کیا ایجی ٹیشنل سیاست ناکام ہو گئی ، پانامالیکس کا معاملہ سپریم کورٹ جائیگا

کیا ایجی ٹیشنل سیاست ناکام ہو گئی ، پانامالیکس کا معاملہ سپریم کورٹ جائیگا

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

عمران خان نے پشاور سے جو احتساب مارچ شروع کیا تھا وہ اب اسلام آباد پہنچ کر ’’بریک جرنی‘‘ کر رہا ہے۔ اسلام آباد سے چلے گا تو راستے میں استراحت کرتا ہوا لاہور پہنچے گا۔ انہوں نے خبردار کیا ہوا ہے کہ میاں صاحب میرے لاہور پہنچنے سے پہلے کچھ کرلیں ورنہ جدہ بھاگنے کی مہلت نہیں ملے گی، لیکن یہ انتباہ اب پرانا ہوا انہوں نے تازہ ترین ارشاد یہ فرمایا ہے کہ وہ پاناما لیکس کے خلاف سپریم کورٹ جائیں گے، تو کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ وہ سڑکوں کی ایجی ٹیشنل پالیٹکس سے مایوس ہوگئے؟ یا وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ عوام کو اس سے زیادہ دلچسپی نہیں رہی۔ سڑکوں پر احتجاج کا اپنا ایک وقت ہوتا ہے، اگر آپ بارہ مہینے سڑکوں پر گزارنے کا اعلان کرتے رہیں تو اس سے سنجیدگی ظاہر نہیں ہوتی، لیکن کیا کیا جائے الیکشن ابھی 2018ء میں ہونے ہیں اس وقت تک پاناما لیکس کا ایشو کیا زندہ بھی رہے گا یا نہیں؟ ایک سوال تو یہ بھی ہے کہ جس معاملے میں فوری طور پر کوئی بھگدڑ نہیں مچی اور لگتا ہے کہ یہ اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہا ہے، اس پر اب کیا سیاست کی جاسکتی ہے؟ چودھری اعتزاز احسن نے کہا تو یہ تھا کہ پاناما لیکس کی گھنٹیاں بجتی رہیں گی لیکن کیا یہ واحد گھنٹیاں ہیں جو ہماری سیاست میں بجتی رہیں گی۔ یہاں تو گھنٹیاں کیا گھڑیال بھی بجتے رہے ہیں اور ابھی تک بج رہے ہیں ۔ سوئس اکاؤنٹس اور سرے محل کیا کسی گھڑیال سے کم تھے؟ جب ان کی آواز بہرے کانوں نے نہیں سنی تو چھوٹی موٹی گھنٹیوں کی آواز کون سنے گا؟لیکن ہمارا طرزعمل یہ ہے کہ مجھے آپ کے گلے میں تو بجتی ہوئی گھنٹی کی آواز بڑی سریلی لگتی ہے لیکن میرے گلے میں گھڑیال بھی بج رہے ہوں تو میں ان کی آواز پر کان دھرنا پسند نہیں کرتا۔ یہ بات ایک محاورے میں یوں بھی بیان کی جاسکتی ہے کہ دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو میں بڑی دور سے دیکھ لیتا ہوں لیکن مجھے اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔ مجھے لگتا ہے کہ ان گھنٹیوں کی آواز ذرا مدھم پڑگئی ہے کیونکہ درمیان درمیان دوسرے گھڑیال بھی اچانک بج پڑتے ہیں خاص طور پر چودھری نثار جب گھڑیال بجاتے ہیں تو بات بہت دور تک سنی جاتی ہے۔ اس ماحول میں خان صاحب نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب پاناما لیکس کا معاملہ سپریم کورٹ میں لے کر جائیں گے لیکن عدالتی طریق کار کے مطابق تو سپریم کورٹ اپیل کی آخری عدالت ہے، کیا اس سے پہلے دوسری عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانا مناسب نہیں ہوگا؟ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں جائے تو اس پر یہی حکم جاری ہوکہ پہلے ماتحت عدالتوں سے رجوع کیا جائے۔ خیر اس سلسلے میں کچھ کہنا تو ابھی قبل از وقت ہے کہ یہ عدالتی امور قانونی ماہرین ہی بہتر سمجھتے ہیں اور تحریک انصاف میں ایک سے بڑھ کر ایک بہتر قانون دان ہے۔ جب عمران خان نے براہ راست الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کردیا تھا تو ان کے وکیلوں کا مشورہ بھی اس میں شامل ہوگا۔ ان کی دیکھا دیکھی اور بھی کئی جماعتیں اپنے اپنے ریفرنس لے کر الیکشن کمیشن کے پاس پہنچ گئیں، اب یہ سب اکٹھے ہوگئے ہیں اور ان کی اکٹھی سماعت ہوگی۔ جو بھی فیصلہ ہوگا سامنے آ جائے گا، لیکن لگتا ہے اس دوران کسی سیانے نے خان صاحب کو مشورہ دے دیا ہے کہ وہ بھی اسی طرح نوازشریف کی نااہلی کا ایک ریفرنس سپیکر قومی اسمبلی کے پاس دائر کردیں جس طرح نواز شریف کے ساتھیوں نے ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے۔ گویا اب دو ریفرنس سپیکر کے پاس چلے گئے ہیں، ایک عمران خان کے خلاف اور دوسرا وزیراعظم نوازشریف کے خلاف، تازہ ترین یہ ہے کہ وزیراعظم کے خلاف ایک ریفرنس شیخ رشید نے بھی دائر کردیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے پاس ریفرنس الگ سے دائر ہیں گویا اس وقت دو فورموں پر نااہلی کے ریفرنس پہلے سے دائر ہیں اور تیسرا لیکس کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں جائے گا۔ عمران خان نے سپریم کورٹ میں جانے کا اعلان کیا تو جماعت اسلامی کیوں پیچھے رہتی، اس کے امیر سراج الحق نے بھی اعلان کردیا کہ وہ بھی سپریم کورٹ میں جائیں گے۔ انہوں نے پہلے کرپشن کے خلاف ٹرین مارچ کیا، پھر پیدل مارچ کیا، شاید کوئی لانگ مارچ بھی کیا تھا۔ اگر سپریم کورٹ ہی جانا تھا تو اتنے بڑے بڑے مارچوں کے بغیر بھی جایا جاسکتا تھا، لیکن ہم اس ضمن میں کوئی مشورہ دینے کی پوزیشن میں نہیں سراج الحق اپنی جماعت کی سیاست کو بہتر سمجھتے ہیں، جس میں اتنی رنگا رنگی ہے کہ پاکستان میں نوازشریف کے خلاف تحریک چلاتے ہیں لیکن آزاد کشمیر میں ان کے ساتھ انتخابی اتحاد کرلیتے ہیں۔ جب انہوں نے ٹرین مارچ بہتر سمجھا اس وقت وہ کرلیا، اب سپریم کورٹ میں جانا چاہتے ہیں تو ان کا حق ہے شوق سے جائیں۔

