عدلیہ، وکلاء اور پولیس کے درمیان بہتر تعلقات کیلئے پنجاب بھر میں کمیٹیاں تشکیل

عدلیہ، وکلاء اور پولیس کے درمیان بہتر تعلقات کیلئے پنجاب بھر میں کمیٹیاں ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے عدلیہ ،وکلاء اور پولیس کے درمیان بہتر تعلقات کار ، نظم و ضبط کے قیام اور پرامن ماحول کے لئے پنجاب بھر کے اضلاع میں کمیٹیاں تشکیل دے دی ہیں۔اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ کے 30دسمبر2015ء کے ایک مراسلے کا حوالہ دیتے ہوئے تمام اضلاع کے سیشن ججوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ضلع کے ڈسٹرکٹ پولیس افسروں اور سی سی پی او کو بھی اس کمیٹی میں شامل کیا جائے ۔یہ کمیٹیاں سیشن ججوں کی سربراہی میں کام کریں گی جس کے دیگر ارکان میں سینئر ترین ایڈیشنل سیشن جج ،سینئر سول جج ، بار کونسل کا ایک نمائندہ ،متعلقہ بار ایسوسی ایشن کا صدر اورسیکرٹری کے علاوہ ضلعی پولیس کا سربراہ شامل ہوگا ۔کمیٹی بار ،بنچ اور پولیس کے درمیان تعلقات ، کام کے حوالے سے مسائل کے حل ،تینوں شعبوں کے درمیان تعلقات کار میں بہتری کے لئے تجاویز مرتب کرے گی ،علاوہ ازیں کمیٹی کے اجلاسوں میں ججوں ،وکلاء اور پولیس افسروں کے رویہ پر بھی غور کیا جائے گا اور ماحول کو پرامن رکھنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے ۔سیشن جج کمیٹی کے تمام ارکان کی اجلاسوں میں حاضری یقینی بنانے کے ذمہ دار ہوں گے جبکہ اجلاس میں ہونے والی مشاورت اور فیصلوں کے حوالے سے ہائی کورٹ کو آگاہ رکھا جائے گا۔دریں اثناء ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن خان نے بھی عدلیہ ،وکلاء اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان ہم آہنگی اور کسی ناخوشگوار واقعات کے تدارک کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے ۔ایڈووکیٹ جنرل اس کمیٹی کے سربراہ ہوں گے جبکہ دیگر ارکان میں پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین ،لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور سی سی پی او لاہور شامل ہوں گے ۔ایڈووکیٹ جنرل کی طرف سے تشکیل دی گئی کمیٹی چیف جسٹس کی طرف سے قائم کی گئی ضلعی کمیٹیوں کے سہولت کار کے طور پر بھی کام کرے گی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...