راولپنڈی انتظامیہ و پولیس ویل ڈن

راولپنڈی انتظامیہ و پولیس ویل ڈن
راولپنڈی انتظامیہ و پولیس ویل ڈن

  


اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جشن آزادی پاکستان کی تقریبات بخیر و عافیت اختتام پذیر ہوئیں اور اس مرتبہ اہل پاکستان نے جشن آزادی ایک نئے اور بھرپور ملی جذبے غیر معمولی جوش و خروش اور تزک و احتشام سے منایا ، تمام علاقوں میں شہریوں نے یوم آزادی کی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور حکومتی و نجی اداروں اور شہریوں کی طرف سے یو م آزادی پاکستان کے موقع پر مختلف نوعیت کی تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جس میں زندگی کے ہر شعبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے جوق د ر جوق شرکت کرکے وطن سے اپنی بے پایاں محبت اور عقیدت کا اظہار کیا، ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کی قومی ترقی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جدو جہد اور عظیم قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر ملک کی سلامتی کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والوں کے درجات کی بلندی کے لئے دُعائیں کی گئیں اور وطن عزیز کی ترقی ، خوشحالی ، استحکام اور سا لمیت کے دفاع کے لئے ہر قربانی دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جہاں دیگر حکومتی اداروں کی طرف سے یوم آزادی پاکستان کے موقع پر خصوصی اقدامات اٹھائے گئے تھے وہاں حکومت پنجاب کی طر ف سے جار ی کی گئی ہدایات کی روشنی میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی طرف سے امن و امان قائم رکھنے ، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور جشن آزادی پاکستان کی خوشیاں منانے والوں کو تمام ممکنا سہولیات فراہم کرنے کے لئے سیکیورٹی کے غیرممکن انتظامات کئے گئے، جن کے نتیجے میں اس موقع پر کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

پنجاب میں وزیر اعلی محمد شہباز شریف کی ہدایات پر آئی جی پولیس پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے صوبے کے لئے سیکیورٹی پلان مرتب کیا اور جس طرح پنجاب کے تمام آر پی او صاحبان اور اضلاع میں سی پی او صاحبان کو اپنے علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور سلامتی کے لئے جو لائحہ عمل دیا اس کے باعث اللہ تعالی کے فضل و کرم سے مجموعی طور پر حالات اطمینان بخش رہے اس کا کریڈٹ موثر پولیس مینجمنٹ کو جاتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈ ی کو شہر کی آبادی کے حوالے سے خاص اہمیت حاصل ہے۔ صوبائی دارالحکومت کے بعد راولپنڈی کی گنجان آبادی اور ٹریفک رش کے باعث کسی بھی قومی تہوار یا خاص موقع پر امن و امان اور ٹریفک انتظامات کو بہتر نظم و نسق کے ساتھ جار ی رکھنے کے لئے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ خوشی کے تہوار کے موقع پر مہلک حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ ا س حوالے سے راولپنڈی ڈویژن میں کمشنر راولپنڈ ی عظمت محمود ، آرپی او فخرسلطان راجہ کی سربراہی میں انتظامیہ اور پولیس کی طر ف سے ماہ آزادی کے آغاز سے قبل ترتیب دیئے گئے پلان پر عملدرآمد سے جشن آزادی کے موقع پر جہاں کثیر تعداد میں تقریبات منعقد ہوئیں ، سیاسی جماعتوں کی طرف سے ریلیوں اور جلسے جلوسوں کا اہتما م کیاگیا اور پبلک مقامات پر شہریوں کے غیر معمولی رش اور عوامی دلچسپیوں کی سرگرمیوں کے دوران فول پروف سیکیورٹی کے انتظاما ت کئے گئے، وہاں راولپنڈی میں موٹر سائیکل سواروں کی طرف سے ون ویلنگ کی روک تھام کے لئے جو جامع اقدامات دیکھنے میں سے جو عملی نتائج سامنے آئے ہیں وہ قابل تحسین ہیں۔

راولپنڈی میں گذشتہ چند برسوں کے دوران موٹرسائیکلوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے اور خاص طور پر موٹر سائیکل ریس ، موٹر بائیکس پر کرتب دکھانے اور بائیک رائڈرز کی طرف سے خود ان کی اپنی اور دوسرں کی زندگی خطرے میں ڈالنے کے جو مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں وہ دل دہلا دینے کے لئے کافی ہیں اور اگر اس رجحان کی فوری طور پر روک تھام کے لئے قانون حرکت میں نہ آتا اور انتظامیہ و پولیس کی طرف سے سخت کاروائی نہ کی جاتی تو یہ نتائج حاصل نہ ہوتے جو اس وقت حاصل ہوئے ہیں۔ سی پی او راولپنڈی اسرار احمد عباسی کی سربراہی میں ماہ اگست کے آغاز کے بعد اور بالخصوص 10اگست کے بعد سے پولیس کی طرف سے قانون شکنی کے مرتکب بائیک رائیڈرز کے خلاف گھیرا تنگ کرنے اور چیک پوسٹیں قائم کرکے انہیں قانون کی گرفت میں لینے کے لئے جس پیشہ وارانہ مہارت ،قومی جذبے اور عوامی خدمت کے ساتھ دن رات سڑکوں پر موجود رہ کر طوفا ن بدتمیزی برپا کرنے والوں کو آہنی ہاتھوں لیا اس سے نہ صرف شہریوں کو یک گونہ آرام و سکون حاصل ہوا بلکہ قانون کو کھیل سمجھنے والوں کو بھی سبق حاصل ہوا اور جو عناصر کسی قانون قائد ے کی پروا نہیں کرتے انہیں بھی قانون کے موجود ہونے اور قانون کی عملدرآری کا احساس ہوا۔عوامی رد عمل کے مطابق انہوں نے پہلی مرتبہ یوم آزادی سکون کے ساتھ گزارا اور سڑکوں پر افراتفری دیکھنے میں نہیں آئی۔

پولیس افسران اور جوانوں نے اپنی نیندیں قربان کرکے راولپنڈی کی حصے میں جرائم پیشہ عناصر پر کڑی نظر رکھی اور ایسے افرادکے خلاف مقدمات کرنے کے علاوہ بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں جن کی وجہ سے دوسروں کی روزمرہ زندگی متاثر ہوئی۔ غیر ممالک میں شخصی آزادیوں کے احترام اور انسانی حقوق کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جاتا ہے اور جو کوئی بھی اس کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے اس کے خلاف ضابطے کے تحت کاروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی اب اس طرف توجہ دی جا رہی ہے اورعوامی حلقوں نے اس کاروائی کا خیر مقدم کیا ہے کہ وہ چند افراد جو دوسروں کے لئے مصیبت اور خطرہ بنتے ہیں ان کے خلاف قانونی کاروائی کی جاتی رہے، تاکہ اجتماعی سطح پر اصلاح احوال کا عمل جاری رہے۔ ون ویلرز کی وجہ سے صرف مرمی روڈ پر اب تک کتنی ہی معصوم انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور اس کے ذمہ دار کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

مزید : کالم


loading...