ضیاء الحق کی پالیسیوں پر عمل کیا جاتا تو آج کشمیر آزاد اور ملک امن کا گہوارہ ہوتا! مرحوم کی 28ویں برسی کے موقع پر ان کے بڑے صاحبزادے محمد اعجاز الحق سے خصوصی انٹرویو

ضیاء الحق کی پالیسیوں پر عمل کیا جاتا تو آج کشمیر آزاد اور ملک امن کا گہوارہ ...

انٹرویو: محمد نصیر الحق ہاشمی:

تصاویر: وسیم الرحمٰن:

پاکستان کی تاریخ میں بہت سے حکمران آئے اور چلے گئے، قائداعظم محمد علی جناحؒ اور لیاقت علی خانؒ کے بعد جو عزت و احترام صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کو ملا وہ کسی اور حکمران کونہ مل سکا۔ جنرل محمد ضیاء الحق کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ دین سے محبت رکھنے والے فوجی حکمران تھے، وہ پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ انہوں نے عنانِ حکومت سنبھالتے ہی مُلک میں اسلامی نظام کے نفاذ کا فیصلہ کر لیا تھا۔ پانچ جولائی1977ء کو اقتدار سنبھالنے کے بعد قوم سے اپنے پہلے خطاب میں جنرل محمد ضیاء الحق نے کہا تھا کہ ’’تحریک نظامِ مصطفی ؐ کے دوران اسلام پر جان نثاری کے قابلِ قدر واقعات دیکھنے میں آئے، جن کو پذیرائی ملنا ضروری ہے‘‘۔ ایک اور موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہم مُلک میں اسلامی نظامِ حیات کے لئے ایسے اقدامات کر کے جائیں گے، جن سے پیچھے ہٹنا بعد والوں کے لئے آسان نہیں ہو گا‘‘۔

پاکستان کے قیام کا مقصد بھی یہی تھا کہ اس پیارے وطن میں بسنے والے مسلمان مکمل آزادی اور خود مختاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے محبوب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقوں اور اصولوں کے مطابق اپنی زندگی بسر کریں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ایک موقع پر برملا کہا تھا کہ ’’پاکستان کو ہندوستان کے آئین کے مطابق اپنے امور چلانے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ہمیں کسی نئے قانون کی ضرورت ہے۔ ہمارا آئین تو چودہ سو سال قبل مکہ مکرمہ میں حضور نبی کریمؐ نے دُنیا کی پہلی اسلامی ریاست کے قیام کے وقت بنا دیا تھا،ہم اُسی آئین کے مطابق امورِ مملکت چلائیں گے‘‘۔ افسوس کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی نے وفا نہ کی اور پاکستان وہ مقصد وحید حاصل نہ کر سکا جو اس کے قیام کا بنیادی مقصد تھا۔ یہ جنرل محمد ضیاء الحق ہی تھے، جنہوں نے آئینِ پاکستان میں شق نمبر 61، 62،63 کا نفاذ کیا، جس کے ذریعے الیکشن لڑنے والوں کی صلاحیتوں کا تعین کیا گیا، جس کی رو سے بدکردار، جھوٹا اور خائن شخص الیکشن لڑنے کے لئے نااہلِ قرار دیا گیا۔

