انتخابی نظام کے چند تاریک گوشے

انتخابی نظام کے چند تاریک گوشے

 

میں پاکستان کا ایک ایسا شہری ہوں جس نے پہلی اور آخری دفعہ دسمبر 1970 کے ملکی انتخابات میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا تھا، لیکن افسوس میرے ووٹ کی اس قدر بے توقیری ہوئی کہ مجھے پھر کبھی پولنگ اسٹیشن پر جانے کا حوصلہ نہیں ہوا۔

 میں نے اور میرے ساتھ کروڑوں پاکستانیوں نے ووٹ کے ذریعے جو فیصلہ دیا اس کواس وقت کے فوجی حکمرانوں نے ماننے سے نہ صرف انکار ہی کیا بلکہ الٹا مشرقی پاکستان کو خونی غسل دے کر الگ کردیا ۔ ہماری بہادر افواج نے ذلیل اور بزدل دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالے اور تریانوے ہزار جوان اس کی قید میں چلے گئے۔ اس پر مستزاد ، ذلت ورسوائی !

سقوط ڈھاکہ کے المیے نے میرے دل و دماغ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہ سوالات بار بار لوح ذہن پر ابھرتے رہے کہ جب ہمیں ووٹ کے لئے پولنگ اسٹیشن پر بلایا گیا تھا تو پھر نتیجے کو خوشدلی سے قبول کیوں نہ کیا گیا ؟ اگر نتائج ناقابل قبول تھے تو اس کی کوئی ٹھوس اور معقول وجہ کیوں نہ بتائی گئی۔ جب کسی کا حق چھینا جارہا ہو تو اسے ساری دنیا صدائے احتجاج بلند کرنے کا حق دیتی ہے۔ مشرقی پاکستان کے ووٹروں نے اپنے فیصلے کی ناقدری ہوتی دیکھ کر صدائے احتجاج بلند کی تو ان پر ٹینک کیوں چڑھا دیئے گئے ؟ انہیں گولیوں کی باڑھ پر کیوں رکھ لیا گیا؟ ان سوالات ہی نے بالآخر مجھے خالی خولی نظریاتی فضا سے نکلنے اور حالات وواقعات کو ان کے اصل تناظر میں سمجھنے کا راستہ دکھایا۔

کہنے کو تو بہت کچھ کہا گیا تھا، بیانات بھی بہت آئے اور تقریریں بھی خوب ہوئیں کہ اسلام دونوں خطوں کو باندھ کر رکھے گا لیکن جب قیامت سروں سے گزر گئی تو معلوم ہوا کہ محض آئیڈیالوجی سے معاملات نہیں سدھرتے، جب تک حسن نیت کے ساتھ اس آئیڈیالوجی پر عمل درآمد کی فکر نہ کی جائے۔ جن طبقوں کو زیادہ سے زیادہ پاور انجوائے کرنے کا جنون تھا یا جن طبقوں کے سر پر زیادہ سے زیادہ معاشی وسائل کی لوٹ مار کا بھوت سوار تھا وہ نہیں چاہتے تھے کہ عوام کے نمائندے ان کے اختیارات کی حدود متعین کریں اور معاشی وسائل وذرائع کو سارے عوام کے لئے یکساں منافع بخش بنائیں۔ طبقات کی ماہیت، ان کے مفادات اور ان کی وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی حکمت عملی کے مطالعہ نے مجھ پر ووٹ کی سیاست کو بڑی حدتک بے نقاب کردیا۔ مثلا ً1970ءمیں الیکشن مہم کو دانستہ طورپر ایک سال تک پھیلا دیا گیا۔ اس دوران نئی نئی پارٹیاں نئے نئے اتحاد بنتے اور ٹوٹتے رہے۔ حکمران طبقے کا خیال تھا کہ ووٹ کئی پارٹیوں میں بٹ جائیں گے۔ تسلسل کے ساتھ یہ اعلان کیا جاتا رہا کہ ہم عوامی نمائندوں کو اقتدار منتقل کرنے میں بالکل مخلص ہیں، ہمارا اقتدار میں رہنے کا کوئی پروگرام نہیں۔ ہم بالکل آزادانہ انتخابات کرا رہے ہیں لیکن بقول میجر جنرل راﺅ فرمان علی مرحوم کے ، الیکشن کے عین نزدیک جب خفیہ اداروں نے یہ رپورٹ دی کہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پاکستان پیپلزپارٹی واضح اکثریت کے ساتھ جیت جائیں گی تو حکمرانوں کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے۔ اسلام آباد والوں نے اس صورت حال کا توڑیہ سوچا کہ ان دونوں پارٹیوں کی مخالف جماعتوں کو امداد دی جائے اور امداد دی بھی گئی لیکن اس وقت تک پانی سر سے گزر چکا تھا جب نتیجہ سامنے آیا تو عوامی سیاست کو کنٹرول میں رکھنا مشکل ہوگیا۔“

