بینظیر انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی تعمیر میں 22ارب روپے سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

بینظیر انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی تعمیر میں 22ارب روپے سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

لاہور (سپیشل رپورٹر)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی تعمیر میں مبینہ طور پر 22ارب روپے سے زائد کی کرپشن کی گئی ہے جبکہ رن ویز میں ناقص میٹریل اور ناقص ڈیزائن کی وجہ سے کریک پیدا ہو چکے ہیں جو ہوائی حادثات کا باعث بن سکتے ہیں۔ پی اے سی کا اجلاس اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی دور حکومت کے سول ایوی ایشن اتھارٹی مالی سال 2013-14ء کے آڈٹ اعتراضات پیش کئے گئے۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ائیر پورٹ اسلام آباد کی ابتدا میں تعمیر کی لاگت کا تخمینہ 36ارب تھا جو بڑھ کر اب86ارب روپے تک ہو گیا ہے۔ یہ اضافہ بھاری کرپشن کے نتیجہ میں ہوا ہے۔ صدر زرداری کی طرف سے منصوبے کا افتتاح کرانے کیلئے 4کروڑ روپے کے منصوبے کا ٹھیکہ ایک ارب روپے میں دیا گیا یہ منصوبہ چار سال گزرنے کے بعد بھی مکمل نہیں ہوا۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے مطابق مختلف پارٹیوں سے 14ارب 35کروڑ روپے ریکور ہی نہیں کئے جا سکے۔ بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ کا ڈیزائن تبدیل کر نے کے 4ارب روپے اضافی ادا کیے گئے ۔ رپورٹ کے مطابق ایئر پورٹ ٹھیکہ داروں کو غیر قانونی طریقہ سے2ارب 17کروڑ روپے ادا کئے گئے ہیں۔ اس طرح ایئر پورٹ کے کام کی جلد تکمیل کے لئے ٹھیکیدار کو مزید ایک ارب روپے ادا کر دیئے گئے ہیں۔ پی اے سی نے22ارب روپے کی کرپشن کی تحقیقات کے لئے ایم این اے عاشق گویانگ کی صدارت میں مزید 3رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو تحقیقات کر کے رپورٹ پی اے سی کو فراہم کرے گی۔ رپورٹ کی روشنی میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ ایئر پورٹ کی تعمیر میں معروف کنسلٹنسی فرم کو 7کروڑ روپے اضافی ادا کر دیئے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تعمیر شدہ رن ویز پر کریک پیدا ہو گئے ہیں جو حادثات کا موجب بھی بن سکتے ہیں۔ پی اے سی نے حکم دیا کہ شمس الملک رپورٹ کی روشنی میں ذمہ دار کرپٹ افسران کو معطل کر کے تادیبی کارروائی کریں ۔ کراچی ایئر پورٹ کے ملحقہ 1600گز کا پلاٹ پر پٹرول پمپ کی تعمیری اجازت دینے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

مزید : صفحہ آخر