”صدقہ فطر “

”صدقہ فطر “

صدقہ کیاہے ؟

صدقہ کی اصطلاح اسلامی تعلیمات میں بڑے ہمہ گیر معنی کی حامل ہے ۔ صدقہ اس عطیہ کو کہتے ہیں جو سچے دل اور خاص نیت کے ساتھ صرف اور صرف اللہ کو راضی کرنے کے لیے دیا جائے ۔ صدقہ اس لیے نہیں دیا جاتاکہ ریاکاری کی جائے یا کسی پراحسان جتایا جائے ، صدقہ دینے والا اللہ کے لیے خرچ کرے اور مقصد صرف یہ ہو کہ رب کی بندگی ، عبادت کا سچا جذبہ رکھتاہے ۔ صدقہ کی بنیاد صدق ہے اس لیے سچائی تو اس عبادت کی روح ہے ۔ کوئی عطیہ اور کوئی مال اس وقت تک صدقہ نہیں ہو سکتا جس کی تہہ میں انفاق فی سبیل اللہ کا خالص اور ملاوٹ سے پاک جذبہ نہ ہو ۔

اللہ کی رضا بڑا انعام :۔

سب انعامات جو اللہ تعالیٰ نے بنی¿ آدم ؑ پر کیے ہیں ان میں سے بڑا انعام اور بڑی نعمت اللہ کی رضا کا حصول ہے ۔ جنت کا حاصل کرلینا بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے لیکن رضائے الٰہی کا حصول اس سے بھی بڑی نعمت ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن کریم میں فرمان ہے ” اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوںسے جنت کا وعدہ کیا ہے جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور جنات عدن میں عمدہ مکانات کاوعدہ کیا ہے اور اللہ کی خوشنودی سب سے بڑھ کر ہوگی ۔ یہ ہی عظیم کامیابی ہو گی ۔ (سورہ توبہ آیت ۷۲) ہدایت صرف وہی شخص حاصل کرسکتاہے جو اس کی خواہش اور جستجو رکھتا ہو ، ہدایت حاصل کرنے کے لیے اللہ کی طرف رجوع کرے ۔ ارشاد ربانی ہے ” اللہ جسے چاہتاہے اپنی قربت کے لیے چن لیتااور جو اس کی طرف رجوع کرتاہے اسے اپنی راہ دکھاتاہے جو ہدایت چاہتاہے ، اپنی غلطیوں ، کوتاہیوں ، لغزشوں کا احسا س کرتاہے ، اللہ سے توبہ کرتاہے اور اس کے طلب سچی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنے راستوں کو آسان کر دیتاہے اور تمام اسباب مہیا کردیتاہے اور قبول اسلام اور اتباع اسلام کے لےے شرح صدر عطا فرماتاہے ۔

