پی ٹی وی لاہور مرکز ’’کھوئے ہووٗں کی جستجو‘‘یوم آزادی سپیشل کی پذیرائی

پی ٹی وی لاہور مرکز ’’کھوئے ہووٗں کی جستجو‘‘یوم آزادی سپیشل کی پذیرائی
 پی ٹی وی لاہور مرکز ’’کھوئے ہووٗں کی جستجو‘‘یوم آزادی سپیشل کی پذیرائی

  

لاہور(فلم رپورٹر)پاکستان ٹیلی ویژن لاہور سینٹرسے یوم آزادی کے موقع پر’’کھوئے ہووٗں کی جستجو‘‘کے خصوصی پروگرام کو ناظرین نے بہت پسند کیا ۔قیام پاکستان کے ابتدائی دورکا ذکر کرتے ہوئے معروف ادیب ،شاعر اور کالم نگارعطاالحق قاسمی نے بتایاکہ آزادی کے بعدامیر غریب سب ایک ہی تعلیمی ادارے میں ایک ہی نصاب پڑھتے تھے، امیر اپنی دولت کی نمود و نمائش نہیں کرتے تھے ۔ امیر غریب سب سادہ زندگی بسر کرنے کے عادی تھے ۔پورے لاہور شہر میں گنتی کے چند بنگلے اور کوٹھیاں تھیں ۔لوگوں کی اکثریت سادہ اور چھوٹے گھروں میں رہتی تھی لوگوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے تھے اور ایک ساتھ دھڑکتے تھے ۔لوگ تکلّف کی بجائے سادہ زندگی کے عادی تھے ۔ مہمان کوبوجھ نہیں بلکہ رحمت سمجھا جاتا تھا۔بڑے بڑے ناموں والے ججز،وکیل اور بیوروکریٹس ہمارے ساتھ لال سرکاری بس میں سفر کرتے تھے ،سب ہی جزبۂ حب الوطنی سے سرشار تھے اور اپنے وطن کیلئے کچھ کرنا چاہتے تھے ۔خود ساختہ دانشور ابرار ندیم کی نا شکری پر عطاالحق قاسمی نے کہا کہ کچھ نا شکرے لوگ ہر وقت روتے رہتے ہیں مگر الحمد و للہ ملک آگے کی طرف جا رہا ہے اور اس کی گواہی عالمی سروے رپورٹس دے رہی ہیں ۔قیام پاکستان سے قبل یا ابتدائی دور میں ریلے کی سائیکل اور ریڈیو کو امارت کی علامت سمجھا جاتا تھا ۔آج جس پاکستان نے بے شمار کنگلوں کو لکھ پتی،کروڑ پتی اور ارب پتی بنا دیا وہ اسے ٹیکس ادا کرنے کو اپنی توہین سمجھتے ہیں ۔ ناظرین کو محظوظ کرنے کیلئے آغا عباس نے ون ویلنگ کرنے والے کھلنڈرے نوجوان کا خاکہ جبکہ اعزاز سہیل نے ملّی نغمہ پیش کیا ۔پروگرام "کھوئے ہووٗں کی جستجو" پروڈیوسر عمر خان کی پیشکش ہے جو بڑی ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور ان کی معاونت مشا عمر خواجہ نے کی ۔

مزید : کلچر