یوم آزادی، بہت پرجوش، پرچم کشائی، وزیراعلیٰ نے رنگ روڈ کا سنگ بنیاد بھی رکھا، مزار اقبال پر گارڈ کی تبدیلی

یوم آزادی، بہت پرجوش، پرچم کشائی، وزیراعلیٰ نے رنگ روڈ کا سنگ بنیاد بھی ...

لاہور سے چودھری خادم حسین:

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کو کارپوریشن بنانے کے بعد اسے پھر سے بہتر سروس بنانے کا عمل شروع کر لیا گیا ہے تاہم ابھی بہت کام کرنا باقی ہے خصوصاً شعبہ انجینئرنگ کو اپنی ذمہ داریاں زیادہ توجہ سے ادا کرنا ہوں گی کہ جہاز پرانے بھی ہو چکے ہوئے ہیں۔ نقص والی پرواز سے بہتر ہے کہ پرواز میں تاخیر ہو جائے۔ گزرے اتوار کو کراچی سے لاہور آنے والی پرواز 304 پی کے لاہور کی فضا میں بڑے حادثے سے بال بال بچ گئی اور جہاز میں سوار خواتین اور بچوں سمیت سب کی چیخیں نکل گئیں۔ کراچی سے بروقت بعد دوپہر تین بجے روانہ ہونے والا یہ بڑا جہاز بہت ہموار طریقے سے پرواز کرتا ہوا چلا آ رہا تھا۔لاہور کی فضائی حدود میں داخل ہوا۔ سیٹ بیلٹ باندھ لینے کے لئے کہا گیا کہ پرواز جلد ہی لاہور کے ہوائی اڈے پر اترنے والی ہے۔ جہاز میں عورتوں اور بچوں کی تعداد کافی زیادہ تھی۔ ان میں شیرخوار بچے بھی تھے اچانک جہاز کو بہت زبردست جھٹکا لگا اور کئی میٹر نیچے چلا آیا کہ مسافر اچھل پڑے ،بچے رونے اور بڑے کلمہ پڑھنے لگے۔ یہ ایک ہی جھٹکا نہیں تھا ، کم از کم ایسے تین جھٹکے مزید لگے اور مسافروں کے چہرے پیلے پڑ گئے، کپتان کے نائب خود کیبن سے نکل کر یہ دیکھنے آئے کہ سیٹ بیلٹ تو باندھی جا چکی ہوئی ہیں۔ بہرحال اللہ نے کرم کیا کہ کپتان نے سنبھال لیا اور چوتھے جھٹکے کے بعد جہاز ہموار ہو گیا۔ مسافروں نے سکھ کا سانس لیا۔ پھر یہی پرواز معمول پر آئی اور تھوڑی ہی دیر بعد ہوائی اڈے پر بحفاظت اتر گئی، تاہم کیبن کریو یا کپتان کی طرف سے مسافروں کو آگاہ نہیں کیا گیا کہ ہوا کیا تھا ہر کوئی اپنا قیاس لگا رہا تھا، ہمارے نزدیک یہ موسم کی وجہ سے ایئر پاکٹ بنی کہ جہاز کے نیچے گرنے والا انداز اسی نوعیت کا تھا، بہرحال مسافروں کی آگاہی ضروری تھی جو نہ دی گئی اور کسی کو کچھ نہ بتایا گیا۔ مسافر گم صم سے اترے اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی اپنی منزل کو روانہ ہو گئے، اگر جہاز میں کوئی نقص تھا تو پرواز سے پہلے درستگی ضروری تھی اور اگر موسم (بادلوں) کی وجہ سے ایر پاکٹ جیسا مسئلہ پیدا ہوا تو بھی کنٹرول ٹاور اور پائلٹ (کپتان) کو علم ہونا چاہیے تھا کہ وہ مسافروں کو خبردار کر دیتے۔ اچانک جھٹکے خوفناک تھے جو چیخوں تک کا باعث بنے۔

یہ یوم بھی یوم آزادی کا تھا، جب پوری قوم پرجوش انداز میں جشن منا رہی تھی، ایسے میں لازمی سروس والے یہ حضرات اپنے فرائض ادا کرکے جشن آزادی میں شامل تھے، پی آئی اے میں بہتری آئی۔ اب تو سری لنکا سے چار ایئر بسیں لیز پر لے کر پریمیئر سروس بھی شروع کر دی گئی ہے تو یہ اس سے بھی زیادہ اہم ہے کہ پہلے سے موجود جہازوں کی مرمت اور دیکھ بھال پر بھرپور توجہ دی جائے اور جو پروازیں شیڈول ہوتی ہیں ان کے ایئر کرافٹ بہت زیادہ دھیان سے دیکھے جائیں اور پھر ان کو پرواز کی اجازت دی جائے کہ مکینکل نقائص کئی بار سامنے آئے ہیں۔

