مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری، کرفیو اور ہڑتال بھی ہے، قیادت گرفتار

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری، کرفیو اور ہڑتال بھی ہے، قیادت گرفتار

تجزیہ:چودھری خادم حسین

مقبوضہ کشمیر میں نوجوان وانی کی شہادت کے بعد احتجاج اور اس کے جواب میں بھارتی قابض فوج کی طرف سے ظلم کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ تھمنے میں ہی نہیں آ رہا، پورے مقبوضہ کشمیر میں چالیسویں روز بھی کرفیو اور ہڑتال کاسماں ہے، کشمیری نوجوانوں نے پاکستان کے یوم آزادی پر سری نگر اور دوسرے شہروں میں پاکستانی پرچم اور بھارت کے یوم آزادی پر سیاہ پرچم لہرا دیئے اور یہ دن یوم سیاہ قرار دے کر منایا، بھارتی فوجیوں کی طرف سے ساٹھ سے زیادہ افراد جام شہادت نوش کر چکے، پانچ ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے، ان میں سے قریباً ایک ہزار بچے، نوجوان اور مرد وزن آنکھوں کی بینائی کے روگ میں مبتلا ہوئے، ہسپتالوں کے آئی سرجنز کے مطابق چارسو سے زائد مریضوں کی بینائی بچانے کے لئے آپریشن کئے گئے اور یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ کتنے افراد کی بینائی لوٹے گی اور کتنے آنکھوں کی روشنی سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوں گے، یہ سلسلہ تاحال رکا نہیں اور چلتا چلا جارہا ہے، حریت کی ساری قیادت گرفتار کرلی گئی ہے اور اس تشدد کے باوجود احتجاج رکا نہیں ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے انہی حالات کی وجہ سے پاک بھارت تعلقات میں نئی دراڑ آئی ہے کہ پاکستان کی طرف سے عالمی سطح پر احتجاج کیا جارہا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے مظالم پر عالمی ضمیر بیدار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، بھارت کی طرف سے کسی بین الاقوامی قانون کی بھی پرواہ نہیں کی جارہی، ممنوعہ اسلحہ استعمال ہو رہا ہے اور اقوام متحدہ کی سطح پر بھی کچھ نہیں کیا جارہا، حتیٰ کہ امریکہ، جو پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ کرتا ہے، اسے بھی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی یہ خلاف ورزیاں نظر نہیں آ رہیں ،ایسے میں پاکستان کی طرف سے 70ویں یوم آزادی پر کشمیریوں کی ہر سطح پر سیاسی و اخلاقی مدد کرنے اور ظلم پر آواز بلند کی گئی تو اگلے روز15۔ اگست کو دہلی کے لال قلعہ میں ہونے والی تقریب سے نریندر مودی نے خطاب کیا اور واضح طور پر یہ اعتراف بھی کرلیا کہ ان کے بلوچستان کے باغی لوگوں سے رابطے ہیں۔ اس سے قبل پاکستان کو کلبھوشن کی شکل میں ’’را‘‘ کا ایک نیٹ ورک مل چکا ہے، اس پر احتجاج بجا ہے، اور پاکستان کے اندر غم و غصہ بھی پایا جانا واجب ہے، اسی ماحول میں سیفمانے’’پاک ہند دوستی منج‘‘ اور ’’فوک لور اکیڈیمی‘‘ (بھارتی) کے تعاون سے روائتی تقریب منعقد کرلی جو بین الاقوامی سر حد پر واہگہ اور اٹاری پر ہوتی ہے، جہاں دونوں اطراف کے سول سوسائٹی کے افراد، ادیب اوردانشور جمع ہو کر شمعیں جلاتے اور امن کے حق میں نعرہ بازی بھی کرتے ہیں، 14-15کی شب کو یہ روائت پوری کی گئی کہ امن کے حق میں پلے کارڈ بھی اٹھائے گئے تھے۔

