مِس انفرمیشن اور ڈِس انفرمیشن اورذاتیات

مِس انفرمیشن اور ڈِس انفرمیشن اورذاتیات
مِس انفرمیشن اور ڈِس انفرمیشن اورذاتیات

  

عالمِ ایجادات و اختراعات کی روز افزوں وسعتوں نے عالمی زبانوں کے دامن کی گنجائش سیکڑ کر رکھ دی ہے۔ اس لئے زبانوں کو بھی از راہِ مجبوری ایک لفظ کو بہت سے معنوں میں استعمال کرنا پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج انگریزی زبان کے کئی الفاظ درجنوں صورتوں اور بیسیوں معنوں میں زیرِ استعمال ہیں۔ مثالیں دینے کی ضرورت نہیں، قارئین یہ شعبدہ ہر روز دیکھتے ،سنتے اور پڑھتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں اہلِ زبان نے اپنی لسانی تنگ دامنی کا یہ علاج نکال کر انگریزی کے علاوہ دوسری زبانوں کو بھی اسی اصول پر پھلنے پھولنے کے امکانات فراہم کر دیئے ہیں۔ کسی بھی اسم (Noun) یا فعل (Verb) کے ساتھ کوئی سابقہ یا لاحقہ لگا کر گویا اس کی جنس ہی تبدیل کر دی جاتی ہے۔۔۔ مثلاً لفظ ’’انفرمیشن‘‘کو لے لیجئے۔ انفرمیشن کا لغوی معنی تو انگریزی زبان میں صدیوں تک ’’اطلاعات‘‘ اور ’’معلومات‘‘ تک ہی محدود رہا۔ لیکن دورِ حاضر میں علوم و فنون کے افق اتنی تیزی سے پھیلے کہ اس لفظ کو ’’اصطلاح‘‘ بنانا پڑا۔ مِس انفرمیشن (Miss-information) اور ڈس انفرمیشن (Dis-information) ایسی ہی دو نسبتاً نئی اصطلاحیں ہیں۔ مِس انفرمیشن کا مطلب ہے ’’غلط معلومات‘‘۔۔۔ آپ اگر کسی موضوع کی تشریح کرتے ہوئے کوئی غلطی کر بیٹھتے ہیں، کسی غلط سمت میں چلے جاتے ہیں، کوئی غلط اقدام اٹھاتے ہیں تو اس کو ’’مِس انفارم‘‘ کرنا کہا جائے گا۔ تاہم ایسا کرتے ہوئے آپ کا ارادہ ہرگز نہیں ہوگا کہ آپ کسی فرد کو زبانی یا تحریری طور پر کوئی غلط اطلاع بہم پہنچانا چاہتے ہیں۔ یعنی آپ عمداً اور ارادتاً کسی لفظ یا الفاظ یا موضوع کی غلط تشریح نہیں کرتے۔ اس عمل کو غلط بیانی نہیں کہا جائے گا۔ یہ غلطی اگر آپ سے سرزد ہوئی بھی ہے تو آپ کا ارادہ ایسا کرنے، جھوٹ بولنے یا جھوٹ لکھنے کا نہیں تھا۔

