تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے،بیگم ذکیہ شاہنواز

تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے،بیگم ذکیہ شاہنواز

لاہور(خبرنگار) وزیر ہائر ایجوکیشن بیگم ذکیہ شاہنواز نے کہا ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے اور ہمیں مل کر ملک دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے ۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے زیراہتمام پاکستان نیشنل فورم کے اشتراک سے یو مِ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں ’’قائد اعظم کا تصورِ پاکستان ‘‘ کے موضوع پرالرازی ہال میں سیمینار سے خطاب کر رہی تھیں۔ اس موقع پر سا بق چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس ریاض احمد شیخ ، سابق چیف جسٹس وفاقی شریعت کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ جسٹس میاں محبوب احمد، وزیر برائے اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو، سابق وفاقی وزیر قانون ایس ایم ظفر،سابق سپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام،مشیر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کرنل (ر) اکرام اللہ خان،ودیگرنے شرکت کی۔ ذکیہ شاہنوازنے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کا مستقبل ہیں اور اس کی تر قی و خوشحالی کے لئے دیکھے گئے خواب تبھی پورے ہوں گے جب سب مل کر کام کریں گے۔

خلیل طاہر سندھو نے کہا کہ اختلاف رائے موت کا سبب بن جانا ہمارے ملک کا المیہ ہے۔

۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتیں پاکستان کے ساتھ کھڑی ہیں اور اس کی عزت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سیمینار وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ نوجوان نسل کو مسائل سے آگاہ رکھاجاسکے۔ جسٹس ریاض شیخ نے کہا کہ قائد اعظم ہر شخص کو مکمل مذہبی آزادی دینے کے حامی تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آزادی کا سنتے ہی لوگ واہگہ پر تالے توڑ تے اور سجدے کرتے آگے بڑھتے گئے اورکچھ لوگ آج تک حرص اور لالچ کیلئے تالے ٹوڑ رہے ہیں۔ جسٹس (ر) میاں محبوب احمد نے کہا کہ اقلیتوں کو جتنے حقوق پاکستان میں ملے ہیں آج تک کسی سیکولر ملک نے نہیں دیئے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو آگے لے کر جانا ہے تو قائد اعظم کے نظریات پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔ ایس ایم ظفر نے کہا کہ آج کا پاکستان قائداعظم کے تصورات کے مطابق نہیں کیونکہ وہ سیاست کو عبادت سمجھتے تھے جبکہ آج سیاست ایک تجار ت ہے۔ لیکن ایک اچھی بات یہ ہے کہ آج کا پاکستان 1947ء کے پاکستان سے زیادہ بہتر اور مضبوط ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مایوسیوں کی جانب دیکھنے کا وقت نہیں بلکہ نوجوانوں میں امید کی شمعیں روشن رکھنے کاوقت ہے ۔ سید فخر امام نے کہاکہ ہم نے پارلیمنٹ کو صحیح طور پر نہیں چلایا کیونکہ جب ہم حکومتوں میں ہوتے ہیں تو سچ نہیں بولتے ۔ انہوں نے کہا کہ’’ جواب دہی‘‘ اور’’ جواب طلبی‘‘ جمہوریت کا حسن ہے اور آزادی اظہارِ رائے پارلیمنٹ کا سب سے بڑا ہتھیا ہے۔خواجہ محمد ذکریا نے کہا کہ ہر لحاظ سے مستحکم وطن قائد اعظم کے تصورات میں تھا یعنی جہاں سب کی عزت نفس محفوظ ہوگی ، انصاف پر مبنی معاشرہ ہوگا اور ترقی کے مساوی مواقع مہیا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کے مالی طور پر مضبوط ہونے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ حکومتیں جاری اقتصادی منصوبوں کو نہیں چھیڑا کرتی تھیں۔ خواجہ راحت لطیف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو حل نہ ہونے دینا بھارت کا مشن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے نیشنل ایکشن پلان کے تمام 20پوائنٹس پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔ خورشید احمد نے کہا کہ ہمیں مل کر قائد اعظم کے تصورات کی حفاظت کرتے ہوئے ملک کو ترقی کی جانب گامزن رکھنا ہے۔ کرنل (ر) اکرام اللہ خان نے کہا کہ ہم 70سال میں پاکستان کو ایسی جدید فلاحی و اسلامی ریاست بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے جس کا تصور قائد اعظم نے پیش کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں سے ہم حالتِ جنگ میں ہیں مگر ہمیں اس کا ادراک کم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن و خوشحالی کیلئے ہمیں اندرونی طور پر مضبوط ہونا پڑے گا۔ ڈاکٹر لیاقت علی نے شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سیمینار سے ملنے والی معلومات طلبہ کیلئے مفید ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 4


loading...