جنرل محمد ضیاء الحق کی شہادت کو28برس گزر چکے ہیں، آج بھی پاکستان سمیت دُنیا بھر میں اُن کے چاہنے والوں،اُن سے محبت اور عقیدت رکھنے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ کہتے ہیں کہ زندگی میں سکون انسان کو موت کے بعد ہی نصیب ہوتا ہے، ہر شخص بالخصوص مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ موت کے بعد لوگ اسے اچھے الفاظ میں یاد کریں، اس کی زندگی کی خوشگوار یادوں کا تذکرہ کیا جائے، اس پر تبصرے ہوں، اسے خراج عقیدت پیش کیا جائے،اس کے لئے دُعائے مغفرت کی جائے،لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ انسان نے اپنی زندگی بھی ایسی ہی بسر کی ہو،اس نے دُنیا میں کام بھی ایسے ہی کئے ہوں، اس کے اعمال بھی ایسے ہوں کہ اس کے دُنیا سے جانے کے بعد جب بھی، جہاں بھی اور جس جگہ بھی اس کا ذکر کیا جائے،اس کے دوست واحباب، عزیز و اقارب تو ایک طرف، اس کے دشمن اور مخالفین بھی اس کی تعریف کریں، اسے موت بھی ایسی نصیب ہو کہ اس پر رشک کیا جائے۔انسان تو خطاؤں کا پتلا ہوتا ہے، غلطیاں تو ہر انسان سے ہوتی ہیں، لیکن زندگی میں کوشش یہ کرنی چاہئے کہ جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کر،کسی کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے، باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ کسی کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور اپنی زندگی میں ایسے عمل کئے جائیں جو موت کے بعد صدقۂ جاریہ بن جائیں اور لوگ مرنے کے بعد اسے یاد کرنے پر خودبخود مجبور ہوں، ایسی ہی ایک شخصیت صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی ہے۔

جنرل محمد ضیاء الحق نے کم و بیش11برس اس ملک پر حکومت کی، اُن کی ذات کے ساتھ بہت سوں کو اختلاف ہوں گے، لیکن انہوں نے کچھ تو ایسے کام کئے ہوں گے کہ آج اُن کی وفات کو 28برس ہو چکے، آج بھی لوگ ان کے دورِ اقتدار کو یاد کرتے ہیں، اُن کی ملنساری، اُن کا اخلاق، اُن کی گفتگو کا طریقہ اور سلیقہ، غرض اُن کی زندگی کے جس پہلو کا بھی ذکر کیا جائے، تو انسان بے ساختہ انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔جنرل محمد ضیاء الحق پاکستان کی تاریخ کے واحد فوجی حکمران ہیں کہ جن کی آج بھی تعریف کی جاتی ہے۔

آج17اگست ہے،17اگست1988ء کو بہاولپور سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر اُن کے جہاز سی ون30کو سانحہ پیش آیا، اِس حادثے میں جنرل محمد ضیاء الحق سمیت31 کے قریب افراد جاں بحق ہوئے ۔ان میں 29پاکستان آرمی کے فوجی افسر بھی تھے، جو شہید ہو گئے۔ ان میں دو امریکی شہری بھی تھے جن میں سے ایک امریکی سفیر تھا۔ شہید ہونے والوں میں صدرِ پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق سمیت پاک فوج کے پانچ جرنیل بھی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اِس حادثے کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ تھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جنرل محمد ضیاء الحق پاکستان میں اسلامی نظام کے حوالے سے جو کوششیں کر رہے تھے، اِسی وجہ سے اُنہیں راستے سے ہٹایا گیا۔ حقیقتِ حال کچھ بھی ہو۔ یہ بات طے ہے کہ دُنیا میں اُن کی سانسیں پوری ہو چکی تھیں، جب انسان اپنی زندگی کے دن پورے کر لے تو پھر چاہے کوئی کچھ بھی کر لے، اُس نے ہر صورت میں اِس دُنیا سے جانا ہے، لیکن ضرورت اِس امر کی ہے کہ اپنی دُنیاوی زندگی میں انسان کچھ ایسے کارہائے نمایاں انجام دے کر جائے کہ جانے کے بعد اُس کو یاد کرنے والی آنکھیں صرف نم ہی نہ ہوں، بلکہ اُس کے لئے خودبخود دُعائے مغفرت کرنے کو دِل چاہے۔

