اے اقوامِ شرق

اے اقوامِ شرق

شور، دھواں، آہیں، کالے کوٹ ، سرخ رواں لہو، خاک و خون میں لتھڑے تڑپتے جواں لاشے۔ کوئٹہ میں وکلا برادری کے عین درمیان خود کش دھماکہ ہو گیاتو وہ ہوا کے دوش پر اُڑتی ہوئی وہاں پہنچی۔۔۔ ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں۔ وہ دیوانہ وار اِدھر اُدھر پتھرائی آنکھوں سے دیکھتی رہی۔ پھر وہ بھاگنا شروع ہو گئی۔ وہ بھاگتی رہی۔ بھاگتی رہی آخر مُنہ کے بل گری اور اسے کوئی ہوش نہ رہا۔ اپریل1919ء یہ جنرل ڈائر کے آدمی تھے۔ انہوں نے ایک زور دار ٹھوکر ماری تو وہ اُٹھ کھڑی ہوئی اور جان بچانے کے لئے پھر بھاگنا شروع کر دیا۔ اس کے ساتھ زیادہ تر مسلمان ہی تھے، لیکن ہندو اور سکھ بھی ساتھ بھاگ رہے تھے۔ جیسے ہی وہ جلیانوالہ باغ کے مشرقی دروازہ پر پہنچی۔ ڈائر کے صرف پچاس مقررہ کردہ آدمیوں نے آگ و خون کا کھیل کھیلنا شروع کر دیا۔ لاشوں پر لاشیں گرنے لگیں۔ پندرہ ہزار کا مجمع تھا جسے تنگ دروازے کی طرف دھکیل دیا گیا۔ میری قوم کے ہیرے خون میں لتھڑے تڑپ رہے تھے۔ وہ اپنے ہی گھر میں غیر کے ہاتھوں لہو لہو ہو گئے اور وہ لاشوں میں دفن ہوتی چلی گئی۔ ڈائر کے آدمیوں نے پھر ٹھوکرماری اور وہ لوگوں کے درمیان بھاگتی بھاگتی ایک تنگ راستے کی طرف چلتی، اس کے ساتھ اس کی قوم کے بہت سے لوگ تھے۔ وہ چلتے رہے ٹھوکریں کھاتے گرتے پڑتے۔ پھر اس نے اپنے گرد جنازے بھی دیکھے۔ سب سے آگیعقائد کا جنازہ تھا۔ ساتھ ساتھ تہذیب،تاریخ، زبان سب کے جنازے ساتھ ساتھ چلتے جا رہے تھے آخر کار وہ ایک تنگ و تاریک قید خانہ میں دھکیل دی گئی۔ اس قید خانے میں کئی تہہ خانے تھے اس بے بسی کے عالم میں وہ لڑھکتی ہوئی قید خانہ کے آخر میں جا گری۔ اس کا جسم ڈائر کی ٹھوکروں اور اپنی قوم کے رگیدنے سے چُور چُور تھا اور باہر لوگ اس کی قوم سے خون کی ہولی کھیل رہے تھے۔ یہ تو1919ء تھا۔ اس کے دماغ نے بے ہوش ہوتے ہوئے دیکھا 1857ء میں بہادر شاہ کو ’’دو گز زمین‘‘ سے بدر کر کے ہڈسن نے شہزادوں کو ذبح کر دیا اور بخت خان کے ساتھ برصغیر کا بخت لپیٹ دیا۔ وہ سُن دماغ۔ نیم بے ہوش پڑی رہی۔ برسوں بیت گئے۔ اس کے زخمی جسم کی زخمی رُوح ابھی تک کانپ رہی تھی، لیکن نہاں خانہ میں مہربان قدرت کی سرگوشی زندہ تھی۔