صدقہ فطر کے مسائل :۔

صدقہ فطر فرض ہے۔ صدقہ فطر کا مقصد روزے کی حالت میں سرزد ہونے والے گناہوں سے خود کو پاک کرنا ہے صدقہ فطر کی ادائیگی کے لیے فقہا کا اجماع ہے کہ نماز عید الفطر سے پہلے ادا کرنا چاہیے ورنہ عام صدقہ شمار ہو گا ۔ صدقہ فطر کے وہی لوگ مستحق ہیں جو زکوة کے مستحق ہیں ۔ حدیث مبارک ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے صدقہ فطر روزے دار کو بے ہودگی اور فحش باتوں سے پاک کرنے کے لیے نیز محتاجوں کے کھانے کا انتظام کرنے کے لیے فرض کیا ہے جس نے نماز عید سے پہلے ادا کیا اس کا صدقہ فطر ہو گیا اور جس نے نماز عید کے بعد کیا اس کا صدقہ عام صدقہ شمار ہوگا(مسند احمد ، ابن ماجہ ) صدقہ فطر مسلمان غلام ہویا آزاد ، مرد ہو یاعورت ، چھوٹاہو یابڑا ، روزہ دار ہو یا غیر روزہ دار ، صاحب نصاب ہو یا نہ ہو سب پر فرض ہے ۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو ، غلام آزاد مرد ، عورت چھوٹے بڑے ہر مسلمان پر فرض کیا ہے اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے (ایک صاع پونے تین سیر یا اڑھائی کلو گرام کے برابر ہے ) یہ بھی وضاحت پائی جاتی ہے کہ جس شخص کے پاس ایک دن رات کی خوراک میسر نہ ہو وہ صدقہ ادا کرنے سے مستثنیٰ ہے ۔حضرت ابو سعید ؓ فرماتے ہیں کہ ہم صدقہ فطر ایک صاع غلہ ، ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع پنیر یا ایک صاع منقہ دیا کرتے تھے۔ اسے بخاری اور مسلم میں روایت کیا گیاہے ۔ صدقہ فطر کا وقت آخری روزہ افطار کرنے کے بعد شروع ہوتاہے لیکن محدثین ، علما اور مدرس حضرات نے یہ رائے بھی دی ہے کہ عید سے ایک یا دو دن پہلے اداکیا جاسکتاہے ۔ صدقہ فطر گھر کے سرپرست کو گھر کے تمام افراد بیوی بچوں اور ملازموں کی طرف سے ادا کرنا چاہیے ۔حضرت نافع ؓ سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ گھر کے چھوٹے بڑے تمام افراد کی طرف سے صدقہ فطر دیتے تھے حتیٰ کہ میرے بیٹوں کی طرف سے بھی دیتے تھے اور ابن عمر ؓ ان لوگوں کو دیتے تھے جو قبول کرتے اور عید الفطر سے ایک دو دن پہلے دیتے تھے اسے بخاری نے روایت کیاہے ۔

صدقہ فطر کا صحیح مصرف :۔

صدقہ فطر کا تعلق خاص طور پر عید سے ہے اس کا مقصد عید کے موقع پر معاشرے کے نادار لوگوں کی مدد کرنا ہے مثلاً آپ کسی کو سلائی مشین دیناچاہیں تو اس کے لیے صدقات اور اعانت کی دوسری صورتیں موجود ہیں لیکن اگر آپ یہ کام صدقہ فطر سے لیناچاہتے ہیں تو اندازہ کرلیں کہ کتنے لوگوں کے حصہ کا فطرانہ جمع کر کے ایک مشین خرید سکیں گے اس طرح فطرانے کی بڑی رقم ایک جگہ جمع کر کے صرف ہونے سے بہت سارے مستحق لوگوں کی حق تلفی ہوسکتی ہے ۔ صدقہ فطر تو اس لیے ہے کہ غریب لوگ بھی عید مناسکیں اور عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں ( تفہیم ا لقرآن جلد دومفصل چہارم)

صدقہ فطر کی مقدار :۔

فطرے کی مقدار میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ عرب میں جو اوزان اور پیمانے اس وقت رائج تھے ان کو موجودہ زمانے کے اوزان اور پیمانے کے مطابق بنانے میں مشکلات پیش آتی ہیں ۔مختلف اہل علم نے اپنی تحقیق سے جو کچھ اوزان بیان کیے ہیں عام لوگ ان میں سے جس کے مطابق بھی فطرہ دیں گے سبکدوش ہو جائیں گے ۔ اس معاملہ میں زیادہ شدت یا تشویش کی ضرورت نہیں ہے ۔ فطرہ ہر اس شخص کو دیناچاہیے جو عید کے روز اپنی اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد فطرہ نکالنے کی استطاعت رکھتا ہواسے اپنی اولاد اور زیر کفالت افراد کا بھی فطرہ نکالنا چاہیے (رسائل و مسائل جلد چہارم )

ماہ صیام 1433ھ کے لیے مفتی حضرات ، علمائے کرام نے تجویز کیاہے کہ فطرہ کی رقم 85 روپے سے 100 روپے تک ہے ۔ بہر حال صدقہ فطر بروقت مستحق افراد تک پہنچا دیاجائے تاکہ ان تک بھی عید کی خوشیاں کچھ نہ کچھ پہنچ سکیں۔  ٭

مزید : کالم