جنرل محمد ضیاء الحق کی وفات پر مُلک بھر میں سوگ کے جو مناظر تھے، وہ بھلائے نہیں جا سکتے، اُن کی نماز جنازہ میں جس طرح لوگ شریک ہوئے، اس منظر کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان سمیت دُنیا بھر میں بسنے والے پاکستانیوں کو محسوس ہوا کہ جیسے اُن کا اپنا کوئی قریبی عزیز اِس دُنیا سے رخصت ہو گیا۔ اُن کی شہادت کے بعد ہی دُنیا کو علم ہوا کہ اُن کے دوصاحبزادے محمد اعجاز الحق اور ڈاکٹر محمد انوارا لحق بھی ہیں۔ ان کی زندگی میں لوگ اُن کی صرف چھوٹی صاحبزادی زین ضیاء ہی کو جانتے تھے، وہ بھی اِس لئے کہ وہ اُن کی لاڈلی صاحبزادی تھیں جو جنرل محمد ضیاء الحق کے ساتھ عام طور پر دکھائی دیتی تھی، جنرل محمد ضیاء الحق کی شہادت کی 28ویں برسی کے موقع پر آج اسلام آباد، فیصل مسجد کے سائے میں مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی و اجتماعی دُعا کی تقریب منعقد ہو گی۔ اِس حوالے سے ان کے صاحبزادے محمد اعجاز الحق جو آج کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، سے انٹرویو کیا گیا جو نذرِ قارئین ہے۔

س: پرویز مشرف دور میں برسی کا اجتماع محدود کیوں ہو گیا، پہلے تو بہت بڑے اجتماعات ہوتے تھے؟

ج:برسی کا اجتماع محدود نہیں ہوا، بات در اصل یہ ہے کہ 1999ء کے بعد برسی رمضان المبارک میں آتی رہی جس بناء پر بڑے پیمانے پر لوگوں کو تکلیف نہیں دی گئی۔ صرف راولپنڈی اور اسلام آباد کے افراد کا ہی فیصل مسجد میں اجتماع منعقد ہوتا رہا، پاکستان کے دیگر شہروں، علاقوں، قصبوں اور دیہات میں گلی گلی محلہ محلہ برسی کی تقریبات منعقد ہوتی تھیں جن میں لوگوں کی بڑی تعداد مرحوم کی روح کے ایصالِ ثواب کے لئے قرآن خوانی کرتی تھی۔ پاکستان بھر سے لوگوں کی بڑی تعداد برسی کے اجتماع میں شرکت کے لئے ہر سال مجھ پر اور ڈاکٹر انوار الحق پر دباؤ ڈالتی تھی۔ نائن الیون کے بعد ملک میں سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے ہم نے لوگوں کو خود ہی زحمت نہیں دی، اس بار بھی کوئی بہت بڑا اجتماع منعقد کرنے کا پروگرام نہیں ہے بلکہ اہم شہروں اور علاقوں سے چند نمائندہ افراد ہی برسی کے اجتماع میں شرکت کر رہے ہیں۔جنرل ضیاء الحق مرحوم کے چاہنے والے، ان سے محبت اور عقیدت رکھنے والے آج بھی پاکستان بھر میں ایک بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں،بلکہ ان کی تعداد میں پہلے سے کئی گنا اضافہ ہوا ہے ہم پاکستان کے جس شہر، محلے، قصبے یا علاقے میں جائیں، لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق کے گیارہ سالہ دور میں امن تھا، سکون تھا، خوشحالی تھی، مہنگائی، کرپشن اور لاقانونیت کا تصور نہیں تھا۔ ملک ترقی کی جانب گامزن تھا، لوگوں کو باعزت طریقے سے روز گار میسر تھا۔ غریب کو بھی پیٹ بھر روٹی ملتی تھی، لیکن آج ملک میں امن و امان کی صورت حال ابتر ہے۔ مہنگائی، کرپشن اور لاقانونیت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ عام آدمی کے لئے گزر اوقات ممکن نہیں ہے۔ شریف آدمی کا گھر سے نکلنا محال ہو چکا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ یہ سب اس وجہ سے ہے کہ ملک میں جنرل محمد ضیاء الحق کے بعد ان کی پالیسیوں پر عمل نہیں کیا گیا۔