پاکستان میں اس مرتبہ یوم آزادی زیادہ جوش و خروش سے منایا گیا تھا۔ لاہور میں دکانوں، عمارتوں، سرکاری بلڈنگوں اور بازاروں گلیوں کو بھی سجایا گیا تھا، بچے اور نوجوان زیادہ پرجوش تھے۔ مختلف سماجی تقریبات کا بھی انعقاد کیا گیا۔ حفاظتی انتظامات کے لئے پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔پولیس نے ون ویلنگ والوں اور کرتب دکھانے والوں کو روکنے کے لئے بھی ناکے لگائے ہوئے تھے اور ایسی حرکات کے مرتکب ڈیڑھ سوسے زائد نوجوانوں کو پکڑ کر چالان کئے اور ان کو حوالات میں بھی بند کیا گیا جبکہ متعدد کو بھاری جرمانے بھی کئے گئے اور اکثر موٹرسائیکلیں بھی بند کی گئیں اس کے باوجود نوجوان کرتب بھی دکھاتے رہے۔ ہفتہ ، اتوار کی درمیانی شب بارہ بجے نوجوان کی ٹولیاں شاہراہ قائداعظم اور دوسری معروف سڑکوں پر نکل آئیں اور یہ بھنگڑے بھی ڈالتے رہے۔ یہی حالات اتوار کی رات بھی تھے اور لاہور میں ٹریفک جام رہا۔

یوم آزادی (14اگست) کی صبح پرچم کشائی کی رسومات ہوئیں۔ مزار اقبال پر گارڈ کی تبدیلی کا دلکش منظر دیکھا گیا اور قلعہ لاہور پر پرچم لہرایا گیا۔ وزیراعظم پنجاب محمد شہباز شریف نے دو تقریبات کو اکٹھا کر لیا انہوں نے پرچم کشائی بھی کی اور رنگ روڈ (جنوبی لوپ) کا سنگ بنیاد بھی رکھا جو ایک سال کے اندر مکمل ہو گا۔ وزیراعلیٰ نے اس مرحلے پر تقریر کی اور مخالفین سے کہا کہ وہ ترقی میں رکاوٹ نہ بنیں کہ جب بھی ترقی ہونا شروع ہوتی ہے دھرنے شروع کر دیئے جاتے ہیں۔

یوم آزادی ہی کے حوالے سے واہگہ اور گنڈا سنگھ والا بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریبات بھی اس مرتبہ زیادہ زور دار تھیں۔ عوام کی بہت بھاری تعداد نے شرکت کی۔ گنڈا سنگھ والا پر پہلے کم توجہ دی جاتی تھی لیکن بتدریج اس کی اہمیت بھی بڑھی ہے اور اس بار بہت باوقار اور پر رونق تھی۔ واہگہ پر رینجرز نے خصوصی اہتمام کیا اور جوانوں نے ولولے سے لوگوں کو گرمایا وہاں پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجتے رہے۔ یہاں روائتی طور پر پاکستان رینجرز کی طرف سے آزادی کی خوشی میں بھارتی بارڈر فورس (بی ایس ایف) کے کمانڈر کو مٹھائی بھی پیش کی گئی۔ لاہوریوں نے تو اس کو تہوار کی طرح بھی منایا اور بعض علاقوں میں دیگیں بھی تقسیم کی گئیں۔

تقریباً ڈھائی ماہ کی چھٹیوں کے بعد گزشتہ سوموار کو تعلیمی ادارے بھی کھل گئے کہ شدید گرمی کی وجہ سے اس بار یکم جون کو چھٹیاں کر دی گئی تھیں۔ سوموار کو معمول کے مطابق طلباء و طالبات اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں گنے پہلے روز حاضری کچھ کم تھی۔ بہرحال اگلے دو روز میں حالات معمول پر آگئے اور تعلیمی سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ موسم کی حدت میں بھی کمی آ گئی ہوتی ہے۔

مزید : ایڈیشن 2