کامرہ ائر بیس پر حملہ

کامرہ ائر بیس پر حملہ

جمعرات کو صبح دو بجے کے قریب جدید اسلحے سے لیس دہشت گردوں نے کامرہ میں پاک فضائیہ کے اڈے پر حملہ کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے سیکیورٹی فورسز کے یونیفارم پہن رکھے تھے، چیک پوسٹ پر موجود اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو حملہ آوروں نے فائر کھول دیا ۔ اب تک موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق چند حملہ آور ائر بیس کے اندر داخل ہونے میں بھی کامیاب ہو گئے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق دہشت گردوں کا ٹارگٹ بیس میں موجود 30 سے زائد پاک فضائیہ کے طیارے تھے۔ اِس موقع پر سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور بالآخر پانچ گھنٹے بعد صورت حال پر قابو پا لیا گیا۔ پاک فضائیہ کے ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے آٹھ دہشت گردوں کو مار دیا جبکہ ایک سیکیورٹی اہلکار اِس آپریشن میں شہید ہو گیا۔ آٹھ میں سے سات حملہ آوروں نے خود کش جیکٹس پہن رکھی تھیں۔ یاد رہے کامرہ بیس میں پاکستان ایروناٹیکل کمپلیکس بھی قائم ہے جہاں چین کے تعاون سے جے ایف 17 تھنڈر اور میراج طیاروں کی اسمبلنگ کی جاتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں ایک طیارے کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ جے ایف17تھنڈر پراجیکٹ کے چینی انجینئرز اِس واقعے میں محفوظ رہے۔ بظاہر تحریک طالبان پاکستان نے اِس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے نامعلوم مقام سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے اِس آپریشن پر فخر کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ بہت عرصہ پہلے اُن کے رہنماﺅں نے کامرہ بیس پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ دہشت گردوں نے پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اِس سے قبل دو بار کامرہ ائر بیس پر حملہ کیا جا چکا ہے۔ 2009ءمیں ایک خود کش بمبار نے کامرہ میں پاکستان ایئروناٹیکل کمپلیکس کے سامنے خود کو اُڑا لیا تھا۔ 2009ءمیں ہی راولپنڈی میں جی ایچ کیو پر بھی دہشت گرد حملہ آور ہوئے۔ گزشتہ برس مئی میں جدید اسلحہ سے لیس دہشت گردوں نے کراچی میں پاک بحریہ کے بیس پی این ایس مہران پر حملہ کر دیا تھا۔ اِس موقع پر سیکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جنگ 16گھنٹے تک جاری رہی تھی ،18 سیکیورٹی اہلکار اِس آپریشن میں شہید ہوئے۔ اِس حملے میں دہشت گرد مہران بیس پر موجود دو پی تھری اورین طیارے تباہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کامرہ ائر بیس پر بھی حملہ آوروں کا ہدف یہاں موجود طیارے تھے۔

