فلسطینیوں کی حالت زار :کیا ملت اسلامیہ کا وجود باقی ہے؟

فلسطینیوں کی حالت زار :کیا ملت اسلامیہ کا وجود باقی ہے؟
فلسطینیوں کی حالت زار :کیا ملت اسلامیہ کا وجود باقی ہے؟
کیپشن: 1

  

گزشتہ ایک ماہ سے اسرائیل فلسطینی عوام کو وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنارہا ہے۔ دوہزار لوگ شہادت پاچکے ہیں اور دس ہزار زخمی ہیں۔ ہلاکتوں اور زخمیوں میں 75 فیصد عام افراد اور بچے شامل ہیں۔ اخباری نمائندوں اور اقوام متحدہ کے مبصرین نے اپنی آنکھوں سے مردوں، عورتوں اور بچوں کے جسموں کے ٹانگ اور بازو بکھرے ہوئے دیکھے ہیں۔ سکول، ہسپتال، مساجد، غزہ یونیورسٹی اور ہزاروں مکانات تباہ کردیئے گئے ہیں۔ حماس اپنی بساط کے مطابق اسرائیل کا مقابلہ کررہی ہے۔ صدر محمود عباس کی حکومت بھی حماس کے ساتھ ہے اور مطالبہ کررہی ہے کہ اقوام عالم کو ان وجوہات پر توجہ دینی چاہئے کہ آخر اسرائیل کے ساتھ غزہ کے شہری کیوں بار بار لڑنے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ سات سال سے غزہ کے علاقے کی بری، ہوائی اور سمندری ناکہ بندی جاری ہے اور 27میل کی زمینی پٹی میں 18لاکھ عوام کو عملاً قیدی بنادیا گیا ہے اور ہر روز فلسطینی عوام کی عزت نفس سے کھیلا جاتا ہے۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ کسی بھی مسلم ملک نے حماس کی نہ مدد کی ہے اور نہ ہی اسرائیل کو الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ اپنی سفاک جارحیت بند کرے ورنہ نتائج کے لئے تیار رہے۔

1967ءاور 1973ءکی جنگوں میں تمام عرب ممالک نے اسرائیل کے خلاف جنگوں میں حصہ لیا ، پاکستان نے تو ملک شام کی فضائی جنگی جہازوں سے مدد بھی کی تھی۔ سعودی عرب نے تیل کا ہتھیار بھی استعمال کیا تھا۔ ان اقدامات کی وجہ سے ہر بار اسرائیل کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ 1948ءکی عرب اسرائیل جنگ میں تمام عرب متحدتھے اور اس اتحاد کی وجہ سے جزیرہ نما سینائی، غزہ، دریائے اردن کے مغربی کنارے کا علاقہ اور مشرقی یروشلم کا شہر اسرائیل سے بچا لیا گیا تھا۔ اس وقت فلسطینی لاوارث ہیں۔ مسلم ممالک خاموش تماشائی ہیں۔ چند یوم پہلے پاکستانی اخبارات نے ”نیویارک ٹائمز“ کا مضمون شائع کیا کہ مصر، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات درپردہ اسرائیل کے حملے کی مدد کررہے ہیں اور اس بات کے حامی ہیں کہ اسرائیل حماس کو کچل دے۔ مسلم ممالک کی تنظیمیں عرب لیگ اور او آئی سی (OIC)بالکل خاموش ہیں اور اس تاثر کو اجاگر کرتی ہیں کہ یہ تنظیمیں امریکہ، برطانیہ اور بین الاقوامی یہودی لابی کے دباﺅ کے تحت خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں۔ ایسے لگتا ہے، جیسے ملت اسلامیہ کا نظریاتی وجود ختم ہوچکا ہے اور مسلم ممالک ایک دوسرے کے خلاف محاذ آراءہیں۔

اب اگر مسلم ممالک کے حال پر توجہ فرمائیں تو انتہائی سنگین حالات ہیں۔ مشرق وسطی کے ممالک میں شیعہ سنی فساد کرادیئے گئے ہیں۔ شام اور عراق اس کا شکار ہوکر تباہ ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں سخت سیاسی داخلی خلفشار ہے۔ طالبان کے ساتھ جنگ جاری ہے۔ بلوچستان میں بھارتی ایماءپر دہشت گردی ہورہی ہے۔ وہاں پر غیر بلوچوں کو چن چن کر مارا جارہا ہے ،شیعہ سنی فساد بھی جاری ہے۔ پاکستان اس وقت فلسطینیوں کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ ویسے بھی اربوں ڈالر کا مقروض ملک پاکستان جو یہودی لابی کے اداروں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے زیراثر ہے ،کس طرح اسرائیل کو آنکھیں دکھا سکتا ہے۔ بنگلہ دیش بھی اندرونی خلفشار کا شکار ہے ، عوامی لیگ کی حکومت ہندوستان کی آلہ کار بن چکی ہے اور پاکستان دشمنی میں اندھی ہوچکی ہے۔ اس نے فلسطینیوں کی کیا مددکرنی ہے۔ مصر، الجزائر ، لیبیا ، تیونس بھی اندرونی طورپر بدامنی اور خانہ جنگی میں مبتلا ہیں۔ مغربی افریقہ کے زیادہ مسلمان آبادی کے ممالک نائجیریا ، نائیجر، مالی میں بھی عیسائیوں سے لڑائی جاری ہے۔ انڈونیشیا اتنی دور ہے کہ اس کے لئے کوئی فوجی کردار ادا کرنا مشکل ہے۔