میرے ناقص ذہن کے مطابق اس کے بعد ہی حکمران طبقوں نے فیصلہ کیا کہ اب رائے دہی کے عمل کو کھلی چھٹی نہ دی جائے۔ انتخابات کے بعد جماعتوں کو کنٹرول میں رکھنا مشکل ہوتا ہے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ الیکشن سے پہلے ہی ایسے انتظامات کرلیے جائیں کہ کوئی پارٹی واضح اکثریت حاصل نہ کرسکے۔ جب بھی حکومت بنے، مخلوط طرز کی بنے۔ مخلوط حکومتیں کمزور ہوتی ہیں، ان میں اتنا دم خم نہیں ہوتا کہ وہ سوسائٹی میں کوئی بڑی تبدیلی لاسکیں۔ میرا مطالعہ یہی ہے کہ 1988، 1990، 1993ءاور 1997ءکے انتخابات کے پیچھے بالا دست طبقات کی یہی سوچ کارفرما تھی۔ میں یہاں صرف 1988ءکے انتخابات کی چند جھلکیاں پیش کرتا ہوں، اس سے قارئین باآسانی سمجھ سکیں گے کہ ہمارا انتخابی نظام اندرونی طورپر بالادست طبقات کے ہاتھ میں محض کھلونا ہے ۔

1988ءمیں جنرل ضیاءالحق طیارے کے حادثے میں انتقال کرگئے تو قائم مقام صدر غلام اسحاق خان نے انتخابات کا ڈول ڈالا۔ گیارہ برس تک جو لوگ پیپلزپارٹی کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتے رہے انہیں خطرہ تھا کہ یہ پارٹی برسراقتدار آکر کہیں ان لوگوں کا احتساب نہ شروع کردے۔ چنانچہ اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے دائیں بازو کی چند پارٹیوں کو منظم و متحد کیا گیا ۔ پاکستان کے اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف مرزا اسلم بیگ نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر مذکورہ پارٹیوں کے قائدین کو پہلے 24اکتوبر اور پھر 6نومبر کو کھانے پر بلایا۔ ان میٹنگوں میں جماعتوں کے قائدین کے علاوہ آئی ایس آئی کے چیف جنرل حمید گل ، وزیر داخلہ نسیم آہیر اور چاروں قائم مقام وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہوئے۔ پروفیسر غفور احمد صاحب کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے لاگ لپٹی رکھے بغیر ان اجلاسوں کی روداد اپنی کتاب ” وزیراعظم بے نظیر بھٹو۔ نامزدگی سے برطرفی تک “ میں بیان کردی ہے۔ اگرچہ قاری حیرت ضرور محسوس کرتا ہے کہ پروفیسر صاحب ایسا دانا وبینا سیاستدان کس حوصلے کے ساتھ جرنیلوں کے سامنے بیٹھ کر کہ ان کی جمہوریت کش پالیسیوں پر صاد کرتا رہا۔ ایک موقع پر مرزا اسلم بیگ نے اس انتخابی صورت حال پر اس طرح تبصرہ فرمایا کہ تب بعض سیاستدانوں میں آئی ایس آئی نے رقوم تقسیم کی تھیں۔ اس پر ایئر مارشل(ر) اصغر خان سپریم کورٹ میں چلے گئے لیکن طویل مدت تک یہ مقدمہ کورٹ میں دبا رہا۔ کئی بار انگلیاں اٹھیں لیکن مقدمے کی فائل نہ کھل سکی۔ بالآخر سول سوسائٹی نے جب عدالتوں کو کچھ طاقت مہیا کی تو مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔ ابھی چند ایک پیشیاں ہی ہوئی ہیں، فیصلے کی منزل تو کوسوں دور ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہوا ہے کہ جن لوگوں کو ملکی خزانے سے بے حدو حساب نوازاگیا، ان کے نام اور ان کو ملنے والی رقوم کی تفصیلات منظر عام پر آگئی ہیں۔

پروفیسر غفور احمد نے دو جگہ کھل کر اعتراف کیا ہے کہ اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کا بڑا مقصد پاکستان پیپلزپارٹی کو اقتدار میںآنے سے روکنا تھا البتہ جنرل حمید گل کا کہنا ہے کہ اتحاد بنوانے کا اصل مقصد سیاست میں توازن پیدا کرنا تھا۔اگرچہ انہیں اس سے انکار نہیں کہ اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل میں ان کی کوششوں کو بہت عمل دخل حاصل تھا (جرنیلوں کی سیاست ، مرتبہ :سہیل وڑائچ ) حال ہی میں ممتاز صحافی محمد اصغر عبداللہ نے چودھری برادران (پرویز الٰہی وشجاعت حسین کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ”مسلم لیگ سے مسلم لیگ تک “ کے عنوان سے مرتب کرکے شائع کی ہے، اس میں اسلامی جمہوری اتحاد کے ایسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کی کہانی کے کچھ نئے پہلوسامنے آئے ہیں۔ اگرچہ اس کتاب میں بیان کیے گئے کئی دیگر واقعات بھی انتخابی نظام کے پس پردہ کام کرنے والی داخلی اور خارجی قوتوں کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن یہاں میں صرف ایک واقعہ چودھری شجاعت حسین کی زبانی نقل کرتا ہوں۔ اسے پڑھنے کے بعد یقینا قاری اچھی طرح جان سکے گا کہ میرا اس انتخابی نظام سے کیوں اعتبار اٹھ گیا ہے۔ لیجئے پڑھیے چودھری صاحب کیا کہتے ہیں:

