بھارت نے بلوچستان کے لئے طبل جنگ بجا دیا

بھارت نے بلوچستان کے لئے طبل جنگ بجا دیا
 بھارت نے بلوچستان کے لئے طبل جنگ بجا دیا

  


یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ نریندر مودی کی تقریر پاکستان کی جیت ہے یا ہار۔

کیا پاکستان نے بھارتی وزیر اعظم کو اس قدر دیوار سے لگا دیا کہ وہ اپنا اصل رنگ دکھانے پر مجبور ہوگئے ۔

یا بھارت نے پاکستان پر مشرقی پاکستان کی طرز پر پاکستان کے خلاف دوسرا حملہ کرنے کی تیاری کر لی ہے۔

نریندر مودی کی تقریر کیا کوئی نئی بات تھی۔ کیا پاکستان کے لئے کوئی نیا پیغام تھا۔

کیا نریندر مودی پاکستان کی جانب سے پاکستان کے کشمیر کے لئے جارحا نہ رویہ کی وجہ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔

کیا بھارت کی جانب سے بلوچستان پر فوکس دراصل چین کو پیغام ہے کہ وہ سی پیک کو ہر قیمت پر نا کام کرے گا۔

کیا بھارت کو بلوچستان کے حوالہ سے اپنے منصوبوں میں امریکہ و دیگر مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے۔

بھارت کی جانب سے بلوچستان پر فوکس کے اعلان کے بعد پاکستان کی سیاسی قیادت اور اسٹبلشمنٹ کو کیا کرنا چاہئے۔

کیا بھارت پاکستان کے ساتھ ایک دفعہ پھر تناؤ کی صورتحال پیدا کرنا چاہتا ہے۔

کیا بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔

کیا پی آئی اے کے جہاز کو بھارت کی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کی ہدایت مزید ایسے اقدامات کی طرف نشاندہی ہے

کیا بھارت کے ساتھ مواصلات اور دیگر رابطے ایک مرتبہ پھر بند ہونے جا رہے ہیں۔

کیا مودی کو پاکستان کے خلاف بھارت کے اندر سے حمایت حا صل ہو جائے گی۔

کیا بھارت نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کو بھارت سے نکال دے گا۔

کیا پاکستان اور بھارت کے سفارتی تعلقات خطرے میں ہیں۔

کیا سارک کانفرنس میں بھارت کے وزیر خزانہ کی عدم شرکت بھارت کا سوچا سمجھا فیصلہ ہے یا صرف ایک رد عمل ۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی کشمیر گلگت بلتستان اور بلوچستان کے حوالہ سے تقریر نے صرف پاکستان ہی نہیں، بھارت کے اندر بھی ایک بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان کے اندر ایک ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ مودی کو اپنی اس تقریر پر ہندوستان کے اندر سے بھی حمایت نہیں ملی۔ پاکستانی میڈیا ایسے چند بیانات چلا کر ایک ماحول بنا رہا ہے جیسے ہندوستان میں مودی کو بہت تنقید کا سامنا ہے۔

لیکن کیا بلوچستان کے حوالے سے بھارت کے ڈیزائن صرف مودی کے ڈیزائن ہیں۔ کیا یہ بھارت کی اسٹبلشمنٹ کے ڈیزائن نہیں ہیں۔ جب بھارت میں کانگریس کی حکومت تھی تو کیا بھارت بلوچستان میں اپنے منصوبوں پر عمل نہیں کر رہا تھا۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ کانگریس کے دور حکومت میں بھی را بلوچستان میں دہشت گردی کے لیے ایسے ہی فنڈز خرچ کر رہی تھی جیسے اب مودی کے دور میں کر رہی ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ تب بھی قوم پرست را سے پیسے لے رہے تھے اور آج بھی مودی انہی نام نہاد قوم پرستوں کے سر پر ناچ رہے ہیں۔ آج ہم کراچی میں جس راء کے نیٹ ورک کے خلاف نبر د آزما ہیں وہ بھی مودی حکومت میں قائم نہیں ہوا ۔ وہ تو کئی دہائیوں سے چل رہا ہے۔ اور راء نے کئی دہائیوں سے کراچی میں اپنے پیر جمائے ہیں۔ اس لئے بھارت پاکستان میں دہشت گردی بد امنی پیدا کرنے اور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی پالیسی پر پہلے دن سے کام کر رہا ہے۔ اور یہ کام اور پالیسی کسی حکومت کے آنے اور جانے سے تبدیل نہیں ہو تی۔ یہ بھارت کی اسٹبلشمنٹ کی پالیسی ہے جو ہر حکومت مانتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کی اسٹبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کی بھارت کے حوالے سے پالیسی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ کبھی ہم کشمیر کو سر پر چڑھا لیتے ہیں۔ کبھی کشمیر کو پیچھے رکھ دیتے ہیں۔ کبھی کشمیر مذاکرات کا پہلا نقطہ بن جاتا ہے۔ کبھی کشمیر کی بجائے تجارت اہم ہو جاتی ہے۔ کبھی عوامی رابطے اہم ہو جاتے ہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ بھارت نے سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد سے جہاں پاکستان کے اندر مداخلت کی پالیسی تسلسل سے جاری رکھی وہاں یہ بھی پالیسی کا حصہ تھا کہ اس کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ بھارت نے کبھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کے کسی نیٹ ورک کی سرپرستی کر رہا ہے۔ لیکن اب مودی پھٹ پڑے ہیں۔

ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا مودی اپنی اسٹبلشمنٹ کی مرضی سے پھٹے ہیں۔ یا یہ ان کی اپنی بوکھلاہٹ ہے۔ تا ہم ایک محتاط انداز ہ تو یہی ہے کہ ایسے معاملات میں بوکھلاہٹ نہیں چلتی۔ بھارت بلوچستان میں ایک گریٹ گیم کھیلنے جا رہا ہے۔ اور اس کے لئے اس نے طبل جنگ بجا دیا ہے۔ ہمیں اس طبل جنگ کو سننا ہو گا۔ ملک اور بالخصوص بلوچستان میں سیاسی ہم آہنگی اور یکجہتی کے لئے دن را ت کام کرنا چاہئے تب ہی ہم بھارت کو شکست دے سکتے ہیں۔

مزید : کالم


loading...