانا چاہتی ہے، جس تاریخ کو بنانے میں اُن کے روحانی باپ خان عبدالغفار خاں اور مسٹر گاندھی ناکام ہوگئے تھے۔14اگست1947ءکو پاکستان مشیت ایزدی سے 27رمضان المبارک کو قائم ہوگیااور قائداعظم اور اُن کے مخلص مسلم لیگی ساتھی کامیاب وکامران ہوئے۔انشاءاﷲ غلام احمد بلور،امن کی آشا کے ٹھگوں اور واہگہ کی لکیر مٹانے والوں کے منہ میں خاک پڑے گی اور اُن کی آوازیں مزید خراب ہوں گی۔ ٭

مزید : کالم