ہماری سیاست او رسیاسی کارکنان

ہماری سیاست او رسیاسی کارکنان
ہماری سیاست او رسیاسی کارکنان

  

                            مَیں یہ موضوع ہر گز نہ چھیڑتا اگر مَیں ان بھائی صاحب سے نہ ملا ہوتا۔ یہ صاحب سیاست میں تیزی سے ترقی کرنے والے ایک کارکن ہیں، جو اپنی میٹھی زبان سے سیاست کو اپنی مٹھی میں کر چکے ہیں۔ سیاست تو گھر میں پہلے ہی تھی، اب اِس میں مزید نکھار آ گیا ہے، کیونکہ سیاست کے اکابرین اپنے اِس چھوٹے بھائی کی زبان واطورار سے بہت متاثر ہیں۔ ایک بار ایم پی اے رہ چکے ہیں اور اب شاید دوبارہ قرعہ اُن کے نام نکل آئے۔ اِن جیسے سیاسی کارکنان کا سب سے بڑا ہتھیار ان کی خوشامدانہ سیاست ہے، جس کا یہ بے دریغ استعمال ہر اُس جگہ کرتے ہیں جہاں اس کی ضرورت ہے۔ عوام کے لئے وعدے کی ٹھنڈی میٹھی گولیاں اور امید کی چھتر سایہ اُن کا سہارا بنتی ہے۔ کام تو ہوتے ہی رہتے ہیں اور ہونے والے کام ہی ہوتے ہیں۔ سب کام تو ہو بھی نہیں سکتے! ان کا نظریہ ہے، لیکن سیاسی کارکن کا اصل کردار اس کی نظریہ سے وابستگی ہوتی ہے۔ سیاسی قائد اور جماعتی سربراہ اس کا مرشد ہوتا ہے۔ مرید کا ایک دوسرا روپ سیاسی کارکن ہوتا ہے جو عشق و سلوک کی منزل طے کرتا ہوا عوامی خدمت اور بھلائی سے ایک روز خود مرشد کے رنگ میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ خود نمائی اور منافقت سے مبرا ہوتا ہے۔ اس کا دل صدق سے بھرا ہوتا ہے۔ مرشد یعنی سیاسی قائد کی قربت اور اس کی نظر ِ التفات کے سوا اس کا کوئی مطمح نظر نہیں ہوتا۔ یہی کارکن پارٹی کا اصل سرمایہ ہیں، جو ہر حالت میں پارٹی کے ساتھ اپنی سچی وابستگی اور لیڈر ان کی عزت وناموس کی خاطر تن من اور دھن پیش کرتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) ایک ایسی ہی نظریاتی جماعت بن چکی ہے، جس کے لاکھوں کارکنان پاکستان کے ہر کونے میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ یہ سچے اور پیارے لوگ اپنے لئے کچھ نہیں مانگتے، مگر اپنے سیاسی قائد کی محبت اور نظر ِ کرم۔ بالکل ایسے ہی جیسے مرید مرشد سے کچھ نہیں مانگتا سوائے دِل کا چین اور سکون، جو صرف اس کی توجہ اور الفت سے ملتا ہے۔ ڈاکٹر سعید الٰہی ایک ایسے ہی بے لوث، محنتی اور سچے سیاسی کارکن ہیں، جن کا لب و لہجہ اپنے نظریے کی سچائی کی طرح سچا اور دو ٹوک ہے جو شاید قائدین کو کسی لمحے گراں گزراہو، لیکن ان کی ایمانداری اور خلوص نیت پر کسی کو شبہ نہیں ہے۔ مَیں یہ بات اس لئے نہیں کررہا کہ وہ میرے بڑے بھائی ہیں، بلکہ مَیں نے انہیں بہت قریب سے دیکھا ہے۔ اپنے قائدین کی جلاوطنی کے سالوں میں ان کو تڑپتے اور بے چین ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ وسائل کی تنگی کے باوجود سعودی عرب میں اپنے قائد کی زیارت کے لئے بارہا جانا اور ان تمام ملاقاتوں کا احوال اپنی کتاب میں آنسوﺅں سے بیان کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ داستان طویل ہے اور محبت قرض نہیں ہوتی، یہ تو دریا ہے، جس نے بہنا ہے۔ چاہے راستہ دشوار ہو یا ہموار۔ منزل تو سمندر ہے، جس کی خاطر ہزاروں میل یا ہزاروں دنوں کی مسافت بھی طے کرنا پڑی تو کریں گے۔ مقصد تو سمندر میں مل جانا ہے۔

حالیہ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کی شاندار کامیابی ان جیسے کارکنان کی شبانہ روز محنت، قائدین کی فراست اور خدائے بزرگ و برتر کی عنایت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس ملک کے عوام نے اس عظیم پارٹی کو اپنی خدمت کے لئے چُن لیا ہے۔ سچی خدمت کے لئے کسی عہدے کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن ایک پلیٹ فارم ضرور ہونا چاہئے، جہاں اس پارٹی کے کارکنان اپنے وسائل اور حیثیت کے مطابق عوام کی خدمت کر سکیں۔ پارٹی کے ضلعی دفاتر اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ دفاتر جماعت کے اعلیٰ قائدین کی آنکھیں اور کان بنیں۔ ان کی تنظیم و تربیت ایم این اے، ایم پی اے کی زیر نگرانی نہ ہو، بلکہ ایک علیحدہ چین آف کمانڈ کے ذریعے پارٹی کے صوبائی سربراہ کو اپنے ضلع کو مجموعی تصویر پیش کر سکیں۔ ان دفاتر میں سازشی سیاست کی ہر گز اجازت نہیں ہونی چاہئے، بلکہ مقصد فلاحی سیاست ہو۔ یہ دفاتر ایک طرح سےResearch and Consultancy office Facts and Figures ہر دم تیار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو گا۔ اس کی بنیاد پر پارٹی قائدین اس ضلع کے مسائل، معاشی امکانات، محاصل، لوکل میڈیا اور کچھ کر گزرنے والے اشخاص سے براہ راست واقفیت رکھ سکیں گے۔ اس متوازی نظام سے پاکستان مسلم لیگ(ن) عوام میں مزید مقبول بھی ہو گی اور یہ نظام فلاحی سیاست دانوں کی تربیت گاہ کے طور پر بھی جانا جائے گا۔ مجھے امید ہے کہ میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف میری اس تجویز کو دخل در معقولات نہیں تصور کریں گے اور اپنے کارکنان کو اپنے سے قریب کرنے کے اس منصوبہ کی حوصلہ افزائی فرمائیں گے۔  ٭

مزید :

کالم -