اس وقت صرف تین ممالک ہی اسرائیل کوالٹی میٹم دے سکتے ہیں، یعنی ایٹمی طاقت پاکستان، ترکی اور ایران۔ مگر یہ تینوں ممالک اپنے اندرونی حالات کی وجہ سے عضو معطل بن چکے ہیں ،رہا سعودی عرب تو اس سے کوئی توقع رکھنا عبث ہوگا، کیونکہ سعودی عرب اور مصر کی حکومتیں اخوان المسلمون کے سخت مخالف ہیں اور حماس کو اس کا ساتھی سمجھتے ہیں اور ان کی خواہش تو یہ ہے کہ حماس اسرائیل کے ہاتھوں تباہ وبرباد ہوجائے۔

قارئین آپ پر واضح ہوگیا ہوگا کہ اس وقت مسلم امت کا نظریاتی وجود ختم ہوچکا ہے ، اس کی وجہ مسلم ممالک کی سیاسی قیادت ،حکمران، فقہی تفرقہ بازی، نسلی اور صوبائی نفرتیں ہیں۔ مسلم ممالک کے بیشتر حکمران امریکہ اور یورپ کے زیراثر ہیں۔ ان کے اربوں ڈالر یہودی لابی کے بنکوں میں جمع ہیں۔ اگر یہ ذرا بھی اپنی مرضی کے مطابق عمل کریں گے تو ان کے اربوں ڈالر منجمد کردیئے جائیں گے اور یہ جھاگ کی طرح بیٹھ جائیں گے۔ ماضی میں ملت اسلامیہ کا نظریہ ایک حقیقت تھا اور ”مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں“ایک درخشاں مثال تھا۔ اس نظریہ کی روشن مثالیں تاریخ میں موجود ہیں جب مسلمان دوسرے مظلوم مسلمانوں کی مدد کو آئے۔ چند ایمان افروز واقعات قارئین کی نذر کئے جاتے ہیں۔

1۔1761ءمیں مسلم مغل حکومت ہندوستان میں انتہائی کمزور ہوچکی تھی۔ کافی صوبے خود مختار ہوگئے۔ جنوبی ہندوستان میں مرہٹوں نے بڑی طاقت پکڑ لی اور ان کو دہلی کے مغل دربار پر بھی بہت اختیار حاصل ہوگیا اور قریب تھا کہ مرہٹے مغل بادشاہ کا تختہ الٹ کر ہندو حکومت قائم کرلیتے۔ اس وقت مغل وزیراعظم شجاع الدولہ، حافظ رحمت خان روہیلہ اور دوسرے مسلمان رہنما اکٹھے ہوگئے کہ اگر مرہٹوں کو نہ روکا گیا تو ہندوستان میں مسلمان حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ مذہبی رہنماﺅں نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ مشہور مذہبی سکالر حضرت شاہ ولی اللہ نے احمد شاہ ابدالی والئی افغانستان کو خط لکھا کہ آپ کا یہ مذہبی فریضہ ہے کہ ہندوستان کی مسلمان حکومت کو مرہٹوں کے غلبہ سے بچائیں ورنہ ہندوستان میں مسلم حکمرانی ختم ہو جائے گی۔ اس پیغام پر احمد شاہ ابدالی ہندوستان آئے اور مسلمان امراءنے اتحاد کرکے مرہٹوں کو پانی پت کی تیسری جنگ (1761ئ) میں عبرت ناک شکست دی اور مسلمان حکومت مزید 90سال ،یعنی 1857ءتک ہندوستان میں قائم رہی۔

2۔ یورپی ملک سپین پر مسلمانوں نے 700سال حکمرانی کی، جب مسلمان حکومت کو 300سال گزرے تو مسلمان مختلف صوبائی حکومتوں میں بٹ گئے اور قریبی عیسائی حکومتیں ان مسلمان ریاستوں کو آہستہ آہستہ فتح کرنے لگیں۔ مسلمان امراءمیں نسلی اور فرقہ وارانہ اختلافات بھی شدید ہوتے گئے اور مسلم اقتدار ختم ہونے کے قریب آگیا۔ اس وقت سپین کے 120علمائے حق نے شمالی افریقہ کے بربرمسلمان حکمران یوسف بن تاشفین کو خط لکھا کہ اگر آپ نے اس وقت سپین کے مسلمانوں کی مدد نہ کی تو عیسائی مسلمانوں کو سپین سے نکال دیں گے۔ اس دعوت پر یوسف بن تاشفین نے پوری فوجی طاقت کے ساتھ سپین پر حملہ کیا اور عیسائیوں کو شکست دے کر مسلمان حکومت کو مضبوط کیا ، اس طرح سپین میں مسلمان حکومت مزید 300سال تک قائم رہی اور آخر کار پھر امراءکی باہمی سیاسی دشمنی اور نسلی اختلافات کی وجہ سے 1492ءمیں ختم ہوگئی۔

