خیبرپختونخوا،طویل بد امنی کے بعد پہلی مرتبہ جشن آزادی کا جوش وخروش دیکھا گیا

خیبرپختونخوا،طویل بد امنی کے بعد پہلی مرتبہ جشن آزادی کا جوش وخروش دیکھا گیا

بابا گل سے:

ملک کے دیگر حصوں کی طرح خیبر پختونخوا خصوصاً پشاور میں اس مرتبہ جشن آزادی ایک الگ جوش اور ولولے کے ساتھ منایا گیا پورے شہر کے بازاروں سٹرکوں حتی کہ گلیوں تک کو سبز ہلالی پرچموں کے ساتھ سجایا گیا عوام کی خوشی اور جذبہ قابل دید تھا شاید اس کی وجہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب اپریشن کے نتیجے میں ایک ایسے پُرامن ماحول کا قیام ہے جس کے لئے اس شہر کے باسی ترس رہے تھے۔ جشن آزادی کے موقع پر پشاور میں اگرچہ دہشت گردی کا خوف موجود تھا اور اسی خوف کے پیش نظر ملک کے دوسرے کئی اہم شہروں کی طرح پشاورمیں بھی موبائل فون کی سروس بند رکھی گئی یوم آزادی سے دو روز قبل دہشت گردوں کے کئی گروپ بھی پکڑ لئے گئے ان دہشت گردوں میں تین خودکش بمبار بھی شامل تھے جن کے قبضے سے 5خودکش جیکٹس برآمد ہوئیں اس طرح دوسری کا روائیوں میں اسلحہ کی بڑی کھیپ برآمد کی گئی یہ تمام اسلحہ اور بارود یوم آزادی کے موقع پر استعمال کیا جانا تھا، مگر اس تمام صورتِ حال کے باوجود پورے جوش وخروش کے ساتھ لاکھوں لوگوں نے گھروں سے نکل کر جشن منایا اس بات کی دلیل ہے کہ ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہورہا ہے اور عوام پہلے کی نسبت اب اپنے آپ کو زیادہ محفوظ سمجھنے لگے ہیں پشاور میں لوگوں کے جوش وخروش کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ معمول کے مطابق اس مرتبہ ہونے والی حکومتی تقریبات پس منظر میں چلی گئیں سٹرکوں پر اور میڈیا میں ہرطرف جشن کا شور برپا تھا اس مرتبہ جشن آزادی کی ایک اور خاص بات بھی محسوس کی گئی وہ یہ کہ اس مرتبہ افغان باشندے بالکل غائب تھے اور لوگوں نے ان کی عدم موجودگی کو بھی جی بھر کے انجوائے کیا۔

وفاقی حکومت کی سخت گیر پالیسی کے پیش نظر افغان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد واپس افغانستان چلی گئی افغان مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ بددستور جاری ہے اور اندازاً کم وبیش ایک ہزار خاندان افغانستان جا رہے ہیں۔ افغان مہاجرین کی واپسی کے آغاز کے ساتھ ہی پشاور کے مضافات میں جائیدادوں اور دکانوں کی قیمتوں میں اچانک کمی پیدا ہو گئی۔ افغان مہاجرین اپنی جائیدادیں اور دیگر سامان اونے پونے فروخت کر رہے ہیں جس سے مقامی سرمایہ کار بھرپور فائدہ اُٹھا رہے ہیں افغان مہاجرین کی واپسی پر عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے اپنی ناپسندیدگی اور غم وغصے کا اظہار کیا اپنے آبائی گاؤں چارسدہ میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اسفند یار ولی نے کہا کہ افغان مہاجرین کو زبردستی نکالنے کی کوشش کی گئی تو سخت مزاحمت کریں گے۔وفاقی حکومت کا غیر اعلانیہ اتحادی ہونے کے باوجود انہوں نے مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پختونوں کا ہمیشہ استحصال کیا گیا، افغان مہاجرین کو ہار پہنا کر لایا گیا اور اب دھکے دے کر نکالا جا رہا ہے۔انہوں نے دھمکی دی کہ اگر سی پیک منصوبے پر نواز شریف نے اپنے وعدے پورے نہ کئے تو احتجاج کے لئے نکل پڑیں گے۔انہوں نے فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ایکش پلان پر فوج نے پوری طرح عمل درآمد کیا، مگر وزارت داخلہ اپنے حصے کا کام کرنے میں ناکام ثابت ہوئی اسفند یارولی نے جوش خطاب میں کہا کہ اگر18ویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو ملک ٹوٹ جائے گا۔ اس سے قبل اسفند یارولی نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے متعلق بھی اس طرح کے جذبات کا اظہار کیا تھا۔