پھر اس کے زخم بھرنا شروع ہو گئے اور اسے احساس ہوا اس قید خانے میں اور بھی لوگ ہیں، کئی اس کرب میں تھے جن سے وہ چھٹکارا پا چکی تھی۔ شاید وہ اقوام شرق کا طلوع ہونے والا سورج تھی۔ دوسرے قیدی شور و غوغا کر رہے تھے۔ وہ لوگ تو مانوس تھے، لیکن ان کی زبان نامانوس تھی۔ اس نے سمجھنے کی کوشش کی، لیکن یارِ من ترکی و ترکی نمی دانم۔ ساتھ والے سیل سے عربی کی آوازیں آ رہی تھیں۔ پھر اس پر کربناک حقیقت آشکار ہوئی کہ اس ذہنی کرب کے دور میں ذہنی انحطاط سے گزرتے ہوئے وہ بالکلisolate ہو چکی ہے۔ ذہنی انحطاط کی اِس دلدل میں وہ اکیلی نہ تھی، ترکی، عربی، ایرانی، شامی۔ عراقی سب اپنے اپنے سیل میں اپنی اپنی کوششوں میں شاداں و فرحاں تھے۔ ہر ایک نے اپنے سیل پر قفل لگا رکھے تھے۔ تعصب کے قفل جوپرانے اور زنگ آلود ہو چکے تھے اور محبت کی کنجی کھو چکی تھی۔ قید خانہ میں قحط الرجال تھا۔ جب پاؤں میں غلامی کی زنجیریں ہوں تو ذہنی صلاحیتوں کی کنجی عیش کدوں میں دَب گئی۔ یوں علم و ہنر۔ محبت اور محنت برسوں کے لئے کھو گئے۔

ساتھ کے سیل میں ایک تاریخ دان تھا۔ اس کی زبان اگرچہ مہم سے بالاتر تھی، لیکن باتیں مانوس، شاید کسی شاندار سلطنت کی ماضی کی باتیں۔ وہ سلطنتِ عثمانیہ کا ذکر کرتا رہا اور اس کی رُوح اس سے بالیدگی حاصل کرتی رہی۔ پھر اس تاریخ دان نے برصغیر کی حکومت کا بھی ذکر کیا، جس سے اس کا دِل باغ باغ ہو گیا۔ اسے لگا وہ خود تاریخ کے اس حصے کی مالک ہے۔ اس ذکرِ ماضی نے اس کی رگوں میں تازہ خون دوڑا دیا اور وہ اپنے کو زندوں میں شمار کرنے لگی۔ اس کے ساتھ والے سیل میں ایک بے رحم فلاسفی تھا۔ اس نے ایک لمحہ میں اس کی خوشی کو غم میں بدل دیا۔ بقول اس کے یادِ ماضیnaustalgiaاس طرح ماضی میں زندہ رہنا۔۔۔ پدرم سلطان بُود، تو تم کیا ہو؟ قید خانہ سے نکلو۔۔۔ دیکھو آئن سٹائن نے (E=mc2) کا فارمولا بنا دیا اور دُنیا نے عیسائی۔ ہندو اور یہودی ایٹم بم بنا ڈالے۔ اور تم ابھی بندوق لے کر ایٹم بم کا مقابلہ۔

