پاکستانی ہائی کمشنر کے بیان پر شیو سینا کا منفی رد عمل

پاکستانی ہائی کمشنر کے بیان پر شیو سینا کا منفی رد عمل

بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیم ’’شیو سینا‘‘ نے بھارت سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کو چوبیس گھنٹے کے اندر ملک بدر کردیا جائے۔ ’’شیو سینا‘‘ نے یہ مطالبہ اس بنا پر کیا ہے کہ بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے نئی دہلی میں پاکستان کے جشنِ آزادی کی خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے یوم آزادی کو مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے نام کردیا اور اس یقین کا اظہار کیا کہ نہتے اور مظلوم کشمیریوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کی آزادی تک پاکستان کی طرف سے سفارتی،سیاسی اور اخلاقی مدد جاری رکھی جائے گی۔ آزادی کی جدوجہد پر یقین رکھنے ملکوں کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کا یہ موقف کوئی نیا نہیں۔ ہر دور میں پاکستان کا یہی موقف رہا ہے۔ لیکن ’’ شیو سینا‘‘ کے رہنما سنجے راوت نے اس پر چراغ پا ہوکر مودی سرکار سے کہا کہ ایسے بیانات قابلِ قبول نہیں اور ایسے شخص کو ہم بھارت میں برداشت نہیں کرسکتے۔ عبدالباسط کوفوری طور پر بھارت سے نکال دیا جائے۔

کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور رائے شماری کے حوالے سے پاکستانی حکومت اور سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے جب بھی کوئی اصولی موقف اختیار کیا جاتا ہے تو بھارت سے کبھی مثبت جواب نہیں ملتا بلکہ بھارتی حکمرانوں سے لیکر’’شیو سینا‘‘ جیسی متعصب اور انتہا پسند تنظیمیں منفی ردِ عمل کی انتہا کر دیتی ہیں اور افسو سناک بات یہ ہے کہ عموماً دنیا تماشا دیکھتی ہے۔ حالانکہ انسانی حقوق کے تحفظ اور اصولی موقف کی حمایت کرنے والے ملکوں کی جانب سے اپنا بھرپور کردار کرتے ہوئے بھارتی حکومت کو اس پر مجبور کرنا چاہیے کہ کشمیریوں کو خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں حقِ خودارادیت دیا جائے۔ دوسرے لفظوں میں بھارت نے عشروں پہلے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر کشمیر میں رائے شماری کرانے کا جو وعدہ کیا تھا، اُسے جلد از جلد پورا کیا جائے۔ کاش !اس معاملے میں اسلامی ممالک اور آزادی پر یقین رکھنے والے ممالک مزید بے حسی اور مصلحت پسندی کا ثبوت نہ دیں اور کشمیریوں کی تحریک آزادی کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے بھارت کو حق خودارادیت دینے کے لئے مجبور کریں۔

مزید : اداریہ


loading...