 1988ءمیں جب اسلامی جمہوری اتحاد بن رہا تھا تو میں حمید گل صاحب کو ذاتی طورپر نہیں جانتا تھا ۔ میں اس بارے میں کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں لیکن بعد میں جب جنرل اسد درانی دور میں آئی ایس آئی والوں نے سیاست دانوں میں پیسہ تقسیم کیا ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان نے اس پر سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کررکھی ہے۔ اس میں جنرل مرزا اسلم بیگ اور نواز شریف کے نام آتے ہیں۔ میں رازوں سے پردہ اٹھانے کا دعویٰ نہیں کرتا لیکن یہ بات آپ کو بتادوں کہ جب آئی ایس آئی، سیاست دانوں میں پیسے بانٹ رہی تھی تو پرویز الٰہی اور مجھ کو بھی پیش کش کی گئی۔ لیکن ہم نے انکار کردیا۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ جنرل مرزا اسلم بیگ کی دعوت پر، جب میں چودھری پرویز الٰہی کے ہمراہ، جنرل مرزا اسلم بیگ کی رہائش گاہ پر پہنچا تو جنرل بیگ بڑے پر اعتماد اور مطمئن نظر آرہے تھے۔ رسمی علیک سلیک کے بعد جنرل بیگ نے کہا : میں نے سوچا کہ پیپلز پارٹی کے خلاف الیکشن لڑنے کے لئے اسلامی جمہوری اتحاد کے موثر امیدواروں کو مالی امداد بھی فراہم کی جائے۔ سچی بات ہے، ایک حاضر سروس آرمی چیف کے منہ سے یہ بات سن پر ہم دونوں کو سخت دھچکا لگا ۔ ہم نے کہا، یہ آپ کیسی بات کررہے ہیں۔ اس کی کوئی ضرورت اس لئے بھی نہیں، کیوں کہ عام طورپر جولوگ ، الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں، وہ اپنے اخراجات اٹھانے کی اہلیت بھی رکھتے ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ جنرل صاحب ہماری بات سمجھ گئے ہوں گے۔ لیکن جنرل صاحب نے مان کر نہیں دیا۔ کہنے لگے آپ کراچی میں کسی فرنٹ مین کے نام سے اکاﺅنٹ کھلوادیں ہم پیسے اس کے اکاﺅنٹ میں جمع کرادیں گے۔ غالباً اپنی پیش کش کو مزید پرکشش بنانے کے لئے انہوں نے کہا کہ اس اکاﺅنٹ میں بعد میں بھی وقتاً فوقتاً پیسے جمع ہوتے رہیں گے۔

ہم نے سوچا، یہ ہم کہاں پھنس گئے ہیں۔ میں نے سوچا کہ اب جنرل صاحب سے صاف صاف بات کرنی چاہیے۔ چنانچہ میں نے کہا کہ جنرل صاحب یوں ہے کہ ہم نے اس طرح الیکشن لڑنے کاکبھی سوچا تک نہیں۔ یہ بھی آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم تو خود اپنی پارٹی کے کئی لوگوں کو اپنے پلے سے خرچ کرکے الیکشن لڑاتے ہیں۔ آپ نے یہ کیسے سوچ لیا کہ ہم آپ سے پیسے لے کر الیکشن لڑیں گے۔ میں نے کہا کہ ہم آپ سے ایک پیسہ نہیں لیں گے اور ہمیشہ کی طرح اپنے خرچ پر الیکشن لڑیں گے۔ جنرل بیگ جو اس سے پہلے کافی ریلیکس نظر آرہے تھے ٹینس ہو گئے۔ ان کا چہرہ بجھ سا گیا۔ شاید انہیں کہا گیا تھا کہ ہم اس طرح صاف انکار کرنے کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ کیوں کہ نواز شریف ، سرتاج عزیز اور جاوید ہاشمی سمیت اسلامی جمہوری اتحاد کے کئی اہم سیاست دان نہ صرف جنرل اسلم بیگ کی پیش کش قبول کرچکے تھے بلکہ پیسے وصول بھی کرچکے تھے۔ جنرل بیگ نے آخری حربہ اختیار کرتے ہوئے کہا ٹھیک ہے اگر آپ خود پیسے لینے کے لئے تیار نہیں تو کم سے کم آپ ہمیں ایسے امیدواروں کے نام فراہم کردیں، جو پیپلزپارٹی کے خلاف مو¿ثر طورپر الیکشن لڑسکتے ہوں۔ میں نے ٹالنے کے لئے کہہ دیا کہ ٹھیک ہے ہمیں وقت دیں ہم ایسے امیدواروں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو آپ کی مالی امداد قبول کرنے پر آمادہ ہوں۔ یہ کہہ کر ہم واپس چلے آئے ۔ نہ ہم ایسی فہرست لے کر گئے، نہ انہوں نے پھر اس سلسلے میں ہم سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی۔

مزید : کالم