فلاسفر کا یہ درست تجزیہ اسے اچھا نہ لگا اور اشکوں کی برسات سے دُکھوں کو دور کرنے لگی۔ اس اشک شوئی سے اس کا غم ہلکا ہُوا تو اس کی قوتِ ارادی بڑھ گئی۔ اس نے زخموں کی پروانہ کرتے ہوئے اپنی ٹانگوں پر کھڑے ہونے کی کوشش کی اور استعجاب اور خوشی سے وہ جس چیز سے جا ٹکرائی وہ ایک زنگ آلود سیڑھی تھی۔ وہ خوشی سے پکاراُٹھی اور اس کی پکار بڑے بڑے ایوانوں میں سُنی گئی۔ اگرچہ یہ پکار لوٹ آئی اور وہ آزادی نہ پا سکی، لیکن وہ خوش تھی کہ اسے سیڑھی مل گئی ہے۔ مہربان قدرت کی سرگوشی نے مہمیز لگائی اور وہ سیڑھیاں چڑھتی چلی گئی۔ قید خانے سے باہر جانے کے کئی دروازے تھے۔ وہ جنرل ڈائر کے ہرکاروں کو دیکھ کر حیران ہو گئی۔ وہ اپنی ہی قوم کے مانوس لوگ بالکل ڈائر کے آدمیوں کے مثل تھے۔ وہی لباس، وہی لہجہ، یہ ڈائر کے آدمی ہیں یا اس کے ہم قوم؟ وہ پہچان نہ سکی، لیکن انہوں نے دروازے پر قفل لگائے تھے اور دروازے سے گزر کر آزادی کا حصول ناممکن تھا۔ ساتھ ہی دوسرا دروازہ تھا۔ وہاں پر باریشلوگ کھڑے تھے۔ وہ ادھر لپکی، تو دیکھا اس باریش کا مُنہ تو مغرب کی طرف ہی تھا اور خلق خدا دیوانہ وار اس کے قدموں کو بوسہ دے رہی ہے۔ لوگ مزاروں کی چادریں لئے شاداں و فرحاں ناچتے ہوئے جا رہے تھے۔ کیا مَیں اس قوم سے ہوں؟ قدرت کی مہربان قوت، جو اس کے نہاں خانوں میں سرگوشی کر رہی تھی، اس بات کی اجازت نہ دی کہ وہ اس دروازے میں داخل ہو جائے۔ ابھی وہ گو مگو کے عالم میں تھی کہ ایک ہجوم اسے رگیدتا ہوا دھکیل کر ایک طرف لے گیا۔ اس ہجوم میں سینے پر کراس بناتے جینٹلمین بھی تھے اور آلِ موسیٰ کے داڑھی والے شیروانیاں اور ٹوپی پہنے لوگ تھے۔ معلوم ہوا آلِ موسیٰ نے دنیاوی تزک و احتشام ترک کر کے اپنی نشاۃ ثانیہ کے لئے کوشش شروع کر دی ہے، لیکن اپنی ہٹ دھرمی اور دِلوں پر مُہر ہونے کے باعث انہوں نے کانگریس میں عیسائیت کو جکڑا ہُوا ہے۔ اب ساری تاریخ کے مالک وہی ہیں۔ صرف وہی۔ تاریخ کے صفحات سے خوارزمی، جابر، تاریخ کے دھندلکوں میں کھو گئے۔

ساری دُنیا کے لوگ اپنے اپنے ملکوں میں ’’ملکہ حسن‘‘ منتخب کرنا گویا فرضِ عین سمجھتے ہیں، لیکن آلِ موسیٰ حجاب و ٹوپی کے وارث۔ نہ ملکہ حُسن کی دوڑ، نہ کرکٹ کی کرپشن اس ہجوم نے اسے اس طرح رگیدا کہ اس کے پرانے زخموں سے خون رسنے لگا اور وہ ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگی۔ ساتھ کے سیل سے ایک شاعر نے جھانکا۔ علامہ کو ملت کے غم نے خون کے آنسو رُلا دیا۔ شاعر کے رواں آنسوؤں کی جھڑی سے اس کے دِل کا جہنم بجھنے لگا، لیکن قید سے رہائی کی صورت نہ بنی۔ لفظ’’ نشاطِ ثانیہ‘‘ لفظ ہی رہا، لیکن اس کا تخیل بہت بلند ہو گیا۔ وہ تخیل میں پرواز کی مشق کرنے لگی۔ اس کے قویٰ مضبوط ہو گئے۔ بال و پر اسے اڑنے کی قوت مہیا کرنے لگے، جسمانی طور پر اس کا قائد نحیف و ناتواں نظر آتا تھا، لیکن نگاہ بلند سخن دلنواز، جاں پُرسوز ہی ہے رختِ سفر اور اسی رختِ سفر سے بلند پرواز سے قدرت کی مہربان قوت سے جا ٹکرائی۔ وہ آسمان پر محوِ پرواز بادلوں میں سفر کرتی ہوئی ہمالہ کی چوٹیاں سر کرتی ہوئی عجائباتِ ماورا دُنیا میں داخل ہو گئی۔ اس کے تخیل کی پرواز اس قدر بلند تھی کہ خود مہربان قدرت سے ہم کلام ہو گئی۔ آزادی کی اس پرواز میں اس نے سورج کی مہربان سونے کی کرنوں کو زمین کی طرف جاتے دیکھا، جو زمین سے سبزہ نکالنے اور زندہ چیز کے زندہ رہنے کے لئے ناگزیر تھیں، سورج کیوں اپنی کرنوں کے اس سفر کے لئے مجبور ہے؟ مہربان قوت نے جواب دیا۔ یہ مجبوری نہیں، محبت ہے۔ یہ سورج کی زمین سے محبت ہے۔ زمین اس کے جلتے آلاؤ کا حصہ تھی، الگ ہو گئی تو کیا۔۔۔ مدتیں گزرگئیں تو کیا؟ محبت تو محبت ہے سورج اپنی لامتناہی محبت زمین پر لٹاتا رہے گا۔ تآنکہ یہ دوبارہ اس سے جا ملے یا سورج ٹھنڈا پڑ جائے۔اور مَیں؟ مَیں درد کے احساس سے کراہ اُٹھی کیا محض ایک مخلوق ،جو حادثاتی طور پر زمین کی روئیدگی کی طرح اس پر پیدا ہوئی اور پھر ارتقاء کے مراحل طے کرتی ہوں انسان کے نام پر فائز ہو گئی۔ زمین کے فنا کے ساتھ میرا فنا؟

