طاہر القادری کواس مارچ میں بھی وز یراعظم کےخلاف عدالتی فیصلے کی خوش خبری ملی

طاہر القادری کواس مارچ میں بھی وز یراعظم کےخلاف عدالتی فیصلے کی خوش خبری ملی

  

تجزیہ : شہباز اکمل جندران

حسن اتفاق یا خوش قسمتی ، طاہر القادری کو دوسرے لانگ مارچ میں دوسرے وز یراعظم کے خلاف بھی اہم عدالتی فیصلے کی خوش خبری ملی۔عمران خان اور طاہر القادری کے مطالبات متصادم ہونے، ایک دھرنا ختم تو دوسرا جاری رکھنے پر بضد ہوا تو کیا ہوگا۔؟حکومت کی برداشت کی حد کیا ہوگی۔؟14سے 17جنوری 2013کو ڈاکٹر قادری کے پہلے لانگ مارچ میں انہیں 15جنوری کو اس وقت کے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے جانے کی خبر ملی۔اور اب 14اگست کو شروع ہونے والے ان کے انقلاب مارچ کے دوران انہیں16اگست کو سانحہ ماڈل ٹاﺅ ن میںذمہ دار ٹھہرائے جانے والے وزیر اعظم نواز شریف ، وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور ان کی کابینہ کے اہم اراکان سمیت پولیس کے اعلیٰ افسروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے عدالتی حکم کی خبر ملی ۔ گزشتہ روز لاہور کی ایک سیشن عدالت نے منہاج القرآن کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن جواد حامد کی درخواست پر سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف ، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ، حمزہ شہباز ، چوہدری نثار علی خان،خواجہ آصف ، خواجہ سعد رفیق ، رنا ثنا اللہ ، عابد شیر علی ،سابق سی سی پی او لاہور شفیق گجر ،ایس ایس پی آپریشنز لاہور رانا عبدالجبار ، ایس پی طارق عزیز سمیت 21افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ۔ڈاکٹر طاہر القادری کو یہ اطلاع ان کے انقلاب مارچ کے دوران دی گئی ، اب یہ حسن اتفاق ہے یا خوش قسمتی کہ طاہر القادری کو دوسرے لانگ مارچ میں بھی دوسرے وز یراعظم کے خلاف اہم عدالتی فیصلے کی خوش خبری ملی۔انہوں نے فوری طور پر سٹیج پر آکر شرکاءمارچ کو خوش خبری سنائی اور مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا گیا ہے۔ اب انہیں مستعفی ہوجانا چاہیے۔اس سے قبل انہیں ان کے 14سے 17جنوری 2013تک جاری رہنے والے پہلے لانگ مارچ کے دوران 15جنوری اطلاع دی گئی کہ اعلیٰ عدالتی فورم نے رینٹل پاور کیس میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔ڈاکٹر طاہر القادری نے ان دونوں خبروں کو لانگ مارچ کے ساتھ جوڑتے ہوئے قوم کو مبارکباد پیش کی اور کریڈٹ لیا۔ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان نے لانگ مارچ کے حوالے سے اپنے اپنے مطالبات پیش کردیئے ہیں۔دونوں کے مطالبات کا مقصد اور منز ل تو ایک ہے لیکن فریقین کے مطالبات کے متصادم ہونے اور کسی ایک فریق کی طر ف سے مطالبات کے مانے جانے یا مذاکرات کے نتیجے میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کئے جانے اور دوسرے فریق کی طرف سے دھرنے پر بضد رہنے کی صورت میں کیا ہوگا۔ یہ سوال ذہنوں میں گردش کرنے لگا ہے۔؟دھرنے کب تک جاری رہینگے۔؟فوج کب تک لاتعلق رہیگی۔ ؟حکومت کی برداشت کی حد کیا ہوگی۔؟ دھرنوں کے شرکاءکی قوت برداشت کہاں تک ساتھ دے سکتی ہے ۔؟ایک دن ، دو دن ، تین دن ، ہفتہ یا پھر۔۔۔۔ یہ وہ سوال ہیں۔ جن پر تبصرے جاری ہیں۔

مزید :

تجزیہ -