لیکن اگر آپ جان بوجھ کر کسی لفظ کی غلط وضاحت کرتے ہیں اور ایسا کرنے سے آپ کا مقصد کوئی غلط فائدہ اٹھانا ہے، آپ کسی سیدھی سادی بات کو لچھے دار الفاظ میں ڈھال کر سامع یا قاری کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ کوشش ’’ڈِس انفرمیشن‘‘ کہلائے گی۔ اس اصطلاح کا ایک مطلب انفرمیشن کو کیموفلاج کرنا بھی کہلاتا ہے۔ انگریزی زبان میں یہ دونوں اصطلاحیں (Terms) کثرت سے استعمال ہو رہی ہیں۔ مثال کے طور پر آئیے ہم ’’مسئلہ کشمیر‘‘ کے موضوع کو اس تناظر میں ڈسکس کرتے ہیں۔۔۔ اگر آپ تقسیمِ برصغیر کا پس منظر بیان کرکے یہ دلیل لاتے ہیں کہ کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت ملنا چاہیے اور اپنی دلیل کی سپورٹ میں بہت سی بین الاقوامی نظیریں اور مثالیں پیش کرتے ہیں تو ایسی معلومات کو ’’انفرمیشن‘‘ کہا جائے گا۔۔۔ اور اگر آپ برصغیر کی تقسیم کے فارمولے کا کماحقہ احاطہ نہیں کر سکے اور ایک نئی سمت میں نکل گئے ہیں اور اس میں آپ کے ارادے کا کوئی عمل دخل نہیں اور نہ ہی اس سے آپ کا کوئی ذاتی اور گروہی فائدہ مقصود ہے تو اس کو ’’مِس انفرمیشن‘‘ کا نام دیا جائے گا۔۔۔ لیکن اگر آپ تقسیم کے فارمولے کی اصل روح جانتے بوجھتے ہوئے بھی مسئلہ کشمیر کی تشریح و تعبیر ایک ایسے ڈھنگ سے کرتے ہیں جس سے آپ کا مقصود اپنے آپ کو یا کسی اور گروہ یا پارٹی کو ناجائز مالی، مادی یا اخلاقی فائدہ پہنچانا ہے تو اس کوشش کو ’’ڈِس انفرمیشن‘‘ کہا جائے گا۔۔۔آج بھارت اگر یہ دلیل لاتا ہے کہ آزادکشمیر بھی ہمارے کشمیر کا حصہ ہے اور پاکستان، سی پیک (CPEC) کے تحت جو مواصلاتی نیٹ ورک تعمیرکر رہا ہے وہ ’’ہمارے کشمیر‘‘ سے گزرتا ہے تو اس بھارتی بیان کو ’’ڈِس انفرمیشن‘‘ کا نام دیا جائے گا۔ برصغیر ہندو پاک کی تاریخ کا کوئی بھی سنجیدہ طالب علم بھارت کی اس دلیل کو تسلیم نہیں کرے گا خواہ اس کا تعلق بھارت سے ہی کیوں نہ ہو اور خواہ وہ خود کٹرپنڈت ہی کیوں نہ ہو۔ آئے روز ہم یہ بھی پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں کہ خود انڈیا میں بھی آج ایسے ہندو دانشور اور غیر مسلم اہلِ فکر و نظر پائے جاتے ہیں جو کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمائت کرتے ہیں اور پاکستان کے موقف کے قریب قریب چلے جاتے ہیں۔

مِس انفرمیشن کی ایک اور واضح مثال کا تعلق راقم السطور کی ذات سے بھی ہے۔ کل میرے ایک دوست نے فون کیا اور مبارک دیتے ہوئے کہا: ’’جیلانی صاحب! مبارک ہو آپ لیفٹیننٹ جنرل پروموٹ ہو گئے ہیں!‘‘ ۔۔۔ وہ میرے بہت بے تکلف دوست ہیں۔ فرنٹیئر کور بلوچستان میں (بطور ینگ کیپٹن) ہم دونوں نے بہت اچھا وقت گزارا۔ آج کل پنڈی میں مورگاہ آفیسرزکالونی میں رہتے ہیں اور ایک فلاحی ادارے کی انتظامیہ کے سرگرم کارکن بھی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’’میں آپ کا کالم انٹرنیٹ پر پڑھ لیتا ہوں۔ لیکن آج جب روزنامہ پاکستان کی ویب سائٹ کھولی تو کالم تو آپ ہی کا تھا، نام بھی آپ ہی کا لکھا تھا اور رینک بھی آپ ہی کا درج تھا لیکن اس پر جو رنگین تصویر لگی ہوئی تھی وہ ان جنرل جیلانی صاحب کی تھی جو برسوں آئی ایس آئی کے سربراہ رہے اور پھر پنجاب کے گورنر رہے ۔ لاہور میں ’’جیلانی پارک‘‘ انہی کی یادگار ہے۔ یہ سن کر میں نے بھی نیٹ کھولا تو دیکھا کہ کالم میرا ہے، نام بھی میرا ہے لیکن تصویر لیفٹیننٹ کرنل جیلانی کی نہیں، لیفٹیننٹ جنرل جیلانی کی لگی ہوئی ہے!

