ملتان میں بچوں، نوجوانوں، طالبات اور بوڑھوں نے حصہ لیا، جھنڈوں کی بہار آگئی

ملتان میں بچوں، نوجوانوں، طالبات اور بوڑھوں نے حصہ لیا، جھنڈوں کی بہار آگئی

ملتان سے سیاسی ڈائری شوکت اشفاق:

وطن عزیز کا70 واں یوم آزادی ملک بھر کی طرح پورے جنوبی پنجاب میں بھی روایتی جوش و خروش سے منایا گیا بلدیاتی اداروں کے فعال نہ ہونے کی وجہ سے تمام اضلاع میں اہم تقریبات ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام ہی ہوئیں اور ان میں کسی جگہ بلدیاتی نمائندگی نہیں تھی البتہ شہروں اور تحصیلوں میں ارکان اسمبلی نے بوجوہ جشن آزادی کی تقریبات میں شرکت کی لیکن مجموعی طور پر یہ فریضہ سرکاری ملازمین ہی نبھاتے رہے خصوصاً ملتان میں تمام تقریبات گوکہ ضلعی حکومت کے بینر تلے ضرور ہوئیں لیکن ان شرکاء سے بیانات تک سرکاری تھے البتہ شہر کی ایک بڑی تقریب جو تاریخی قلعہ کہنہ ابن قاسم باغ کے دمدمہ پر ہوئی اس میں سخت سکیورٹی کے بعد کچھ شہریوں کو بھی داخلے کی اجازت دی گئی تھی البتہ مختلف شہروں میں متعدد غیرسرکاری تنظیموں نے آزادی کے جشن کی تقریبات برپا کیں اور بڑی کامیاب رہیں ویسے تو 14 اگست کا دن ایک ایسے تہوار کی شکل اختیار کر گیا ہے جس میں عوام بھرپور انداز میں شرکت کرتے ہیں اور ان کی یہ شرکت اتنی خوبصورت ہوتی ہے کہ گذشتہ کئی سالوں سے اس دن کے حوالے سے خواتین اور حضرات سمیت نوجوان لڑکے لڑکیاں اور خصوصاً بچے عیدین کی طرح کپڑے سلواتے ہیں جو اس دن کی مناسبت سے ہوتے ہیں جھنڈیاں ، لائٹنگ اور جھنڈا آویزاں کرنے کا رواج پہلے سے موجود ضرور تھا مگر اس مرتبہ گھروں کے ساتھ ساتھ کاروں ، موٹر سائیکلوں ، بسوں اور ٹرکوں کو بھی سجایا گیا تھا مختلف چوکوں پر لائٹنگ کا خوبصورت انداز میں اہتمام کیا گیا تھا اور جگہ جگہ ملی اور قومی ترانے گائے اور سنائے جا رہے تھے جبکہ ان تقریبات کی ایک خاص بات جو گذشتہ چند سالوں سے اب روایت بن چکی ہے وہ خصوصی پکوان اور کھانے ہیں جو دوستوں اور خاندانی رشتہ داروں نے آپس میں کر رکھے تھے جبکہ اس حوالے کی خاص بات اس مرتبہ دیکھنے میں آئی کہ مختلف نیشنل اور انٹرنیشنل برانڈز خصوصی ڈریسز، ان سلے کپڑوں ، جوتوں،جیولری ، اور دوسری اشیاء پر کمپنیوں نے 25 فیصد تک رعایت کا اعلان کر رکھا تھا جو خصوصی طور پر جشن آزادی کی مناسبت سے تھا اور کمپنیوں نے اس کو سلوگن بھی یہی دے رکھا تھا کہ جشن آزادی کی خوشیاں ان کے برانڈز کی اشیاء پر رعایت حاصل کرکے منائیں۔جویقیناً ایک مثبت قدم ہے جو قوم کی اس خوشی کے دن کے حوالے سے مزید خوشیاں دیں اور لوگوں نے بھی اس کا جواب مثبت انداز میں دیا غالباً پہلی مرتبہ ہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک بھر میں آزادی کی تقریبات منانے کیلئے8ارب روپے سے زیادہ کی رقم عوام نے خرچ کی ہے جو یقیناً ایک ریکارڈ ہے اور جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عوام کو اپنے وطن سے کتنی محبت ہے اور وہ اس کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں اس حوالے سے امریکہ کی ایک یونیورسٹی کی یہ ریسرچ رپورٹ بہت اہم ہے جس میں کچھ ملکوں کا سروے کیا گیا ہے کہ اس ملک کے باشندے اپنے ملک کیلئے کیا کچھ کرسکتے ہیں اس میں پاکستانی عوام کے بارے میں ہے کہ 89فیصد پاکستانی اپنے وطن پر جان دینے کا جذبہ رکھتے ہیں تو پھر اس قوم کو کسی بھی صورت ڈرایا یا خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا کوئٹہ کے بڑے سانحہ کے باوجود یہ قوم ڈرنے کی بجائے اپنی آزادی کی خوشیاں منانے کیلئے نہ صرف سڑکوں پر نکل گئی بلکہ دشمنان وطن کویہ واضع پیغام دیا کہ ہم زندہ قوم ہیں‘‘اور پاکستان ہماراپیارا وطن ہے یقیناً پاکستانی عوام اس جذبے کے ساتھ مثبت پیغام دیتے رہے۔

