جنوبی پنجاب کی ترقی، اعتراض کیوں؟

جنوبی پنجاب کی ترقی، اعتراض کیوں؟

وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ساڑھے چار سال بعد ملتان میں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا تو ایک بار پھر یہ بحث شروع ہو گئی کہ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے دور میں وفاقی حکومت نے یہاں زیادہ ترقیاتی کام کرائے ہیں، یا اب صوبائی کرانے جا رہی ہے۔ یہ بہت عجیب بات ہے کہ ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں جب بھی کسی بڑے منصوبے کا آغاز ہوتا ہے تو وہ ایک بڑی خبر بن جاتا ہے نہ صرف اس علاقے میں بلکہ پورے ملک میں جیسے وزیر اعظم پیکج کا تذکرہ ہوتا رہا کہ سارے فنڈز ملتان پر خرچ کر دئیے گئے ہیں، حالانکہ غور کیا جائے تو یہ سارے منصوبے اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ثابت ہوتے ہیں۔

جنوبی پنجاب کے عوام ہر حکمران سے چاہے وہ وفاقی ہو یا صوبائی امیدیں باندھ لیتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وہ حصہ ہے جو ہمیشہ نظر انداز ہوتا آیا ہے اور ”تخت لہور“ سے اڑنے والے خوشحالی اور ترقی کے پرندے یہاں تک آتے آتے ہمیشہ ہانپنے لگتے ہیں، پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اس کے وسائل بھی بہت ہیں اور مسائل بھی کم نہیں لیکن جنوبی پنجاب کے رہنے والوں میں ایک عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ اپر پنجاب کے مقابلے میں زیریں پنجاب کے حصے میں مسائل تو ہمیشہ زیادہ آتے ہیں مگر وسائل نہ ہونے کے برابر فراہم کئے جاتے ہیں۔ جنوبی پنجاب تین ڈویژنوں، ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان پر مشتمل ہے جبکہ قبائلی علاقے علیحدہ ہیں۔ باقی پانچ ڈویژن یعنی لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور سرگودھا بالائی پنجاب میں آتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے دانشور اور سیاسی رہنما ان دونوں حصوں کا موازنہ کرتے ہوئے بعض دلچسپ اتفاقات کا ذکر کرتے ہیں ان کے نزدیک جنوبی پنجاب کے تین ڈویژن ترقی کے لحاظ سے باقی پانچ ڈویژنوں سے بہت پیچھے ہیں، تاہم اس سے بھی زیادہ دلچسپ نکتہ وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جو ڈویژن لاہور سے جتنا قریب ہے اس میں اتنی ہی زیادہ ترقی ہوئی ہے، اس سلسلے میں وہ فیصل آباد اور گوجرانوالہ کی مثال دیتے ہیں جہاں صنعتوں کا جال بچھ چکا ہے اور فی کس آمدنی جنوبی پنجاب سے کہیں زیادہ ہے راولپنڈی ڈویژن اگرچہ لاہور سے دور ہے لیکن وفاقی دارالحکومت کا ہمسایہ علاقہ ہونے کی وجہ سے وہاں بھی بے پناہ ترقیاتی کام ہوئے ہیں اور معیار زندگی بہت بلند ہے سرگودھا ڈویژن تخت لہور سے اتنے ہی فاصلے پر موجود ہے جتنا کہ راولپنڈی ہے لیکن وہاں اتنی ترقی نہیں ہو سکی جنوبی پنجاب میں ملتان ڈویژن کی صورتحال نسبتاً بہتر ہے مگر جوں جوں تخت لاہور کا فاصلہ بڑھتا جاتا ہے ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور ڈویژن میں پسماندگی بڑھتی جاتی ہے۔

اس دور میں بھی کہ جب ہم اکیسویں صدی کے دہانے پر کھڑے ہیں جنوبی پنجاب میں ایسے علاقے موجود ہیں کہ جہاں انسان اور جانور ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں جنوبی پنجاب ہی میں وہ پاکستانی بھی بستے ہیں، جنہیں پینے کا پانی حاصل کرنے کے لئے میلوں پیدل سفر کرنا پڑتا ہے یہ صحیح ہے کہ بڑے شہروں اور چھوٹی بستیوں کا معیار زندگی ایک جیسا نہیں ہو سکتا لیکن یہ بھی کوئی خوش آئند بات نہیں ہے کہ اس تفریق کو اس طرح برقرار رکھا جائے کہ ایک طرف تو زندگی کی ساری آسائشیں میسر ہوں اور دوسری طرف ملک کے کروڑوں عوام کو بنیادی سہولتوں سے بھی محروم رکھا جائے پچھلے پندرہ بیس سال کے عرصے میں جنوبی پنجاب کے رہنے والوں میں یہ خیال پختہ ہوا ہے کہ پنجاب کے وسائل کا زیادہ تر حصہ لاہور اور اس کے گردونواح پر خرچ ہوتا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ جنوبی پنجاب تعلیمی، ثقافتی، اقتصادی اور شہری سہولتوں کے حوالے سے بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