ہاں ڈارون نے ہی تو کہا ہے۔ کیسی تکلیف دہ بات ہے؟ سورج کی کرنیں امڈتی محبت اور مَیں محض ارتقائی مخلوق مہربان قوت نے جب سرگوشی کی تو وہ سرمست ہو کر جھوم اُٹھی۔ تُم،احسن المخلوق۔ ایک اکائی۔ ایک لازوال محبت کی اکائی۔ جسے کوئی فنا نہیں۔ مَیں نے اپنی اپنی پہچان کے لئے تمہیں زمین کی طرف بھیجا۔ پھر سورج اور زمین کے مابین محبت ڈال دی۔ تاکہ تمہاری پرورش ہو اور تم میری محبت میں گرفتار رہو۔ لیبلوکم احسن عملاً۔ پھر جو خالص ہو کر میری طرف لوٹ کر آئے تو میری خاص جگہ اس کا ٹھکانہ ہو گا۔لیکن۔۔۔ قدرت نے ایک اور سرگوشی کی۔انسان ابھی انسانیت کی معراج کو نہیں پہنچا۔ انسان اپنی محبت کی ارتقائی منازل طے کر رہا ہے۔

تم نے ابھی محبت کا مفہوم نہیں جانا۔

تم محبت کے لئے ایک ہی کاسہ لیے پھرتے ہو۔جبکہ کئی کاسۂ محبت تشنہ کام ہیں۔ انسان کی محبت ابھی ارتقائی منازل طے کر رہی ہے۔خود انسان اس کی جہتوں سے ناآشنا تھا۔ٹھنڈی ہوا، برستی رجم جھم بارش، بادلوں کی آنکھ مچولی، بہتا ہوا پانی، مثلِ محبت ہیں، دھواں ، بارود، آگ، خون میں لتھڑے لوگ، نفرت کی چنگاری کے کھیل ہیں۔ تری محبت ابھی اتنی پختہ نہیں ہوئی کہ نفرتوں کی چنگاری کو بجھا دے۔ اے اقوامِ وسط۔۔۔ اے اقوامِ شرق۔ اپنی محبت کو فضاؤں میں تحلیل کر دے۔ دُنیا کے کونے کونے میں اِس طرح پہنچ جاؤ، جیسے سُورج کی کرنیں آسمانوں کی وسعتوں سے زمین میں اُترجاتی ہیں۔ نفس کی قید، جاہ و مال کی قید اور اس قید خانہ سے چھٹکارا حاصل کر۔ لفظ نشاطِ ثانیہ کو عملی جامہ پہنا۔ دیکھ مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے۔ اُسے ہوش آیا تو وہ کوئٹہ کے ہسپتال کے باہر لمبی لائن کے پاس کھڑی تھی۔ یہ سب لوگ انسانیت سے محبت کے نام پر زخمیوں کو خون دینے کے لئے کوشاں تھے۔ وہ اُٹھی۔ دل شکستہ تھی لیکن شکستہ پا نہ تھی۔ اس راہ حق پہ سدھار جانے والے لوگوں کو شہادت کی مبارک اور پس ماندگان کو پُرسہ دینے کے لئے حوصلہ اور الفاظ ڈھونڈنے چلی۔

مزید : کالم