انسانی سمگلروں کی گرفتاری کا ٹارگٹ پورا نہ کرنے پر ڈی جی ایف آئی اے کا اظہار برہمی

انسانی سمگلروں کی گرفتاری کا ٹارگٹ پورا نہ کرنے پر ڈی جی ایف آئی اے کا اظہار ...

ؒ ٓلاہور(رپورٹ :محمد یونس باٹھ)انسانی سمگلنگ میں ملوث اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم ملنے کے باوجود ایف آئی اے کے افسران تین ماہ گزرنے کے باوجود اپنا ٹارگٹ پورا نہیں کر سکے جس پر ڈی جی ایف آئی اے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان افسران سے وضاحت طلب کرنے اور انہیں مزید ایک ماہ کی مہلت دیکر سہولت کاروں کو گرفتار کرنے کا دوبارہ ٹاسک دیا ہے ورنہ ان افسروں کو تبدیل کر کے کسی دوسری جگہ بھجوانے کی بھی ہدایت کی ہے ۔واضح رہے کہ گرفتار ہونے والے لینڈ روٹ ایجنٹوں کے ایک گروہ کی نشاندہی پر بعض سہولت کاروں کے کوائف بھی صاحل کئے گئے کہ وہ کس طرح سادہ لوح افراد کو بغیر ویزہ اور پاسپورٹ ایران اور ترکی کے بارڈر کراس کراتے جس کے لئے" شیرو "کا کوڈ استعمال کیا جاتا ہے ۔ذرائع کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے شیخ خالد انیس نے چار ماہ قبل لینڈ روٹس کے ذریعے یورپ بھجوانے والے 6رکنی گروہ کو گرفتار کیا تھا جس میں عمر حیات ،اکبر ،نواز شاہد ،ملک تنویر ،راشد محموداور فاہد فاروق شامل تھے ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا تھا کہ وہ سینکڑوں افراد کو لینڈ روٹ کے ذریعے ترکی اور یونان بھجوا چکے ہیں اور یہ کام ان کے سہولت کار کرتے ہیں جو لوگوں کو یونان تک لیجاتے ہیں جس کے بعد یورپ کے لئے کوشش کی جاتی ہے ۔اور یورپ جانے کے شوق میں بیشتر افراد مارے بھی جا چکے ہیں ۔اسی طرح بیرون ملک بھجوانے کے نام پر سادہ لوح لوگوں سے رقم ہتھیانے والے بڑے گروہ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جبکہ ان کے مزید درجنوں چھوٹے گروہ جو پنجاب کے مختلف اضلاع میں کام کر رہے ہیں انہیں ابھی گرفتار کرنا باقی تھا اور ڈائریکٹر ایف آئی اے ماتحت اہلکاروں کو ان کی گرفتاری کے لئے 3ماہ کا ٹاسک دیا تھا جو کہ وہ پورا نہیں کر سکے اب ڈی جی ایف آئی اے نے پنجاب سمیت پورے ملک میں انسانی سمگلر وں کے بارے میں جب رپورٹ طلب کی تو پنجاب میں موجود انسانی سمگلر اور ان کے سہولت کاروں کا کیس بھی سامنے آیا جس پر ڈٰ جی ایف آئی اے سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے ڈائریکٹر ایف آئی اے پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کو ہدایت کی ہے کہ ذمہ دار افسران کو ان انسانی سمگروں اور سہولت کاروں کی گرفتاری کے لئے مزید مہلت تو دے دیں مگر ان کی ناقص کارکردگی پر ان سے وضاحت طلب کی جائے ۔

مزید : صفحہ آخر