ہسپتالوں کی حالتِ زار

ہسپتالوں کی حالتِ زار

سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس ثاقب نثار نے صحت کے شعبے کی ابتر حالت اور مریض کی جان بچانے والی ادویات کے فقدان کی نشاندہی کرتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اِس بات پر دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں مریضوں کی صحت سے کھیلنے کے لئے گدھ بیٹھے ہوئے ہیں۔ قائم مقام چیف جسٹس نے مریضوں کی جان بچانے کے لئے گیس سلنڈر مہنگے داموں خریدنے پر متعلقہ حکام کی سرزنش کرتے ہوئے چاروں وفاقی ہسپتالوں کے سربراہوں کو آئندہ سماعت پر وضاحت کے لئے طلب کرلیا۔ یہ درست ہے کہ ہسپتالوں میں سہولیات کی فراہمی کی صورت حال افسوس ناک ہے۔ بجٹ دستاویز میں جو فنڈز منظور کئے جاتے ہیں، وہ پوری دیانتداری سے خرچ نہیں ہوتے۔ ناقص ادویات مہنگے داموں خریدنے کا ٹینڈر منظور کر کے اعلیٰ اور با اختیار افسران اپنی جیبیں بھرلیتے ہیں۔ حتیٰ کہ جان بچانے والی ادویات کی خریداری میں بھی ڈنڈی ماری جاتی ہے۔ اِسی طرح دیگر معاملات میں بھی معیار کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ خصوصاً صفائی کی حالت اِس قدر خراب ہے کہ وارڈز آلودگی سے بھرے ہوئے ہیں، بیت الخلاء میں صرف پانی کی بالٹی پھینک کر عملہ صفائی بری الذمہ ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کے رویئے کی شکایت ہمیشہ سنائی دیتی ہے۔ بیشتر سینئر ڈاکٹروں کی دو تین گھنٹے دستیابی کا چرچا تو عام ہے۔ مریضوں سے ہی نہیں، ان کے لواحقین سے چھوٹے عملے کے غلط رویے کی شکایات بھی کم نہیں۔

مزید : اداریہ


loading...