3۔1187ءتک بیت المقدس ،یعنی یروشلم، فلسطین اور لبنان پر صلیبی عیسائیوں نے تقریباً 200سال سے قبضہ کیا ہوا تھا۔ صلیبیوں نے مسلمانوں کا اتنا قتل عام کیا کہ پہلی صلیبی جنگ میں مسلمانوں کے خون سے یروشلم کی گلیوں میں اتنا خون جمع ہوگیا کہ گھوڑوں کی ٹانگیں گھٹنوں تک خون میں ڈوب جاتی تھیں۔ 1187ءمیں والئی مصر وشام غازی صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں تمام مسلمان عرب، کرد، شیعہ، سنی اکٹھے ہوئے اور اس طرح مسلمانوں کے اتحاد نے صلیبی عیسائیوں کو شکست دے کر قبلہ اول بیت المقدس کو آزاد کرایا۔ صلاح الدین ایوبی خود کرد مسلمان تھے، مگر ہرنسل اور مسلک کے مسلمان ان کی قیادت میں متحد تھے۔

4۔ حجاج بن یوسف والیءعراق کے زمانے میں سندھ کے ہندو راجہ داہر کے زیراثر علاقے میں بحری قزاقوں نے مسلمان بحری جہازوں کو لوٹ لیا، جو سری لنکا سے سامان، خواتین اور بچوں کو عراق لے جارہے تھے۔ قیدی عورتوں نے حجاج بن یوسف کو مدد کے لئے پکارا تو اس نے خلیفہ ولید بن عبدالملک سے اجازت لے کر محمد بن قاسم کی قیادت میں فوج بھیج کر مسلمان عورتوں کو آزاد کرایا اور راجہ داہر کو شکست دے کر سندھ میں باقاعدہ مسلمان حکومت قائم کی۔

5۔ ملت اسلامیہ کے اتحاد کا ایک عظیم الشان مظاہرہ قیام پاکستان کی تحریک کے دوران دیکھنے میں آیا، جب برصغیر کے مسلمان بے شک وہ سنی یا شیعہ ، بنگالی، سندھی، بلوچی، پنجابی یا پٹھان تھے، یک جان وملت ہوکر اسلام کے نام پر قائداعظم کی قیادت میں پاکستان حاصل کیا۔ مگر جب صوبائی عصبیتوں میں بٹ گئے ، تو 1971ءمیں انہی مسلمانوں نے پاکستان کو دوحصوں میں توڑ دیا۔ ان تمام واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ جب مسلمان متحد ہوئے ،انہوں نے اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کیا اور اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کو ظلم سے نجات دلائی، مگر جب آپس میں نااتفاقی ہوئی تو سپین اور ہندوستان کی عظیم سلطنتیں گنوادیں۔ پہلی جنگ عظیم میں اسلام دشمن طاقتوں نے ترکوں اور عربوں کو آپس میں لڑا کرترک خلافت کو ختم کیا ،پھر عربوں کے جسم میں اسرائیل کی حکومت کا خنجر پیوست کرکے لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکلنے پر مجبور کردیا ۔ان کی چارنسلیں پناہ گزین کیمپوں میں پل کر جوان ہوئی ہیں۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

ہے جرم ضعیفی کی سزامرگ مفاجات

آپ زمانے کی ستم ظریفی دیکھیں کہ کوئی مسلمان ملک یہ جرا¿ت نہیں کرسکتا کہ اسرائیل کو کہے کہ تم غزہ میں مظالم بند کرو ،ورنہ ہمارے حملے کا انتظار کرو۔ آخر یہ جرا¿ت آئے کہاں سے؟ مسلمان ملکوں کے سیاسی رہنما اور حکمران، دانش ور، مذہبی رہنما مسلمانوں کو خود اپنے ہاتھوں سے اپنے ملکوں کے عوام کو نسلی، صوبائی اور مذہبی فرقہ بندی کی بنیاد پر تقسیم کررہے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب برصغیر کے مسلمان مشکل وقت میں اپنے افغانی بھائیوں کی طرح مدد کے لئے پاکستان کی جانب دیکھا کرتے تھے، مگر کیا ستم ظریفی ہے کہ افغانستان اب خود خانہ جنگی میں تباہ ہوچکا ہے۔ پاکستان، عراق ، شام، مصر، لیبیا ، سوڈان، صومالیہ ، الجزائر، تیونس داخلی خانہ جنگی میں مبتلا ہیں۔ ان حالات میں کون ہے جو فلسطینی ، کشمیری اور برما کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو روکے گا؟.... اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں پر رحم کرے اور عالم اسلام کو ایک اسلام پسند ، غیرت مند صالح قیادت عطا کرے جو مسلم ممالک کو نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے مطابق چلائیں اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ کو واپس لائیں۔

مزید :

کالم -