جنرل اختر عبدالرحمن:شہید جہاد افغانستان

جنرل اختر عبدالرحمن:شہید جہاد افغانستان
جنرل اختر عبدالرحمن:شہید جہاد افغانستان
کیپشن:   1 سورس:   

  

”تاریخ بڑے لوگوں کے حالات زندگی کا نام ہے“.... جولوگ اپنی صلاحیتوں اور اہلیتوں کے بل بوتے پر حالات کے خدوخال تبدیل کرتے اور زمانے کے فطری سفر کو اپنی پسند کی راہوں کی طرف موڑ دیتے ہیں، وہ یقیناًبڑے لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی کا افق اس قدر وسیع ہوتا ہے کہ وہ دنیاسے چلے جانے کے بعد بھی وقت کی باگیں اپنے ہاتھ میں رکھتے اور مستقبل کے موسموں پر بھی اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ ایسے تاریخ سازلوگوں کی ایک خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کارناموں کی وقعت اور ان کی شخصیت کی عظمت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ جنرل اختر عبدالرحمن بلاشبہ اس کسوٹی پر پورے اترتے ہیں....ڈاکٹر عبدالرحمان کے زیرسایہ اختر نے آسودہ اور پُرآسائش ماحول میں زندگی کے سفر کا آغاز کیا۔ اختر کی عمر صرف چارسال کے لگ بھگ تھی کہ ان کے والد اچانک دل کا دورہ پڑنے سے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اختر کے لئے زندگی کے ابتدائی سفر ہی میں مشکلات پیداہونے لگیں، تاہم والدہ نے اسے ماں کا پیار بھی دیا اور باپ کا سہارا بھی۔ ہاجرہ بیگم نے تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود ایک عظیم مسلم خاتون کی طرح بڑی ہمت اور جواں مردی سے اپنے آپ کو بیٹے کو تعلیم و تربیت کے لئے وقف کردیا۔

حصول رزق کے لئے پیشے کے انتخاب میں بے شمار عوامل کام کرتے ہیں۔ اختر کے سامنے بظاہر کوئی متعین مقصد نہیں تھا۔ 1945ءمیں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اکنامکس کرنے کے بعد اختر اپنی والدہ کے پاس آگئے۔ ادھر ادھر کے ملنے والوں نے اختر سے کہا کہ وہ پولیس کی نوکری کرلیں، چنانچہ اختر 1946ءمیں ڈی ایس ایس پی بھرتی ہوکر لاہور چلے گئے۔ والدہ نے اپنی بڑی بیٹی کو اطلاع دی تو وہ بہت پریشان ہوئیں۔ انہیں پولیس کی نوکری پسند نہیں تھی۔ بہن کے اصرار پر اختر پولیس سروس سے مستعفی ہوگئے۔ بہن نے بھائی سے کہا: ” تم فوج میں جاﺅ، سپہ گری ہمارا خاندانی پیشہ ہے“۔ 1947ءمیں نوجوان اختر سیکنڈلیفٹیننٹ کے طور پر مشرقی پنجاب میں تھا۔ اختر کی ڈیوٹی پناہ گزینوں کی ٹرین پر لگ گئی۔ وہ ہندوﺅں اور سکھوں سے بھری ٹرینوں کو اپنی حفاظت میں سرحد پہنچا رہے تھے۔ لاشیں ہی لاشیں ....خون ہی خون ....کٹے ہوئے بازو ....قلم کی ہوئی گردنیں ....معصوم بچے .... بوڑھے ....عورتیں .... اختر زندگی بھر ہندو کی اس شقاوت کو فراموش نہ کرسکے۔