جنوبی پنجاب کے دور دراز علاقوں کا ذکر تو خیر ایک طرف رہا، خود ملتان جیسے بڑے شہر میں عوام کو صحت و صفائی، ذرائع آمدورفت اور تعلیمی شعبے میں بے شمار دشواریوں کا سامنا ہے شہر میں سیوریج کا نظام تہس نہس ہو چکا ہے، گٹر ہر گلی محلے میں ابلتے رہتے ہیں، شہر میں صرف ایک جنرل سرکاری ہسپتال ہونے کی وجہ سے وہ ہسپتال کارکردگی کے لحاظ سے اپنی افادیت کھو چکا ہے واسا اور ایم ڈی اے جیسے ادارے سفید ہاتھی بن چکے ہیں سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے غرض صدیوں پرانا تہذیبی و روحانی شہر کھنڈر بن کر رہ گیا ہے اس وقت ایک عام تاثر یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان ملتان کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اتفاق رائے نہیں، اس لئے ترقیاتی کام سست روی بلکہ منصوبہ بندی کے فقدان کا شکار ہیں اور شہریوں کے لئے باعث اذیت بن چکے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک پروپیگنڈہ ہمیشہ زور شور سے کیا جاتا ہے کہ شہروں کی طرف آبادی کا رحجان روکنے کے لئے دیہات میں بنیادی سہولتیں پہنچائی جائیں گی لیکن حقیقت اس کے برعکس یہ ہے کہ پنجاب کے کئی چھوٹے شہر شہری سہولتوں سے محروم ہیں چھوٹے دیہات کا تو ذکر ہی کیا جنوبی پنجاب میں جو احساس محرومی جڑ پکڑ چکا ہے، اس کی وجوہات بہت گہری اور دیرینہ ہیں غربت اور ناخواندگی کی نچلی ترین شرح جنوبی پنجاب کے بیشتر علاقوں میں موجود ہے اس پر مستزاد وڈیرا شاہی اور سرداری نظام کی موجودگی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کے اندر گھٹن اور خوف کے عوامل جڑ پکڑ چکے ہیں نوکر شاہی کا ظلم اور رعب و دبدبہ بھی ان علاقوں میں اپنے عروج پر نظر آتا ہے اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ تخت لہور ان علاقوں سے سینکڑوں میل کے فاصلے پر واقع ہے اور وہاں تک کسی مظلوم کے لئے اپنی آواز پہنچانا ممکن نہیں ہوتا اختیارات کی اس مرکزیت ہی کا کرشمہ ہے کہ ڈیرہ غازی خان کے داجل اور مٹھن کوٹ جیسے دور افتادہ علاقے کے مکینوں کو اپنے مسائل حل کرانے کے لئے سینکڑوں میل کا تکلیف دہ سفر کر کے لاہور سیکرٹریٹ جانا پڑتا ہے اور اگر بدقسمتی سے (جو کہ اکثر ایسے سائلین کے حصے میں آتی ہے) صاحب بہادر کسی میٹنگ میں ہوں، یا دورے پر گئے ہوئے ہوں تو یہ ساری صعوبت اکارت جاتی ہے۔

جنوبی پنجاب میں پنپنے والا احساس محرومی صرف غریبوں یا ناخواندہ افراد تک ہی محدود نہیں بلکہ یہاں کی پڑھی لکھی مڈل کلاس بھی خود کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتی ہے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے لئے بھی ملازمت کے اچھے مواقع مفقود ہیں، ادیب، شاعر اور فنکار اپنے تشخص سے محروم ہیں الیکٹرانک میڈیا پر اس پوری بیلٹ کے فنکاروں، ہنر مندوں، دانشوروں، ادیبوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے قومی سطح کے سیمیناروں، مشاعروں، کانفرنسوں اور دیگر تقریبات میں ہمیشہ اس خطے سے تعلق رکھنے والے اہل افراد کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ یوں اگر غور کیا جائے تو ایک ہی صوبے کے دو حصوں میں بعد المشرقین نظر آتا ہے، جو قومی یکجہتی کے لحاظ سے کسی بھی طرح ایک خوش آئند بات نہیں ہے لیکن افسوس کہ اس امتیاز کو ختم کرنے کی کبھی کسی نے کوشش نہیں کی ، حتی کہ ان لوگوں نے بھی کہ جو اسی خطے سے تعلق رکھتے تھے اور تخت لہور یا تخت اسلام آباد پر براجمان ہوئے۔ جنوبی پنجاب کے عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور انہوں نے اس تبدیلی کے لئے اپنی سی کوشش بھی کی ، اب یہ ذمہ داری وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف کی ہے کہ وہ تخت لہور کا فیض پورے پنجاب میں یکساں طور پر بانٹیں اور جنوبی پنجاب کے پسماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ دیں۔ یہ بڑی حیران کن بات ہے کہ صوبوں کے درمیان تو قومی مالیاتی ایوارڈ کی تقسیم کا وفاقی نظام موجود ہے لیکن صوبوں کے اندر انہیں کسی فارمولے کے تحت تقسیم نہیں کیا جاتا بلکہ بادشاہی نظام کی طرح صوابدیدی اختیارات کے تحت مالیاتی و سائل بانٹ دئیے جاتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ لاہور پنجاب کا دل ہے وہ پنجاب میں رہنے والے ہر فرد کی جان ہے اسی طرح بالائی پنجاب کی ترقی بھی پنجاب ہی کی ترقی ہے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہو سکتا البتہ یہ بات ضرور قابل اعتراض ہے کہ اسی پنجاب کے ایک حصے سے بے اعتنائی برتی جائے اور اسے زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا جائے یہ رویہ تخت لہور کو مضبوط بناتا ہے اور نہ پنجاب کی یکجہتی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے جنوبی پنجاب میں ترقی ہوتی ہے تو اس کا فائدہ پورے ملک کو پہنچے گا کیونکہ یہ علاقہ پاکستان کا حب ہے، اس لئے کسی کو بھی اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری طرف اگر اسے حقوق سے محروم رکھا جاتا رہا تو یہاں بھی وہ رویے پروان چڑھیں گے، جو اندرون سندھ یا بلوچستان میں قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔  ٭

مزید : کالم