’’اردو کالم‘‘ کے نام سے بہت سی Apps’’پلے سٹور‘‘ میں پائی جاتی ہیں۔ ان کو اپنے موبائل پر اپ لوڈ کریں اور میرا کالم دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ واقعی یہ غلط فہمی میڈیا والوں سے سرزد ہوئی ہے۔ میرا کالم اپ لوڈ کرنے والوں کا مقصد نہ تو میری تعریف یا تضحیک تھی اور نہ ہی ان کا کوئی ذاتی مفاد تھا۔ صرف نام کی مماثلت کا دھوکا ہوا جو شائد مشینی دھوکے کے ضمن میں شمار ہو! جس سے کام خراب ہوا۔۔۔ یہ خرابی پہلے بھی کئی بار میرے ساتھ ہو چکی ہے۔۔۔ پہلا واقعہ ’’دونوں جیلانیوں‘‘ کے روبرو پیش آیا۔ وسط 1975ء میں میری پوسٹنگ آئی ایس آئی ڈائریکٹوریٹ اسلام آباد میں ہوئی تو میں اس وقت کیپٹن تھا اور بالکل نہیں جانتا تھا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جن کا نام میرے نام کے ساتھ ملتا جلتا ہے ، کون ہیں۔ شائد ایک دوبار ان کو پفرز ری یونین میں سنا تھا اور بات صرف سلیک علیک تک محدود تھی۔ فوج میں جب آپ کی پوسٹنگ بطور آفیسر کہیں بھی ہوتی ہے تو آپ کا انٹرویو اس فارمیشن /ادارے/براپخ/ یونٹ کے سربراہ سے کروایا جاتا ہے۔ آئی ایس آئی میں پوسٹنگ کے ایک ہفتہ بعد میرا انٹرویو بھی حسبِ روائت ادارے کے سربراہ (ڈائریکٹر جنرل) سے ہوا۔۔۔

میں ان کے دفتر میں داخل ہوا، ایک سمارٹ سلیوٹ کیا تو انہوں نے اپنے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں بیٹھا ہی تھا کہ ان کی نظریں میری نیم پلیٹ پر آ کر گڑ گئیں جس پر JILANIلکھا ہوا تھا۔ میں بھی ان کی وردی کی دائیں جیب کے اوپر لگی نیم پلیٹ دیکھ رہا تھا۔ اس پر بھی JILANIلکھا ہوا تھا۔۔۔ انٹرویو شروع ہوا تو جنرل صاحب نے پوچھا۔

How do you spell your name?

(آپ اپنے نام کے ہجے کیا کرتے ہیں؟)

میں نے جواب دیا

Same like you sir!

یہ سوال انہوں نے اس لئے کیا تھا کہ ایک توJILANIکو GILANIیا JEELANIبھی لکھا جاتا ہے اور دوسرے جیلانی کے ساتھ’’خان‘‘ گویا انمل بے جوڑ سا حصہ لگتا ہے ۔وجہ یہ ہے کہ گیلانی تو 100 فی صد قبیلہء سادات سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ میرا نام ’’غلام جیلانی خان‘‘تھا۔ یعنی جیلانی کا غلام، یعنی سادات کا غلام۔۔۔ اور ساتھ ہی والد صاحب نے اپنی خان صاحبی کا اظہار کرنے کے لئے ’’خان‘‘ کا لاحقہ بھی میرے نام کے ساتھ لگایا ہوا تھاکہ کوئی مجھے ’’شاہ‘‘ نہ سمجھ بیٹھے۔ میرے پورے نام کے سپیلنگ وہی تھے جو میجر جنرل غلام جیلانی خان کے نام کے تھے ۔۔۔ اور یہ محض اتفاق تھا!۔۔۔

انہوں نے دوسرا سوال کیا:

Have you done any intelligence staff Course?

(کیا آپ نے کوئی انٹلی جنس سٹاف کورس کر رکھا ہے؟)

’’No sir ‘‘میں نے جواب دیا

The same like me

ان کا تبصرہ تھا۔

پھر ملازمت کے دوران مرحوم جنرل جیلانی سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ بڑے ہنس مکھ، چین سمو کر اور کئیر فری آفیسر تھے۔ خدا وند کریم ان کی روح کو بخشے۔۔۔