 جنرل اختر نے شاید یہ کبھی نہ سوچا ہو، کہ قدرت انہیں ایسا موقع فراہم کرے گی کہ وہ نہ صرف پاکستان، بلکہ دنیا بھر کی تاریخ میں اپنا نام پیدا کرسکیں۔ معروضی طورپر کوئی ایسی مہم، کوئی ایسا مشن دور دور تک دکھائی نہیں دیتا تھا کہ اختر کو انفرادی سطح پر کسی بلند تر مقام پر لے جائے۔ شاید یہ بھی قدرت کاایک اصول ہوکہ بڑے کاموں کے لئے چنے گئے افراد کو دیرتک پس پردہ رکھا جاتا ہے۔ جنرل اخترعبدالرحمن اول وآخر سپاہی تھے۔ کچھ سپاہی ایسے معرکوں کے لئے چن لئے جاتے ہیں جو ان کے فطری جوہر کی سطح سے بہت کم ہوتے ہیں۔ کچھ سپاہی ان کارناموں کے لئے منتخب کرلئے جاتے ہیں جو ان کی فکری وعملی استعداد سے ماورا ہوتے ہیں۔ بہت کم سپاہی ایسے ہوتے ہیں، جنہیں وہ کام سونپے جاتے ہیں، جن کو بجالانے اور پایہ تکمیل تک پہنچانے کی صلاحیتیں ان میں ہوتی ہیں۔ جنرل اختر ایک بڑا سپاہی تھا۔ وہ گوریلا جنگ کے داﺅد پیچ جاننے والا کمانڈرتھا۔ وہ جری اور بہادرتھا۔ وہ نظریاتی طورپر اسلام کی ارفع اقدار پر پورا یقین رکھتا تھا۔ اس میں مرد مومن کی بصیرت بھی تھی اور بصارت بھی۔ یوں لگتا تھا کہ اس بڑے جرنیل کے لئے قدرت نے ایک بڑی رزم گاہ کا انتخاب بہت پہلے کر لیا تھا۔ جون 1979ءکو جنرل اختر عبدالرحمن نے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کا چارج سنبھالا اور دسمبر 1979میں وہ میدان کارزار گرم ہوگیا، جس کے لئے دست قدرت نے جنرل کی پرورش کی تھی۔ جنرل اختر کا عظیم ترین کارنامہ جہاد افغانستان ہے۔ یہ جہاد ان کی روح کی آواز تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا انتہائی متحرک، انتہائی مو¿ثر اور انتہائی اہم عرصہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے گزارا۔ داخلی اور خارجی حوالے سے یہ پاکستان کا حساس ترین دورتھا۔

انٹیلی جنس کے کارنامے ہمیشہ صیغہ راز میں رہتے ہیں۔ کوئی نہیں بتا سکتا کہ انہوں نے کن کن مراحل پر ملک کی سلامتی اور ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کے لئے کیا کچھ کیا۔ کچھ سپاہی ایسے ہوتے ہیں، جن کے کارنامے عسکری دستاویزات کی زینت بنتے ہیں۔ ان کی بہادری کی داستانیں رقم ہوتی ہیں اور ان کے لئے ہمت وشجاعت کے اعزازات تجویز ہوتے ہیں کچھ سپاہی ایسے ہوتے ہیں جن کی سرفروشانہ جدوجہد کو کوئی نہیں دیکھتا۔ وہ اپنی سی کر گزرتے ہیں۔ ان کا کارنامہ عظیم ٹھہرتا ہے۔ اختر بھی کچھ ایسا ہی سپاہی تھا۔ معلوم بھی اور نہ معلوم بھی.... ایک دنیا اسے مجاہد افغانستان کے نام سے جانتی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ نامعلوم سپاہی ہے کہ اس کے کارنامے قرطاس وقلم کی زینت نہیں بن سکے۔ اس کی شاندار کارکردگی کی تفصیلات کسی تاریخ میں رقم نہیں۔ اس نے ہر مجاہد تک بندوق کی گولی اور ہر مہاجر تک روٹی کا نوالہ پہنچانے کے لئے کیا کچھ کیا۔ آٹھ برسوں پر محیط اس کے شب وروز کے ایک ایک لمحے کی داستان بیان کی جاسکتی ہے۔ مصلحتیں، بین الاقوامی رشتہ و تعلق کے ضابطے ، ملکی سلامتی کے قوانین قومی رازوں کی پاسداری ....بہت سی زنجیریں اختر کی سچی تصویر کے خدوخال ابھارنے میں مانع ہیں۔ کچھ لوگ اسے جنرل اختر کی بدقسمتی خیال کرتے ہیں کہ اس نے عسکری تاریخ میں ایسا کارنامہ سرانجام دیا، جس نے دنیا کے فکر ونظر کے زاویے بدل ڈالے ،لیکن اس کے کارنامے کی جزئیات بیان نہیں کی جاسکتیں۔ کچھ لوگ اسے خوش قسمت قرار دیتے ہیں کہ اس کا تانباک چہرہ اس وقت ابھرے گا ،جب تعصبات کی دھند چھٹ چکی ہوگی۔ جب سارا منظر سیاسی آلائشوں سے پاک ہوگا۔ جب سچائی اپنے پورے نکھارکے ساتھ سامنے آئے گی۔