اس کیلئے ضروری ہے کہ حکومت بھی اس قوم کیلئے مثبت سوچ کے حامل منصوبے ترتیب دے اور انتظامیہ اور پولیس کے ذریعہ انہیں رسوا کرنے کی بجائے ان کی داد رسی کیلئے اقدامات کرے اور اس قسم کے واقعات نہ ہوں جو گزشتہ دنوں راجن پور کے علاقے داجل میں پیش آیا۔جس میں عوام نے مشتعل ہوکر نہ صرف مقامی تھانے کو آگ لگانے کی کوشش کی بلکہ ڈی پی او راجن پور کی جیپ سمیت پولیس کی سرکاری گاڑیاں نذر آتش کردیں عوام کی طرف سے اس قسم کے عمل یا رد عمل کی کسی بھی طرح حمایت نہیں کی جاسکتی لیکن پولیس کے رویے کو بھی کسی طور پر درست تسلیم نہیں کیا جاسکتا مذکورہ وقوعہ میں بھی پولیس اگر بروقت اقدامات کرتی اور روایتی انداز نہ اپناتی تو اتنا بڑا سانحہ نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ یہ سراسر پولیس کی نااہلی تھی کی محض چند گز کے فاصلے پر موجود تھانے کی دیوار کے آگے دو ڈاکوؤں نے دو موٹر سائیکل سوار بھائیوں سے اسلحے کے زور موٹر سائیکل چھیننے کی کوشش کی اور مزاحمت کرنے پر دونوں بھائیوں کو گولی مار دی اور فرار ہونے لگے۔ مقامی لوگوں نے فوری طور پولیس کو بروقت اطلاع کر دی لیکن تھانے میں موجود پولیس اہلکاروں نے اطلاع دینے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ مضروب کو ہسپتال لے چلیں ہم آر ہے ہیں۔ اس دوران دونوں مضروب کوہسپتال لے جایا گیا۔ لیکن ہسپتال انتظامیہ نے پولیس کیس کہہ کر علاج سے صاف انکار کر دیا۔ جبکہ پولیس ایک گھنٹے بعد وہاں پہنچ جاتی۔ جس سے ایک قیمتی جان وہیں ضائع ہوگئی۔ جبکہ دوسرے مضروب کو ڈیرہ غازیخان ہسپتال منتقل کیا گیا۔ جس پر عوام مشتعل ہو گئے اور انہوں نے پولیس کے خلاف تمام شہر بند کر دیا اور ایک ہجوم کی صورت میں تھانے کا گھیراؤ کر لیا اطلاع پر ڈی پی او بھی پہنچ گئے۔ لیکن مشتعل مظاہرین نے ان کی بھی نہ سنی اور گاڑیوں کو آگ لگا دی ۔ لیکن بعدازاں پولیس نے مقامی طور پر کرفیو نافذ کرکے ہوائی فائرنگ اور آنسو گیس کا استعمال کرکے مظاہرین کو منتشر تو کر دیا اورسیکڑوں لوگوں کے خلاف سنگین نوعیت کے پرچے درج کرلئے۔ پولیس نے یہ کارروائی تو کر لی لیکن کیا وہ اس بات کا جواب دے پائے گی کہ محض چند گز کے فاصلے پر ہونے کے باوجود وہ ڈکیتی کے مضروب کو بروقت طبی امداد بہم پہنچانے کی وجہ کیوں نہیں بتا سکتے ۔ پولیس پر اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے اور لوگ پولیس پر اعتماد کرنے کی بجائے قانون کو ہاتھ میں لینے لگ گئے ہیں اس قسم کے واقعات گذشتہ دنوں تواتر سے بچوں کے اغوا کے سلسلے میں بھی دیکھنے میں آئے ہیں کہ بچوں کے اغوا کے شبہ میں عوام نے ایسے لوگوں کو بھی شدید تشدد کا نشانہ بنا ڈالا جو کسی بھی طور پر اس قسم کی سرگرمی میں ملوث نہیں تھے اور ان میں سے کچھ توبھیک مانگنے والے تھے ۔

دوسری طرف ملتان میٹرو بس سروس کا ابھی 30 فیصد سے زیادہ کام رہتا ہے لیکن 6ستمبر کو اس کے افتتاح کا اعلان بھی کر دیا گیا۔ اب یہ اس اعلان کو عملی جامہ پہناتے ہیں کہ نہیں یہ چند دنوں میں معلوم ہوجائے گا۔ کیونکہ ملتان ہونے والی صرف ایک بارش نے اس منصوبے کے کافی رازوں سے پردہ اٹھا دیا ہے اور اس کی تکنیکی خرابیاں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔ جس پر ابھی تک قابو پانے کی کوشش نہیں ہورہی۔

مزید : ایڈیشن 2


loading...