مسلم لیگ (ن)کے کھوٹے سکّے۔۔۔!

مسلم لیگ (ن)کے کھوٹے سکّے۔۔۔!
مسلم لیگ (ن)کے کھوٹے سکّے۔۔۔!

  


حضرتِ قائداعظمؒ نے کبھی نہیں کہا تھا، مگر اُن کی طرف غلط طور پر منسوب کیا جاتا ہے، کہ ’’میری جیب میں چند کھوٹے سکّے ہیں‘‘۔

ایک تو انہوں نے کبھی کہا نہیں، ان کی طبیعت ، اپنے ساتھیوں کے بارے میں اس طرح کی بات کرنے کی بالکل نہیں تھی، دوسرے اُس وقت(تحریک پاکستان کے متحرک لوگ) نہایت مخلص تھے اور انہوں نے جس طرح محنت و اخلاص اور جان جوکھم میں ڈال کر پاکستان حاصل کیا۔ اگر وہ ’’کھوٹے سکّے‘‘ ہوتے تو مملکتِ خدا داد کی صورت، گراں مایہ ’’نعمتِ عظمیٰ‘‘ کس طور خرید پاتے۔۔۔ اُس وقت کے لوگ قربانیاں دینے والے تھے، بعد میں ’’مفاد پرست‘‘ محض اقتدار کے مزے حاصل کرنے کو مسلم لیگ میں شامل ہوتے گئے، گند ڈالتے گئے اور مخلص لوگوں کی راہ کھوٹی کر کے قیام پاکستان کے تقاضوں اور مقاصد پر دھول ڈالتے گئے، ایسے اَنا پرست و مفاد پرست لوگ ہی درحقیقت ’’مسلم لیگ کے کھوٹے سکّے‘‘ تھے کہ جنہوں نے حضرتِ قائداعظم کے پاکستان کے چہرے کو گہنانے کی سازشیں اور کوششیں کیں۔ اگر قائداعظم حیات ہوتے تو ، ان کی کارستانیاں اور کرتوت دیکھ کر ان کو (شائد) اپنی جیب(یعنی اپنی پارٹی) کے کھوٹے سکّے ضرور قرار دیتے۔

حضرتِ قائداعظمؒ نے بے مثال قیادت، بہترین ساتھیوں اور لاجواب تحرک سے دُنیا کے نقشے پر ایک ’’نظریاتی ملک‘‘ کو ابھارا، اس ملک کے قیام(اور حصول) کی خاطر، بے شمار قربانیاں دی گئیں۔ قائد کی قیادت میں لوگوں نے بغیر گھبرائے، اپنی جنم بھومیاں چھوڑ دیں، مال و متاع چھنوا لئے، اپنے پیاروں کی قربانیاں دیں۔ اس مملکتِ خداداد کے لئے اَن گنت سہاگنوں کے سہاگ اُجڑ گئے، بوڑھے تلواروں کی دھاروں پر تڑپتے نظر آئے، بچے نیزوں کی انیوں پر رقص کرتے رہے، ان ماؤں اور بہنوں کی عفتوں کو لوٹا گیا کہ جن کے چہروں کو کبھی آفتاب نے بھی نہ دیکھا ہو گا۔۔۔ نوجوان مستانہ وار مقتل کی طرف بڑھتے رہے کہ حضرتِ قائداعظمؒ کی قیادت بے مثال بھی تھی، لاجواب بھی۔ اس عظیم قیادت پر لوگوں کو ایمان تھا کہ یہ نہایت مخلص قیادت ہے اور ایک عظیم مُلک کے حصول کی بہترین قیادت ہے۔

عظیم قائد کی عظیم پارٹی کہ جس میں اس نعرے کے ساتھ کہ ’’مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ‘‘ لوگ دیوانہ وار شرکت کرتے اور شمولیت کو ایک سعادت، ایک اعزاز سمجھتے تھے۔۔۔۔ آج اُن لوگوں کے ہتھے چڑھ گئی ہے کہ جن کو واقعتا ’’کھوٹے سکّے‘‘ ہی کہنا چاہئے، جو محض اس لئے کہ مسلم لیگی ٹکٹ کے حامل تھے، عوام کے ’’گراں قدر‘‘ ووٹ لے کر اسمبلیوں میں پہنچے تو لوگوں کی عزت و وقار سے کھیلنے لگے۔ عوام کی خدمت کرنے کی بجائے، ان کے لئے مشکلات اور دشواریاں پیدا کرنے میں لگ گئے۔

