بشار الاسد کے لئے نوشتہ دیوار

بشار الاسد کے لئے نوشتہ دیوار

شام میں حکومت کے خلاف بغاوت اب خانہ جنگی کا روپ دھار چکی ہے جنگ میں شدت آ گئی ہے۔ حکومت کے مخالفین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایئر فورس کا جیٹ طیارہ مار گرایا ہے اور پائلٹ کو بھی گرفتار کر لیا، اپوزیشن اسے اپنی بڑی کامیابی سمجھ رہی ہے، اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق شام میں لڑائی کی وجہ سے دس لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور ایک لاکھ چالیس ہزار لوگ ہمسایہ ملکوں میں پناہ لے چکے ہیں، جہاں وہ خیموں میں رہ رہے ہیں اور عمومی طور پر ان کے حالات ناگفتہ بہ ہیں، گزشتہ برس مارچ سے لے کر اب تک 21 ہزار افراد موت کے گھاٹ اُتارے جا چکے ہیں۔ گزشتہ ماہ اپوزیشن نے شامی فوج اور انٹیلی جنس کے تین اعلیٰ افسروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے کئی افسر حکومت کا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن سے جا ملے ہیں۔

یہ بھیانک تصویر ہے شام کی، جس کے صدر بشار الاسد ان برے حالات میں بھی اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں، اور بظاہر انہیں اہل وطن کی زندگیوں کی کوئی پرواہ نہیں۔ انہوں نے اپنے والد حافظ الاسد کی جگہ اقتدار سنبھالا تھا اور ظلم و جبر کا وہ نظام قائم رکھا تھا جس کی ابتدا ان کے والد نے کی تھی عرب ملکوں کی ”بہار“ نے کئی عرب ملکوں سے آمریت کا خاتمہ کر دیا ہے تیس تیس چالیس چالیس سال سے قائم ان کی حکومتیں ختم ہو گئی ہیں، کئی آمروں کی زندگی کے چراغ بھی گل ہو گئے ہیں لیکن بشار الاسد ظلم و جبر کے حربوں سے اپنی حکومت قائم رکھے ہوئے ہیں۔ طیاروں کے ذریعے بمباریاں بھی کی جا رہی ہیں۔ اس لئے بعض ممالک لیبیا کی طرح یہاں بھی نو فلائی زون قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں جس میں انہیں ابھی تک کامیابی نہیں ہوئی، شام میں جو حالات پیدا ہو چکے ہیں وہ غیر معینہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکتے۔ نہ دنیا اس طرح کی صورت حال کو زیادہ دیر تک برداشت کر سکتی ہے صدر بشار الاسد کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ اس ملک کی بہتری کے لئے جس پر ان کا خاندان چالیس سال سے حکومت کر رہا ہے نئے عام انتخابات کا اعلان کریں۔ صدارتی امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو اور جو جیت جائے اقتدار، اس کے سپرد کر کے الگ ہو جائیں۔ اگر وہ اقتدار سے چمٹے رہے اور مخالفین ان کے خلاف اسی طرح تحریک چلاتے رہے تو خون خرابہ بڑھتا رہے گا، بشار الاسد کے لئے نوشتہ ¿ دیوار یہی ہے کہ اقتدار کے جو مزے انہوں نے لوٹنے تھے وہ لوٹ لئے، اب شام کا اقتدار، ان کے لئے پھولوں کی سیج نہیں رہ گیا، وہ اگر اس مرحلے پر بھی اقتدار سے الگ نہ ہوئے تو عین ممکن ہے انہیں نسبتاً برے حالات کا سامنا کرنا پڑے، دانشمندی اسی میں ہے کہ وہ فوری طور پر کوئی فیصلہ کر لیں بصورت دیگر ایک بھیانک مستقل ان کی راہ تک رہا ہے۔ 

مزید : اداریہ