اوجڑی کیمپ کا محل وقوع کئی اعتبار سے بڑا آئیڈیل تھا۔ یہ ایئر پورٹ کے قریب اور دوشہروں کے درمیان درختوں سے گھرا ہوا تھا، غالباً اسلحہ طیاروں کے ذریعے راولپنڈی ایئرپورٹ پر اترتااور اسے سویلین ٹرکوں کے ذریعے راتوں رات اوجڑی کیمپ منتقل کردیا جاتا۔ اگر ٹرانزٹ کیمپ ایئرپورٹ سے دور ہوتا تو شاید رازداری کو قائم رکھنا بہت محال ہوجاتا، اسی طرح شہر سے قریب ہونے کی وجہ سے دشمن کو یہ شک گزرہی نہیں سکتا تھا کہ یہاں کوئی ایمونیشن ڈپو بھی ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اوجڑی کیمپ آٹھ سال تک ہرخطرے سے محفوظ رہا۔ جنرل اختر وقت سے پہلے سازش کا نشانہ بن گئے، تاہم اللہ تعالیٰ نے جنرل اختر کو اتنی زندگی دی کہ انہوں نے افغانستان سے روسی فوجوں کی پسپائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ جنرل اختر فضائی حادثے کا شکار ہو ا تو افغانستان کا افق پھر گردآلود ہوگیا۔ وہاں کی جنگی صورت حال میں بھی تبدیلی آگئی اور روس کو افغانستان سے بھاگنے پر مجبور کردینے والے مجاہدین کے حملوں میں بھی وہ تندی وتیزی نہ رہی۔

جنرل اختر نے ایک موقعہ پر کہا: ”پاکستان کے لئے مضبوط مسلح افواج محض ایک عیاشی نہیں، بنیادی ضرورت ہیں۔ ہم اپنی افواج کو اس لئے مضبوط نہیں بنارہے کہ اپنے ہمسایوں کے خلاف ناپاک عزائم رکھتے ہیں۔ ہم نہ تو اپنی قوت کی نمائش چاہتے ہیں، نہ ہی ہمیں اپنی عسکری صلاحیتوں کا رعب داب قائم کرنے کا شوق ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کا ارتقاءکسی الگ تھلگ جزیرے میں نہیں ہوا۔ یہ تو ہمارے خطے میں جنم لینے والے دفاعی تقاضوں کا ردعمل ہے۔ پاکستان کے وسائل اتنے کم ہیں کہ وہ اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہوسکتا۔ ہم تو صرف اپنے دفاع کو مضبوط بناسکتے ہیں، ہم ان چیزوں کا حصول ضروری نہیں سمجھتے جو ہماری دسترس سے باہر ہیں، لیکن دفاعی ہتھیاروں کی ایک نپی تلی مقدار کا فراہم کیا جانا بہرحال ضروری ہے۔ ماضی کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر معرکہ میں ہماری فوج دشمن کے مقابلے میں ہمیشہ کم رہی ہے۔ اس کے باوجود ہم نے دشمنوں پر فتح پائی۔ یہ فتح ہم نے ہتھیاروں کے زور پر نہیں بلکہ اللہ اکبر کی قوت کی بدولت حاصل کی “۔

