پی ایچ ڈی سائنسدان اور تحقیق کا معیار

پی ایچ ڈی سائنسدان اور تحقیق کا معیار

پی ایچ ڈی سائنسدان کسی بھی ملک اور قوم کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ پی ایچ ڈی تعلیم کی اعلیٰ ترین ڈگری ہوتی ہے۔ جن اقوام نے ترقی کی ہے۔ انہوں نے یہ کارنامہ تعلیم یافتہ افراد قوت اور سائنسدانوں کی بدولت ہی انجام دیا ہے۔ پاکستان میں بھی پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حامل افراد کی تعداد میں اضافے کے لئے ماضی میں کافی کوششیں کی گئی تاکہ پی ایچ ڈی افراد کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکے اور اس طرح ملک کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنایا جاسکے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان نے قابل لحاظ خدمات سر انجام دی ہیں۔ بہت سے طالب علموں کو پی ایچ ڈی کرنے کے لئے سکالر شپ دئیے گئے تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔ طالب علموں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے وظائف کے علاوہ دیگر مالی ترغیبات بھی دی گئیں تاکہ ان میں اعلیٰ تعلیم کا رجحان پیدا ہو اور وہ پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کر کے ملک میں تحقیق کے کام کو فروغ دے سکیں اور معیاری تحقیق کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی دریافت کی جائے اور اس طرح ملک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کی صلاحیت حاصل کر سکے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں ملک میں مسلسل پی ایچ ڈی افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی یونیورسٹیوں نے 2000ءمیں صرف 176پی ایچ ڈی افراد پیدا کئے تھے جبکہ 2011ءمیں 863 پی ایچ ڈی پیدا کئے ہیں۔ اس طرح دس گیارہ سال کے عرصے میں پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اگر ہم ان مضامین کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں، جن میں ہم نے 2011ءمیں زیادہ تر پی ایچ ڈی تیار کئے ہیں تو ان میں پہلے نمبر پر فزیکل سائنسز آتی ہیں۔ اس کے بعد بائیولاجیکل اور میڈیکل سائنسز کا نمبر آتا ہے۔ ان دو ڈسپلنز میں پی ایچ ڈی افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سوشل سائنسز میں بھی 2011ءمیں کافی بڑی تعداد میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی گئی ہے۔ بعض مضامین میں پی ایچ ڈی کرنے والوں کی تعداد کافی زیادہ ہے اور ان میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بعض مضامین ایسے ہیں، جن میں پی ایچ ڈی افراد کی تعداد بہت کم ہے اور ان میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ بزنس ایجوکیشن میں 2011ءمیں صرف 17 افراد نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اسی طرح انجینئرنگ کے شعبے میں بھی پی ایچ ڈی کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اس وقت مجموعی طور پر سب سے زیادہ پی ایچ ڈی افراد 25.42 فیصد سوشل سائنسز میں ہیں۔ دوسرے نمبر پر فزیکل سائنسز آتی ہیں جن میں 21.47 فیصد افراد پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔ بائیو لاجیکل اینڈ میڈیکل کے شعبوں میں 19.83 فیصد پی ایچ ڈی ہیں۔ زرعی اور ویٹنری سائنس میں 12.47 فیصد افراد پی ایچ ڈی ہیں جبکہ انجینئرنگ میں 2.70 فیصد افراد پی ایچ ڈی ہیں۔ سب سے کم 1.54 فیصد افراد نے بزنس ایجوکیشن میں پی ایچ ڈی حاصل کی ہے۔ اعداد و شمار سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ بہت سے اہم اور جدید شعبوں میں پی ایچ ڈی افراد کی تعداد بہت کم ہے، جبکہ روایتی مضامین اور شعبوں میں پی ایچ ڈی افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

محسوس یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے پی ایچ ڈی افراد سے یا تو بھرپور استفادہ نہیں کر رہے یا پھر ان افراد کی کارکردگی میں کچھ مسائل درپیش ہیں، جس کی وجہ سے ملکی تحقیق میں ان افراد کی وجہ سے بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جوں جوں پی ایچ ڈی افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا۔ ہماری تحقیق کے معیار میں بہتری آتی۔ ہم نئی ایجادات کرتے اور جدید ٹیکنالوجی وضع کرنے میں کامیاب ہوتے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہو رہا۔ ہم معمولی سے معمولی جدید ٹیکنالوجی کے لئے اب بھی ترقی یافتہ ممالک پر انحصار کرتے ہیں جبکہ بہت سے ایسے ترقی پذیر ممالک بھی ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کی دریافت اور حصول میں ہم سے بہت آگے ہیں۔ پی ایچ ڈی افراد کی کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ اس لئے کیا گیا تھا کہ اس سے ملک میں تحقیق کو فروغ حاصل ہو اور ملک ترقی کرے اگر یہ مقاصد حاصل نہیں کئے جا سکے تو ہمیں جائزہ لینا چاہئے کہ ہمارے پی ایچ ڈی افراد ملک میں تحقیق اور ترقی کے فروغ میں اپنا کردار احسن طریقے سے کیوں ادا نہیں کر رہے۔