افغان مہاجرین کی واپسی کے مسئلے پر اسفندیارولی کا غصہ اپنی جگہ مگر اس تلخ حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی کہ وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے شناختی کارڈوں کی تصدیق کا عمل اور جعلی کارڈ ہولڈروں کی نشاندہی عوام کے لئے وبال جان بن گئی سپیشل برانچ کے اہلکاروں نے شناختی کارڈوں کی تصدیق کے عمل کو اپنا ذریعہ آمدن بنا لیا پاکستانی شہریوں کے شناختی کارڈ کئی کئی ماہ تک لٹکے رہتے ہیں جب تک کہ سپیشل برانچ کے اہلکاروں کی مٹھی گرم نہ کی جائے ایسے افراد کے پورے خاندان کے ارکان کے شناختی کارڈ بلاک کردیئے گئے، جنہوں نے جعلی شناختی کارڈ ہولڈر کی نشاندہی کی تھی ان تلخ حالات میں بھی اداروں کے ستائے افراد نے جشن آزادی کے موقع پر سبز ہلالی پرچم اُٹھا کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا شناختی کارڈ کی تصدیق کی ہنگامہ آرائی کے دوران مقامی پولیس نے سیکیورٹی فورسز کے تعاون کے ساتھ شہر سے منسلک آبادیوں میں اپریشن کی جنگ کو شروع کر دیا پولیس افسران اور اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد جشن آزادی کی شب اور تمام دن اپریشن میں مصروف رہی سیکیورٹی فورسز نے یکہ توت کی حدود میں بعض آبادیوں میں گھر گھر تلاشی مہم شروع کی جو ساری رات مسلسل جاری رہی اس مہم کے دوران بعض گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں،مگر بظاہر ان گرفتاریوں میں کوئی قابل ذکر نام یا کردار نہیں پکڑا گیا۔ پشاور کے عوامی حلقے اور تاجر رہنما ایک عرصہ سے یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ پشاور کو فوج کے حوالے کیا جائے خصوصاً مرکزی رہنما حاجی حلیم جان کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد تاجر تنظیموں نے جارحانہ رویہ اپنایا اور وزیراعلیٰ کے بعد عمران خان کے سامنے بھی شدید احتجاج کرتے ہوئے فوج کی تعیناتی کا مطالبہ کیا تھا، مگر اس کے برعکس حکومت پولیس اپریشن سے بھی گریز کرتی نظر آئی اس سانحہ کوئٹہ کے بعد جب آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ملک بھر میں کوجنگ اپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا تو مجبوراً صوبائی حکومت نے شہر کے مضافاتی علاقوں میں ایک اپریشن کرڈالا اس اپریشن کے کیا نتائج برآمد ہوئے اس بارے میں کسی کو کوئی معلومات نہیں ہیں البتہ گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا کو طویل خاموشی کے بعد قبائلی باشندوں کی گھروں کو واپسی کا خیال آ گیا۔انہوں نے اعلان کیا کہ اپریشن اور دہشت گردی کے نتیجے میں ہجرت کرنے والے تمام قبائلی باشندے رواں سال کے آخر تک اپنے اپنے گھروں کو باعزت واپس چلے جائیں گے، حالانکہ پاک فوج کے سامنے قبائلی باشندوں کی آباد کاری سب سے اہم اور سنگین مسئلہ ہے، کیونکہ اپریشن ضربِ عضب کی حتمی کامیابی یہی ہے کہ علاقوں سے بے دخل ہونے والے قبائلی عوام اپنے گھروں کو باعزت واپس جائیں۔

مزید : ایڈیشن 2