عمران خان کے دو حامی سیاستدان ڈاکٹر طاہرالقادری اور شیخ رشید احمد تو کئی بار یہ اعلان کرچکے ہیں کہ یہ حکومت 31 اگست تک ختم ہو رہی ہے، غالباً اسی لیے عمران خان نے سپریم کورٹ جانے کیلئے 3 ستمبر کی تاریخ دی ہے۔ ممکن ہے انہیں بھی یقین ہو کہ یہ حکومت تو 31 اگست تک جا ہی رہی ہے نہ گئی تو 3 ستمبر کو پاناما لیکس کا معاملہ سپریم کورٹ میں لے جائیں گے۔ ویسے اس وقت سڑکوں پر تین تحریکیں بیک وقت چل رہی ہیں، ایک شیخ رشید کی تحریک نجات ہے، دوسری تحریک انصاف کی تحریک احتساب ہے اور تیسری عوامی تحریک کی تحریک قصاص ہے۔ مؤخرالذکر دونوں جماعتیں تو پہلے ہی مجسم تحریک ہیں، اس لیے انہیں اپنی نئی تحریکوں کیلئے کوئی اچھا سا نام رکھنا چاہئے تھا۔ ان کی تحریک کے خدوخال سے تو عوام پہلے سے واقف ہیں، دونوں جماعتوں نے ’’تحریک‘‘ کو اپنے نام کا حصہ بنا رکھا ہے لیکن عجیب بات ہے وہ جو بھی تحریک چلاتی ہیں اس میں اور سب کچھ ہوتا ہے تحریک نہیں ہوتی۔ جیسے ایک زمانے میں تحریک استقلال کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس میں سب کچھ ہے استقلال نہیں ہے۔ اب عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ ان میں اور تو سب کچھ ہے تحریک نہیں ہے، آپ برا نہ منائیں تو عرض کیا جائے کہ اگر ان تحریکوں میں تحریک ہوتی تو اتنے طویل تاریخی دھرنوں کا یہی انجام ہوتا جو ہوا۔ دیکھیں جب تحریک احتساب لاہور پہنچے گی تو اپنے اعلان کے مطابق کیا کرے گی؟

ایجی ٹیشنل سیاست

مزید : تجزیہ


loading...