کولہو کے بیل

کولہو کے بیل
 کولہو کے بیل

  

کیا میں ایک محب وطن پاکستانی کے طور پر بھارت کے انتہا پسند وزیراعظم نریندر مودی کی اس حکمت عملی کا کوئی جواز پیش کر سکتا ہوں کہ پہلے انہوں نے بلو چستا ن میں نام نہاد اور مبینہ زیادتیوں کا نام لے کر پاکستان کو ان کا جواب دینے کی بات کی، سوال تو یہ ہے کہ مودی ہم سے بلوچستان پر جواب لینے والا کون ہوتا ہے، ان کا سابق سفارتکار پارتھا سارتھی بہت ہی بددیانت ، جھوٹااور دھوکے باز شخص ہے جو کشمیر کی طرح بلوچستان کے مسئلے کو بھی ہندوستان کی تقسیم کاورثہ قرار دیتا ہے، مودی تو مودی رہا، پارتھا سارتھی کا بیان سفارتکاری، تاریخ اور دانشوری کے ناموں پر کلنک کاایک ٹیکا ہے، جسے ثابت کرنا اور جس کی حمایت کرنا کسی طور بھی ممکن نہیں ، ایسے کاسہ لیسوں نے عقل اور منطق کے ساتھ ساتھ امن کے تابوت بھی تیار کئے ہیں۔

نریندر مودی کا تقریر نویس یقینی طور پر لوگوں کو اندھا اور احمق سمجھتا ہوگا ورنہ یہ کبھی نہ لکھ کر دیتاکہ اسے آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور بلوچستان سے حمایت مل رہی ہے، کیا بہترین جواب ہے کہ مودی نفرت اور حماقت کی اس آگ کو بھڑکاتے ہوئے ہمارے کسی علاقے میں آکر دیکھ لے اور جواب میں ہمارے بلوچستان کے وزیراعلیٰ کو ہی مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے دے، استقبال خود بتا دے گا کہ کس علاقے کے لوگ کیا سوچ رہے ہیں۔ تیزی سے مقبول ہوتے ہوئے سوشل میڈیا نے دنیا کو واقعی ایک گاؤں میں تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ اب آپ یہ حکمت عملی اختیار نہیں کر سکتے کہ کسی ایک شہر، صوبے یا ملک میں اس کے لوگوں کو خوش کرنے کی بات کریں اور دوسرے شہر، صوبے یا ملک میں دوسری بات، اب سچائی اسی رفتار سے پہنچتی ہے جس رفتار سے کبھی حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں ہزاروں میل دور سے ایک تخت پہنچ گیا تھا یعنی پلک جھپکتے، اب مقبوضہ کشمیر میں گولی چلتی ہے تو اس گولی کے ہدف تک پہنچنے پہنچتے جہاں مظلوم کی آہ آسمان تک پہنچتی ہے وہاں اس کی گونج لاہور بھی پہنچ جاتی ہے۔

نریندر مودی نے جو باتیں کی ہیں وہ ان بھارتیوں کو تو لبھا سکتی ہیں جن کی آنکھیں، دل اور دماغ تینوں ہی بند ہیں اور وہ شاید ان ہی کے ذریعے چند ماہ بعداتر پردیش، پنجاب اور گجرات جیسی اہم ریاستوں میں ہونے والے انتخابات جیتنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ وہ اپنے بے زار ہونے والے انتہا پسند ووٹروں کو دوبارہ لبھانے کی کوشش کر رہے ہیں حالانکہ اگر وہ اپنے مٹھی بھر انتہا پسند ووٹروں کو مایوس کر رہے تھے تو بہت بڑی تعداد میں ان رجائیت پسندوں کے ہیر و بھی بن رہے تھے جو معاملات حل کرنے کے لئے رسک لینے اور چیلنج قبول کرنے والوں کو پسند کرتے ہیں، ایسے رہنما تاریخ کے غلام بننے کی بجائے خود ایک نئی تاریخ لکھنے والے بنتے ہیں۔آپ اختلافی دلائل رکھ سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ قائد اعظم اور مہاتمہا گاندھی دونوں ہی دونوں ملکوں میں دشمنی نہیں چاہتے تھے مگر کشمیر پربھارتیوں کی کو تاہ نظراور مفاد پرستانہ حکمت عملی نے سب کچھ الٹ پلٹ کر کے رکھ دیا۔ مودی اگر نواز شریف کے ساتھ دوستی کے نعرے کو منفی سمجھتے ہیں تو اس کے لٹمس ٹیسٹ کا ایک نتیجہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی دیکھ سکتے ہیں جہاں سابق حکمران جماعت کے نوجوان رہنما نے اپنے کارکنوں میں ’مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے‘ کے پرجوش نعرے لگوائے مگر کشمیر کے عوام نے برصغیر کے اس تاریخی مسئلے کے حل کی امید کے سامنے اس پروپیگنڈے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ اب غیر جانبدار دانشور یہی سمجھتے ہیں کہ انہیں کشمیر کے مسئلے کے ڈھول کو اپنے گلے سے اتارنا ہو گا ورنہ اس بوجھ اور شور کے ساتھ عالمی برادری میں ترقی اور خوشحالی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ بھارت کے کسی بھی حکمران یا سیاستدان کی طرف سے جب ایسی زبان استعمال کی جاتی ہے تو اس پرغیرجانبدار حلقوں میں سب سے پہلا سوال یہی کیا جاتا ہے کہ کیا وہاں ریاستی یا مرکزی سطح پر انتخابات تو نہیں ہونے والے، اس مرتبہ بھی اس کا جواب اثبات میں ہے مگر کیابھارت کے متوازن اور حقیقت پسند تجزیہ کار نریندر مودی کو یہ یاد نہیں دلائیں گے کہ یہی حکمت عملی انہوں نے دلی کے انتخابات میں بھی اختیار کی تھی اور جواب میں ووٹروں نے بی جے پی کا صفایا کر دیا تھا۔ اب لوگوں کی بڑی اور بھاری اکثریت ایسے جذباتی نعروں پر سرنڈرکرنے کی بجائے انتخابی پرچیوں پر ٹھپے ان نشانوں پر لگاتی ہیں جو ان کے مسائل حل کر رہے ہوں اور نریندر مودی ابھی تک اس سوچ کا شکار ہیں کہ لو گ مسائل پیدا کرنے ، ان کی پرورش کرنے والوں کا ساتھ دیں گے۔