دوسرا واقعہ جنرل صاحب کی وفات پر پیش آیا۔ میں اس وقت فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد لاہور میں آبسا تھا۔ ایک دن فون کی گھنٹی بجی۔۔۔ میری مرحومہ اہلیہ نے فون اٹھایا تو ایک خاتون بول رہی تھی:’’بہن! بہت افسوس ہے آپ کے میاں کی وفات کا۔ اللہ کریم ان کو بہشت میں جگہ دے اور آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے‘‘۔۔۔ یہ سن کر میری اہلیہ رونے لگیں بلکہ بے ہوش ہو گئیں۔ جب ہوش آیا تو بچوں کو بھی ان کے والد کی اچانک ’’وفاتِ حسرتِ آیات‘‘کی خبر سنائی اور پھر دوبارہ بے ہوش ہو کر گر پڑیں۔ گھر میں کہرام مچ گیا۔ آس پڑوس کے لوگ اکٹھے ہوگئے اور میری لاش کا انتظار کرنے لگے۔ ان کو شبہ تھا میرا ایکسڈنٹ ہوگیا ہے۔ اتنے میں ،میں بھی آگیا۔ آہ وزاری اور ماتم کی فضا دیکھ کر ماتھا ٹھنکا کہ کسی عزیز کی وفات ہو گئی ہے۔ لیکن جب بچوں اور محلے کی خواتین نے مجھے دیکھ کر باچھیں کھلارنا شروع کیں اور پھر ٹیلی فون کا واقعہ سنایا تو میں نے ایک لمبی سی’’ ہوں ںںںں‘‘ کی اور سمجھ گیا کہ کسی نے ٹیلی فون ایکس چینج سے جنرل جیلانی کے گھر کا فون نمبر مانگا ہوگا تو اس بھلے مانس نے جنرل جیلانی کی جگہ کرنل جیلانی کا فون نمبر دے دیا۔۔۔ اس کے بعد بھی کئی دنوں تک جیلانی کی وفات کے فون آتے رہے!

اسی طرح کا ایک اور واقعہ کرنل گیلانی اور کرنل جیلانی کے ناموں کے اشتباہ سے متعلق ہے۔ جنرل گل حسن نے اپنی کتاب Memoirsکے اردو ترجمے کے لئے جنرل کے ایم عارف سے پوچھا کہ آپ کی کتاب کا اردو ترجمہ جس کرنل جیلانی نے کیا ہے ان سے میری کتاب کا ترجمہ بھی کروا دیں۔ جنرل عارف نے MSبرانچ GHQ کو فون کیا کہ کرنل جیلانی کو جنرل گل حسن کے ہاں بھیج دیں۔ انہوں نے کرنل جیلانی کی جگہ کرنل گیلانی کو بھیج دیا۔ لیفٹیننٹ کرنل ایم اے گیلانی بھی ایک اچھے لکھاری ہیں۔ انہوں نے Memoirsکا ترجمہ کیا تو چونکہ گیلانی صاحب اس فیلڈ کے آدمی نہیں، اس لئے ان کا ترجمہ پبلشر کو قابل قبول نہ تھا۔جنرل گل حسن زیادہ اردو نہیں جانتے تھے۔ چنانچہ جب پبلشر نے انکار کر دیا تو پھر پتہ چلا کہ جیلانی کی بجائے گیلانی نے یہ ترجمہ کیا ہے جو ناقابلِ اشاعت ہے۔ بعدازاں مجھے جنرل گل حسن کا فون آیا اور میں ان سے آرٹلری میس، راولپنڈی میں جا کر ملا۔ انہوں نے مجھے کرنل گیلانی کے ترجمے کی اصلاح (Correction) کے لئے بہت زور دیا۔ لیکن میں نے ان سے کہا کہ یہ ترجمہ ’’ناقابلِ اصلاح‘‘ ہے۔ میں نے نئے سرے سے ترجمہ کرنے کی حامی بھرلی۔۔۔ لیکن یہ بیل پھر بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔

تفنن برطرف! پاکستانی میڈیا کے اکثر میڈیا مینجروں کے ہاں فوجی افسروں کے رینک میں امتیاز کرنے کی کوئی روائت موجود نہیں۔ یہی حال یونٹوں اور فارمیشنوں کے سٹیٹس کا بھی ہے۔ لوگ پلاٹون اور پلٹن کو ایک سمجھتے ہیں اور رجمنٹ، بٹالین، کمپنی، سکواڈرن، ڈویژن اور کور وغیرہ کے درمیان فرق سے انہیں کوئی شناسائی نہیں۔۔۔ یہ سب واقعات، حادثات اور معلومات صرف مِس انفارمیشن کی ذیل میں شمار ہوں گی، ڈِس انفرمیشن نہیں کہلائیں گی!۔۔۔ ڈِس انفرمیشن تب ہوگی جب ارادی طور پر کسی مفاد کی خاطر، غلط بیانی سے کام لیا جائے اور جھوٹ کو سچ کی یونیفارم میں کیموفلاج کردیا جائے !

مزید : کالم