س:آپ کی مرحوم جنرل ضیاء الحق کی پالیسیوں سے کیا مراد ہے؟

ج:آپ جنرل ضیاء الحق کا گیارہ سالہ دور دیکھ لیں، بھارت کا پاکستان کے ساتھ اونچی آواز میں بات کرنا تو دور کی بات، وہ ہماری طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنے کی جرأت بھی نہیں کرتا تھا۔ جنرل ضیاء الحق کے اقتدار کی گیارہ سالہ تاریخ گواہ ہے کہ ملک میں سیلاب نہیں آیا کیوں؟ اس لئے کہ بھارت اضافی پانی چھوڑنے سے قبل دس بار سوچتا تھا کہ غلطی کے جو نتائج ہیں، وہ اگر بھگتنے پڑ گئے تو وہ ان کا متحمل نہیں ہو سکے گا۔ آج ہر سال ملک میں سیلاب آ رہا ہے۔ سارا سال دریا خشک رہتے ہیں، لیکن ہر سال سیلاب سے جو تباہی آتی ہے، اس کے لئے ہم نے کوئی تیاری نہیں کی ہوتی۔ جنرل محمد ضیاء الحق کی شہادت کے بعد قوم کو مرد مومن، مردِ حق کا نعرہ ہم نے نہیں دیا،یہ ان کی خدمات پر قوم کی طرف سے انہیں خراج عقیدت ہے۔ آج ملک کا ہر کونا مرد مومن مرد حق کے نعروں سے گونچ رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی جو تحریک جنرل ضیاء الحق کے دور میں اُٹھی تھی، اگر بعد میں آنے والی حکومتیں ان کے نقش قدم پر چلتیں تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ مقبوضہ کشمیر آج پاکستان کا حصہ ہوتا، لیکن ہوا کیا۔ بعد میں آنے والی حکومتوں نے سکھوں کی تحریک کو سبوتاژ کرنے اور مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو کچلنے کے لئے بھارت کو سکھوں کی لسٹیں فراہم کیں لیکن کسی حکومت نے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی۔ کشمیر کی تحریک آزادی میں جو جان جنرل ضیاء الحق نے ڈالی تھی، آج ایک بار پھر ایسی ہی تحریک ہمیں مقبوضہ کشمیر میں دکھائی دیتی ہے۔ برہان الدین وانی جیسے نوجوان مجاہد کی شہادت پر ہمیں خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ کشمیر کے نہتے مسلمانوں پر بھارتی حکومت جو بدترین ریاستی جبرو تشدد کر رہی ہے، حکومت پاکستان کو اقوام متحدہ سمیت دنیا بھر میں اس حوالے سے آواز بلند کرنی چاہئے اور منظم طریقے سے کشمیریوں کا مقدمہ اقوام عالم کے سامنے رکھنا چاہئے اور دنیا کو بتانا چاہئے کہ بھارت نہتے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، آزادی کے متوالوں کو بے دردی کے ساتھ قتل کر رہا ہے۔ حکومت پاکستان کو دُنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو متحرک کرنا چاہئے، بلکہ کشمیر کے مسئلہ پر آل پارٹیز کانفرنس بلا کر قومی سطح پر پالیسی مرتب کی جائے۔ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر کشمیریوں کی آزادی کے لئے متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ آج اسلام آباد میں برسی کے موقع پر شہدائے بہاولپور سمیت شہدائے کشمیر اور شہدائے پاکستان کے لئے بھی قرآن خوانی و اجتماعی دُعا ہو گی۔

س: نائن الیون کے بعد مشرف دور میں بعض کشمیری جماعتوں کو کالعدم قرار دیا گیا، اس سے کشمیر پالیسی کو نقصان ہوا، اس حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟

ج: جلد بازی میں اور سوچے سمجھے بغیر جو فیصلے کئے جاتے ہیں، وہ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ لیکن آپ دیکھیں کشمیر پالیسی کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا، کیونکہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی کوئی بھی حکومت کوئی فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں ہے۔ کشمیر کا فیصلہ تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی ہوگا اور اس میں کشمیریوں کی رائے کو ہر صورت میں مقدم رکھا جائے گا۔

س: وزیر اعظم میاں نوازشریف بھی برسی کی تقریب میں شرکت کریں گے؟

ج:اس حوالے سے تو مَیں کچھ نہیں کہہ سکتا، ہم نے اس بار خاص طور پر کسی کو دعوت نہیں دی، برسی میں جو لوگ بھی آنا چاہیں ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے۔ یہ تو دعوت عام ہے جو بھی جنرل ضیاء الحق سے عقیدت و محبت رکھتا ہے، وہ ضرور برسی میں شریک ہو گا۔

س:افغانستان میں بہت کام ہوا، پھر وہ ہمارے خلاف کیوں؟

ج:۔افغانستان پاکستان کے خلاف نہیں ہے۔ ہاں افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔ افغانوں نے تو پاکستان کے لئے قربانیاں دی ہیں۔ وہ تو کسی بھی صورت میں پاکستان کے خلاف نہیں ہو سکتے۔ مرحوم جنرل ضیاء الحق نے دفاعی طور پر پاکستان کو مضبوط کیا تھا۔ ہم نے جہاد افغانستان کے ثمرات کو سمیٹنے کی بجائے انہیں ضائع کر دیا۔ جہاد افغانستان کے دوران ایک بھی امریکی فوجی نے افغانستان میں قدم نہیں رکھا، پھر بھی ہم نے وہ جنگ جیت کر دکھائی، لیکن آج امریکہ کو 16برس ہو گئے افغانستان میں لڑتے ہوئے، انہیں وہاں کامیابی نہیں ملی، یہی تو جنرل ضیاء الحق کی پالیسیاں تھیں۔ افغان عشق کی حد تک ضیاء الحق سے عقیدت رکھتے تھے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت نے جو امن قائم کر کے دکھایا، ایسا امن تو افغانستان میں کوئی حکومت قائم نہیں کرسکی۔ صرف افغانستان ہی میں نہیں، بلکہ دُنیا کے کسی ملک میں ایسا امن نہیں تھا۔ نائن الیون کے بعد ہم نے ایک سپر پاور کا ساتھ دے کر دوسری سپر طاقت کو ناراض کر دیا۔جنرل ضیاء الحق کی شہادت کے بعد پاکستان دنیا میں تنہا ہوا ہے۔ اِسی لئے تو مَیں بار بار کہتا رہا ہوں کہ جنرل ضیاء الحق کی پالیسیوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اب جنرل راحیل شریف ملک میں امن کے قیام کے لئے کردار ادا کر رہے ہیں۔ آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کی بدولت دہشت گردوں کی گرفت کمزور ہوئی ہے۔ انہیں اب کہیں چھپنے کی جگہ نہیں مل رہی، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی کے زیادہ بہتر نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ اقتصادی راہداری ایک اچھا منصوبہ ہے، اس کے ثمرات سے ملک وقوم کو بھی فائدہ ہو گا۔ سنٹرل ایشیا کی اسلامی ریاستوں کے ساتھ ہماری قربت بڑھے گی، اقتصادی راہداری کی بروقت تکمیل از حد ضروری ہے۔

س:کیا جنرل راحیل شریف، جنرل ضیاء الحق کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں؟

ج:(مسکراتے ہوئے)۔۔۔ ملک اور قوم کی فلاح و بہبود، ترقی و خوشحالی اور اسے اقوام عالم میں بلند مقام اور امن کا گہوارہ بنانے کے لئے جو بھی کام کیا جائے گا سمجھ لیں، وہ جنرل ضیاء الحق کی پالیسیوں کا ہی تسلسل ہوگا۔

مزید : ایڈیشن 1