میاں نواز شریف سے (دورانِ جلا وطنی) ملاقاتیں ہوئیں تو وہ مصمم ارادے کا اظہار فرماتے تھے کہ ’’صرف ان کو ٹکٹ دیا جائے گاجو نکھرے ہوئے، صاف و شفاف کردار کے حامل اور نظریاتی کارکن ہوں گے‘‘۔

بعد کی کئی ملاقاتوں میں بھی ہر دم میرٹ ہی کی بات کرتے رہے ہیں ان کی طرح، ان کے بھائی جناب میاں شہباز شریف کا بھی اعلان یہی ہے، شریف برادران کے شریفانہ بیانات اور شرافت کی اصولی سیاست کے نعرے ہی کا کمال ہے کہ سخت اور گھمبیر حالات میں بھی عوام نے اُن کو بھاری اکثریت سے ووٹ دیئے۔ ان کے ٹکٹ ہولڈز اپنی اپنی ذات کی وجہ سے نہیں، بلکہ محض نواز شریف کی ٹکٹ کی وجہ سے جیتے۔۔۔ شریف قیادت کی ’’شرافت والی اصولی سیاست‘‘ اور ’’باکردار، باشعور نمائندے‘‘ کا بھرم، ٹکٹوں کی تقسیم کے وقت کھل گیا، جب کئی ’’نامی گرامی‘‘ بلکہ ’’بدنام ترین‘‘ لوگوں کو بھی ٹکٹ جاری کر دیئے گئے،

ایک صاحب ہیں جن پر غیر اسلامی مواد تقسیم کرنے کی ایف آئی آر درج ہوئی، جو بھاگ کر بیرون مُلک چلے گئے، وہاں ایک لیگی لیڈر سے رسم و راہ بڑھائی، اُن کی خوب خدمت کی اور بیرون مُلک رہتے ہوئے ٹکٹ لے کر الیکشن لڑنے آ گئے۔ لوگوں نے محض نواز شریف کی ’’شرافت والی بااصول سیاست‘‘ کی وجہ سے ووٹ دیئے اور یہ کہتے ہوئے دیئے کہ ’’ہمیں معلوم ہے یہ بُرے لوگ ہیں، مگر ووٹ شیر کو ہی دینا ہے‘‘۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

اس طرح کے کئی اور لوگ ہیں، کتنوں سے ہم بخوبی آگاہ ہیں کہ جن کو ’’شریف قیادت اور شرافت والی بااصول سیاست‘‘کی وجہ سے ووٹ ملے، مگر وہ اس وقت، عوام اور اپنے ووٹ دینے والوں سے جو ناروا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ ’’نواز لیگ کے ایسے کھوٹے سکّے‘‘ اپنی پارٹی اور قیادت کے لئے(بہرحال) سبکی ہی کا باعث ہوں گے۔

یا تو ان لوگوں نے اپنی روش بدل لی ہوتی ، اپنے ’’سیاہ ماضی‘‘ سے ناطہ توڑ لیا ہوتا، صحیح معنوں میں عوام کے خادم بن گئے ہوتے، لیکن ایسا کہیں دکھائی نہیں دیتا، اُلٹا، ان ’’کھوٹے سکّوں‘‘ نے اور کھل کھیلنا شروع کر دیا ہے، ہر چڑھتا سورج، ان کی نئی کہانیاں اور نئے قصے لے کر طلوع ہوتا ہے، ان کی زبان درازیوں، دراز دستیوں سے عوام تو عوام، خواص تک محفوظ نہیں(بلکہ ان کے اپنے قریبی عزیز و اقارب بھی بچے ہوئے نہیں) قیادت نے توجہ نہ دی تو آنے والے الیکشن میں یہی لٹیا لٹانے اور نیا ڈبونے کے لئے کافی ہیں:

ہوئے تم دوست جس کے

دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟

مزید : کالم


loading...