قابل غور بات ہے کہ ملک بھر میںموجود سیکیورٹی فورسز کے اڈے اس نقطہ نظر سے بنائے گئے ہیں کہ ان کو بنیادی خطرہ بیرونی حملوں سے ہو سکتا ہے۔ ان کے حفاظتی انتظامات بھی اِس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ترتیب دیئے جاتے تھے، کیونکہ اِن اڈوں کی تعمیر کے وقت یہ تصور نہیں کیا جا سکتا تھا کہ اِن کی حفاظت اپنے ہی لوگوں کے خلاف بھی کرنی پڑ سکتی ہے اِس لئے یہ آبادیوں سے دور نہیں بنائے گئے۔ جی ایچ کیو، پی این ایس مہران اور کامرہ ایئر بیس تینوں ہی شہری آبادی کے درمیان واقع ہیں۔ اِس کے باعث دہشت گردوں کا کام قدرے آسان ہو جاتا ہے اور سیکیورٹی اہلکاروں کا مشکل۔ تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کامرہ ائر بیس پر حملہ بالکل غیر متوقع تھا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے دہشت گرد سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور اخباری اطلاعات کے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے حکام کو 27 رمضان کے قریب حساس مقامات پر ممکنہ حملوں سے متعلق خبردار کررکھا ہے سوچنے کی بات ہے کہ آخر یہ کون لوگ ہیں، جن کو جدید ترین اسلحہ اور بہترین ٹریننگ میسر ہے۔ اِس قدر تربیت یافتہ مسلح لوگوں کا سیکیورٹی فورسز کے اڈوں پر حملے کرنا اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست پاکستان کے نظام کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والوں کو بیرونی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ بھرپور وسائل کے بغیر انتہائی حساس سیکیورٹی مقامات پر مسلسل اتنے منظم انداز میں حملے کرنا ممکن نہیں۔ انٹیلی جنس اداروں کی ذمہ داری ہے کہ حملہ آوروں کو وار کرنے کا موقع ہی نہ دیا جائے۔ اس حد تک اس حملے کو انٹیلی جنس کی ناکامی کہا جاسکتا ہے لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ موقع پر موجود فوجی جوانوں نے اپنی ڈیوٹی پوری تندہی اور بہادری کے ساتھ ادا کی۔ حملہ آور کامرہ ایئربیس میں داخل تو ہو گئے لیکن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ کامرہ بیس پر حملہ ناکام بنا دیا گیا کہ ائر بیس پر موجود تمام طیارے اور اہلکار محفوظ رہے، گو اپنی ڈیوٹی ادا کرتے ہوئے ایک سیکیورٹی اہلکارنے جام شہادت نوش کیا۔

ہم انہی کالموں میں اِس بات کا بار بار تذکرہ کر چکے ہیں اور ایک بار پھر کہنا چاہتے ہیں کہ آج ہمیں جن حالات کا سامنا ہے اُن سے نکلنے کے لئے قومی سلامتی کے معاملات پر وسیع تر اتفاق کی ضرورت ہے۔ ہمارا سامنا ایسے عناصر سے ہے جو ہمارے ملک کے نظام پر یقین نہیں رکھتے اور بندوق کے ذریعے اپنی بات مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کا مقابلہ صرف فوج نہیں کر سکتی، بلکہ تمام اداروں کا تعاون درکار ہے۔ ضروری ہے کہ طاقت کے ذریعے بات منوانے پر یقین رکھنے والوں تک پہنچا جائے اور انہیں ہتھیار ڈال کر زبان سے گفتگو کرنے پر مجبور کیا جائے۔ معاشرے کے تمام حلقے اِس سلسلے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو انصاف فراہم کرے اور اُن کے مسائل حل کرتی ہوئی نظر آئے۔ جب لوگوں کو انصاف ملے گا تو ریاست پر اُن کا اعتماد بحال ہو گا۔ اسی طرح وسائل کا درست استعمال بھی اہم ہے۔ شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے تعلیم عام کرنے کے لئے اقدامات کئے جانے چاہئیں اور کوشش کی جانی چاہئے کہ لوگوں کو روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع حاصل ہوں۔ ساتھ ہی قانون کو اپنا کام بھی کرنا چاہئے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے مو¿ثر قانون سازی کی جانی چاہئے اور قانون شہادت میں بہتری کی جانی چاہئے تاکہ دہشت گرد قانون میں موجود گنجائش کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے عدالتوں سے باعزت بَری نہ ہو سکیں۔ سیاست دانوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ اگر بندوق کے ذریعے بات کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی تو پھر نظام نہیں چل سکے گا اور یہ روش شدید خانہ جنگی کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ کامرہ ایئربیس پر دہشت گرد اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے لیکن یہ جنگ یہاں ختم نہیں ہوئی۔ یہ کئی محاذوں پر لڑی جارہی ہے اور ہر محاذ پر کامیابی ملکی سلامتی کے لئے ناگزیر ہے۔ ضروری ہے کہ تمام سیاست دان اور ادارے انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنے مفادات اور اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے مل کر کام کرنے کا عزم کریں۔ صرف فوجی طاقت کے ذریعے اس جن کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ہر ادارے اور ہر فرد کو اِس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

مزید : اداریہ