نیو یارک ، پولیس نے زیر حراست شخص کو امام مسجد کے قتل کا باقاعدہ ملزم قرار دیدیا

نیو یارک ، پولیس نے زیر حراست شخص کو امام مسجد کے قتل کا باقاعدہ ملزم قرار ...

واشنگٹن (اظہر زمان ، بیورو چیف) نیو یارک میں کوئنز کے علاقے میں ایک امام مسجد اخون جی اور ساتھی تہرام الدین کے دہرے قتل کے حوالے سے پولیس نے جس شخص کو حراست میں لیا تھا اب اسے باقاعدہ ملزم قرار دے کر اس کی شناخت ظاہر کر دی ہے۔ ملزم 35 سالہ ہسپا نوی باشندہ ہے جس کا نام آسکر مورل ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ قتل مذہبی منافرت کے باعث نہیں ہوا بلکہ الفرقان جامع مسجد کے قریب کی آبادی میں ہسپانوی کمیونٹی کی مسلمانوں اور خصوصاً بنگلہ دیشیوں کے درمیان کشیدگی جاری تھی جس کی رنجش کی بنا پر قتل کی یہ واردات ہوئی۔ پولیس نے ابتدائی تفتیش میں قرار دیا ہے کہ زیر حراست شخص ہی اصل ملزم ہے جس کے بعد اس کے خلاف سکینڈ ڈگری قتل اور ناجائز اسلحہ رکھنے کے الزام میں باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یاد رہے ہفتے کے روز نماز ظہر کے بعد 55 سالہ امام مسجد اخون جی اپنے ایک ساتھی 65 سالہ تہرام الدین کے ہمراہ جب مسجد سے باہر نکلے تو تھوڑی دیر بعد ملزم نے انہیں پیچھے سے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد مسلم کمیونٹی نے موقع پر جمع ہوکر شدید احتجاج شروع کر دیا تھا۔ نیویارک کے اخبارات میں مقامی مسلم کمیونٹی کا جو ردعمل چھپ رہا ہے اس میں وہ اسے مسلسل مذہبی منافرت کا واقعہ قرار دے رہے ہیں۔ ملزم کا تعلق کوئینز کے بجائے بروکلین کے علاقے سے ہے اس لیے مسلم کمیونٹی یہ سمجھتی ہے کہ ملزم کسی مقامی جھگڑے میں ملوث نہیں تھا اور اس نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنا پر یہ قتل کیا ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...