کچھ بھارتی سمجھتے ہیں کہ مودی نے ایک خطرناک مگر شاطرانہ چال چل دی ہے اور اس کے نتیجے میں وہ گیم چینجر بن سکتے ہیں۔ ایسا سمجھنے والے کتنے نادان ہیں، یہ چال تو عشروں سے چلی جا رہی ہے اور وہی روایتی کھیل کھیلا جاتا رہا ہے جس نے دونوں ملکوں میں امن ، ترقی اور خوشحالی کا راستہ روکا ہوا ہے۔ مودی کی یہ چال خود ان کے لئے کس حد تک خطرناک ہو سکتی ہے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ انہوں نے نہ صرف بلوچستان کا اقبال جرم کرلیا ہے بلکہ گلگت بلتستان بارے اپنی مجرمانہ منصوبہ بندی کو بھی آشکار کر دیا ہے۔مجھے یہ کہنے میں عار نہیں ہم پاکستان کے سیدھے سادھے عوام ان کی دوستی کی چال میں تو آسکتے تھے مگر انہوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی کینچلی اتار کر ظاہر کر دیا کہ وہ ہمارے دشمن ہی رہیں گے۔ نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف نہیں بلکہ اس خطے کے ڈیڑھ ارب افراد کے خلاف حکمت عملی اختیار کی ہے جن کی ضرورتوں میں سب سے پہلے امن، خوراک اور روزگار ہیں۔ وہ اپنے مستقبل بارے ایک اچھی امید کی تلاش میں ایک سے دوسری قیادت کی طرف دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔ یقینی طور پر کشمیر میں شروع ہونے والی آزادی کی تحریک نے مودی کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا ہے اور کھسیانی بلی کے طور پر انہوں نے وہ کھمبے بھی نوچنے شروع کر دئیے ہیں جو ان کے پنچوں کی زد میں ہی نہیں آتے۔

انڈین ایکسپریس کی طرح ہمارے بھی بہت سارے حلقوں کے لئے نریندر مودی کی بدلی ہوئی حکمت عملی ناقابل فہم بھی تھی اور ناقابل قبول بھی تھی۔میں مودی اور اس کے حواریوں کو یقینی طور پر غلط سمجھتا ہوں مگر اپنے دوستوں سے بھی سوال کرتا ہوں کہ اگر ہم مودی کی پاکستان دشمن پالیسی پر اعتراض کرتے اور اسے غلط قرار دیتے ہیں تو اس سے پہلے ہمیں یہی اعتراضات اس کے ایک آئینی، سیاسی اور جمہوری حکومت کے ساتھ مل کر تنازعات حل کرنے کی حکمت عملی پر بھی تھے۔ ہمیں بھی غور کرنا ہوگا کہ ہماری اصل ضرورت بھارت کے ساتھ تنازعات کو حل کرنا یا انہیں ہمیشہ کی طرح برقراررکھنا ہے۔ دونوں اطراف کے فیصلہ سازوں کو سوچنا ہو گا کہ کیا فشار خون کو بڑھاتے ہوئے ہم ایک اور جنگ کے متقاضی ہو سکتے ہیں۔ میں بھارت کے معاشی مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتا کہ وہ ایک ہاتھی ہے مگر پاکستان اس وقت ایک چیتے کی سی طاقت اور رفتار کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ مجھے نریندر مودی سے کہنا ہے کہ ترقی کی شاہراہ پر ایک ایک سنگ میل عبور کرنے میں برس ہا برس لگ جاتے ہیں مگر ہریانے، لدھیانے اور چندی گڑھ سے کیرالے اور میزو رام تک بنائی گئی ایک ایک فیکٹری اور ایک ایک شاہراہ صرف اس ایک بم سے محض ایک لمحے میں تباہ کی جا سکتی ہے جسے ہم نے خوراک، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات پر سمجھوتے کرتے ہوئے بنایا ہے، ان بیانات نے خطے کو ایک مرتبہ پھر اسی آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے جہاں سے دور نکل بھاگنے بارے سوچا جا رہا تھا۔ذرا دھیان کیجئے ، وژنری سیاستدانوں اور کولہو کے بیلوں میں بہرحال فرق ہونا چاہئے اور آپ حق خود ارادیت کی ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایک جائز تحریک کی نفی کر کے خود کو ایک بڑے سیاستدان کی بجائے کولہو کا بیل ثابت کر رہے ہیں۔

مزید : کالم