یہ حالات برقرار ہیں کہ پاکستان کی طرف سے سیکریٹری خارجہ نے بھارت کے سیکریٹری خارجہ کے نام ایک خط میں مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ بیٹھ کر تنازعہ کشمیر سمیت دوسرے تنازعات پر مذاکرات کرلیں، بھارت کی طرف سے خط کا جواب دینے سے قبل ہی وزیر خارجہ سشما سوراج نے یہ پیشکش مسترد کردی اور کشمیر پر مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے کہا، پٹھان کوٹ اور ممبئی واقعات کے حوالے سے بات ہوسکتی ہے، یوں یہ کوشش بھی ناکا م ہوگئی اور بھارتی وزیر اعظم نے زہریلی تقریر کر ڈالی، حالانکہ پاکستان کی طرف سے محتاط رویے کا مظاہرہ کیا گیا اور مقبوضہ کشمیر میں کئے جانے والے مظالم پر احتجاج اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق استصواب کی مانگ کی گئی۔

اس طرح ایک مرتبہ پھر بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوگیا اور حالات پیچھے کی طرف جاتے نظر آتے ہیں، سخت کشیدگی ہے، دونوں ملک ایٹمی صلاحیت کے مالک ہیں، اور پاکستان اپنی یہ صلاحیت اپنے دفاع کے لئے محفوظ کئے ہوئے ہے، تاہم بھارت جیسے ملک اور نریندر مودی جیسی شخصیت سے کچھ بعید نہیں کہ یہ کسی مرحلے پر کوئی چھیٹر چھاڑ شروع کردیں، جیسے یوم آزادی سے ایک روز قبل راولا کوٹ کنٹرول لائن پر فائرنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا جو تین روز تک جاری رہا، ایسے میں بات بڑھ بھی سکتی اورخدشات پورے بھی ہو سکتے ہیں، اس لئے بین الاقوامی مداخلت ابھی سے ہونی چاہیے اور بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے روکنا ضرور ی ہے، ورنہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

انہی حالات میں حکومت اپنی سطح پر کوشش کررہی ہے، لیکن اپوزیشن کی جو جماعتیں کشمیر کے تنازعہ پر طعنہ زنی کررہی تھیں اور کررہی ہیں وہ اس مسئلے پر بھی تعاون کا مظاہرہ نہیں کر رہیں، ان کے بیانات اور عمل میں تضاد ہے، حالانکہ یہ وقت ہے کہ احتجاج ترک کر دیا جائے، دوسری طرف حکمرانوں کی بھی تو یہ ذمہ دا ری ہے کہ وہ ملک کے اندرونی استحکام کے لئے خود احتیاط کریں، پارلیمنٹ کی سطح پر سب کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ محاذ آرائی بندہو اور یکسوئی کے ساتھ بھارتی منصوبوں کا مقابلہ کیا جا سکے، یہ وقت آپس میں الجھنے کا نہیں۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

حکومت نے ایک اچھا اقدام کیا کہ عسکری قیادت کے ساتھ مل کر سول آرمڈ سروسز کو مزید 29ونگز میں تبدیل کر کے ٹاسک فورس کی تشکیل کی جو آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کو بھی مستحکم کرے گی، اس کے سربراہ قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ بنا دیئے گئے جو ماہر فرد ہیں اور ان سے اچھے نتائج کی توقع ہے، ایسے میں ملک کے اندرکسی قسم کا سیاسی خلفشار نہیں ہونا چاہیے، وزیر اعظم سنجیدہ فکر ہیں، ان کو خود پہل قدمی کرنا چاہیے، مقبوضہ کشمیر میں مظالم رکوانے اور ملک کے اندر استحکام کے لئے اپوزیشن سے بات کرنا چاہیے کہ بھارت کو پیش کش کی جاسکتی ہے تو یہاں سب اپنے ہیں، وقت کوٹالا نہ جائے۔

مزید : تجزیہ


loading...