 حکومت نے ملک میں پی ایچ ڈی افرادکی تعداد میں اضافہ کے لئے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے 10 ہزار ماہانہ الاو¿نس دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹیوں کے جو پروفیسر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں ان کو بھی مالی مراعات دی گئی ہیں۔ یہ مراعات تو اعلیٰ مقاصد کے لئے دی گئی تھیں، لیکن ہم نے ان مالی مراعات کو بھی اپنی آمدنی میں اضافے کے لئے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ جن مقاصد کے لئے پی ایچ ڈی کرائی جاتی ہے۔ وہ مقاصد پورے نہیں ہو رہے تھے یہ بھی عجیب ستم ظریفی ہے کہ جو سکالر ایک بار پی ایچ ڈی کر لے، اُسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے10 ہزار ماہانہ الاو¿نس ملتا رہتا ہے۔ اس کی کارکردگی کا نہ ہی جائزہ لیا جاتا ہے اور نہ ہی اس بات کا پتہ چلایا جاتا ہے کہ پی ایچ ڈی کرنے والے سائنسدان نے کتنے ریسرچ پیپر تحریر کئے ہیں۔ کتنی تحقیق کی ہے اور اس کی تحقیق کا معیار کیا ہے۔ اگر اُس سکالر نے کوئی تحقیق نہیں کی اور ریسرچ پیپر بھی تحریر نہیں کئے تو پھر اسے 10 فیصد اور ماہانہ الاو¿نس دینے سے ملک و قوم کو کیا فائدہ حاصل ہوگا۔ اگر پی ایچ ڈی افراد کو فارغ بٹھانا ہے اور انہیں مفت میں الاو¿نس دینا ہے تو پھر ایسے پی ایچ ڈی زیادہ تعداد میں تیار کرنے کا آخر کیا مقصد رہ جاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ پانچ سال بعد ان پی ایچ ڈی افراد کی کارکردگی کو مانیٹر کیا جائے۔ اگر سائنسدان نے واقعی کوئی ریسرچ کی ہے۔ یا اس سلسلے میں تحقیقی کام کا آغاز کیا ہے تو اسے 10 ہزار ماہانہ الاو¿نس ملتا رہنا چاہئے اور اگر ایسا نہیں ہوا تو پھر 10 ہزار ماہانہ الاو¿نس کا خاتمہ کرنا چاہئے۔

  پی ایچ ڈی ڈگریاں تقسیم کرنا اور پی ایچ ڈی افراد کی تعداد میں اضافہ کرنا صرف اسی لحاظ سے سود مند ہو سکتا ہے اگر ان افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔ ہمارے ہاں تحقیق کے بہت سے اداروں میں پی ایچ ڈی سائنسدان بیکار بیٹھے ہیں۔ ان کو جو کام دیا گیا ہے۔ وہ ان کی تعلیم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ تحقیق کی سہولیات اور ماحول میسر نہیں ہے یا پھر انتظامی مسائل اس طرح کے ہیں جن میں تحقیقی کام نہیں ہو سکتا۔ یا پھر میرٹ کو نظر انداز کر کے تقرریاں کر دی جاتی ہیں۔ اس طرح کے مسائل اور صورت حال کی وجہ سے پی ایچ ڈی افراد کی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا اور یہ پی ایچ ڈی افراد ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پی ایچ ڈی افراد کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان کی کارکردگی کو بھی مانیٹر کیا جائے۔ ان کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کیا جائے اور انہیں مالی مراعات اور الاو¿نس وغیرہ ان کی کارکردگی سے مشروط کئے جائیں۔ اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو جس طرح ہم اپنے بہت سے دیگر وسائل کا ضیاع کر رہے ہیں اور ان سے استعداد کے مطابق فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اسی طرح پی ایچ ڈی افراد کی صلاحیتیں بھی ضائع ہوں گی۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ دنیا میں افراد قوت کے وسائل دوسرے تمام وسائل سے زیادہ قیمتی ہوتے ہیں اور اس قیمتی وسیلے کو ضائع کرنا کسی لحاظ سے سود مند نہیں ہے۔  ٭

مزید : کالم