بزرگوں کی میراث خاندان کے بیٹوں کو سنبھالنا ہوتی ہے۔ ہماری تاریخ کے بڑے لوگوں نے عموماً اپنے اسلاف کی عظمتوں کے تصور سے رہنمائی حاصل کی اور زندگی کے کسی نہ کسی میدان میں بڑوں کی بڑائی کے سفر کو جاری رکھا۔ جنرل اختر اس لحاظ سے خوش قسمت ٹھہرے۔ ان کے چاروں بیٹوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور باپ کے خوابوں میں تعبیر کے رنگ بھرے۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کے بیٹے اچھی تعلیم حاصل کریں، چنانچہ اکبر خان نے امریکہ سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ ہمایوں خان اور ہارون خان نے امریکہ سے ہی انشورنس ایکچوری میں ڈگری حاصل کی اور غازی خان نے کینیڈا سے چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ کی ڈگری حاصل کی۔ جنرل اختر کے بیٹے اپنے باپ کے مشن اور اس کے کام کی عظمت سے پوری طرح واقف ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اسلام اور پاکستان کے لئے ان کے باپ نے تاریخ کے صفحات پر ایک لازوال داستان رقم کی ہے۔ اسلام اور پاکستان کی خدمت کے اس لمبے سفر کا ایک نیا سنگ میل نصب ہورہا ہے اور سنگ میل کا نام ہے ....ہمایوں خان۔

ہمایوں 19سال کی عمر میں ملک سے باہر چلے گئے تھے۔ جنرل اختر انہیں مسلسل خط لکھتے۔ ان خطوں میں رسمی باتیں نہ ہوتیں، آگے بڑھنے کا عزم ہوتا۔ جنرل اختر ایک دوراندیش انسان کی طرح اپنے بچوں کو تعلیم وتربیت کے ایسے تحمل سے گزاررہے تھے کہ وہ ہنرمند ہوں، منفرد ہوں، نامور ہوں۔ شاید جنرل کو یہ خبر نہیں تھی کہ ہمایوں کل سیاست کے میدان میں آئے گا اور اپنے جوہر قابل سے ایک گراں قدر اضافہ ثابت ہوگا۔ ہمایوں خان کہتے ہیں: ”ہمارے والد کو ہم سب پر فخرتھا۔ وہ ہم سب کی طرف سے پوری طرح مطمئن تھے۔ ااور ہمیں اطمینان ہے کہ ہم نے اپنے والد کو مایوس نہیں کیا اور وہ سب کچھ جو ہمارے بس میں تھا۔ مَیں جانتا ہوں کہ ہمارے ہاں کی سیاست کوئی مثالی اخلاقیات نہیں رکھتی، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سیاست کو پیشہ ور لوگوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے۔ سیاست میں اچھے، پڑھے لکھے افراد کو آگے آنا چاہئے اور اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے “۔

جنرل اختر کی زندگی میں بہت کم لوگ اس کا نام جانتے تھے، لیکن اس کے چلے جانے کے بعد پاکستان کی ہر بستی، ہرقصبہ، ہرشہر اس کے نام سے آشنا ہے۔ افغان مجاہدین کی جھونپڑیوں کی کسی نہ کسی دیوار پر اس کی تصویر ضرور نظرآتی ہے اور صرف جھونپڑیوں میں ہی نہیں، اس کی تصویریں تو جلسہ گاہوں کی زینت ہیں۔ بڑے بڑے شہروں کی جدید مارکیٹوں میں چمکتی دمکتی دکانوں میں آویزاں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں، جن کا اختر عبدالرحمن سے کوئی رشتہ نہیں، جنہوں نے ساری زندگی اس کی ایک جھلک بھی نہیں دیکھی ،لیکن آج فوجی وردی میں ملبوس اس شخص کی تصویر انہیں عزیز جاں ہے ....صرف اس لئے کہ وہ اس کے کارنامے اور اس کی عظمت سے آگاہ ہوچکے ہیں۔ وہ جان گئے ہیں کہ سمرقند وبخارا کو ہڑپ کرنے والے سرخ ریچھ کو اپنی سرحدوں سے بھگانے والا شخص یقیناً ان کا محسن تھا۔ وہ معلوم کارناموں والا معلوم سپاہی.... نامعلوم کارناموں والے نامعلوم سپاہی کی طرح راولپنڈی کی معروف شاہراہ پشاور روڈپر ملحق فوجی قبرستان میں آسودہ خاک ہے۔

مزید :

کالم -