15سالہ لڑکے نے ستاروں کے ذریعے سینکڑوں سال پرانا شہر دریافت کرلیا

15سالہ لڑکے نے ستاروں کے ذریعے سینکڑوں سال پرانا شہر دریافت کرلیا
15سالہ لڑکے نے ستاروں کے ذریعے سینکڑوں سال پرانا شہر دریافت کرلیا

  


نیویارک(نیوزڈیسک) کینیڈین صوبے کیوبک کے ایک 15سالہ لڑکے نے مایا آسٹرونومی اور سیٹلائٹ کی تصاویر کے ذریعے سینکڑوں سال پرانا شہر ڈھونڈ نکالا۔تفصیلات کے مطابق ولیم گیڈوری نے یہ قدیم شہر ڈھونڈا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ قدیم ’مایاتہذیب‘نے ستاروں کے ایک جھرمٹ کی لائن میں اپنے شہر اور قصبے بنائے۔اس کا کہنا ہے کہ یہ قدیم شہر ستاروں کے ان جھرمٹوں کی لائن میں بنائے گئے ہیں۔اس نے ستاروں کے ایک جھرمٹ کے دقیق مطالعے کے بعد بتایا کہ تین ستاروں کے جھرمٹ میں ایک شہر غائب ہے۔اس نے کینیڈین سپیس ایجنسی، گوگل میپ اورسیٹلائٹ کی تصاویر کے ذریعے اس گمشدہ شہر کو ڈھونڈا ہے۔ولیم کا کہنا ہے کہ یہ شہر ’یوکاٹن‘ کے جنگل میں واقع ہے۔کینیڈین سپیس ایجنسی کے ڈینیل ڈی لیسلی کا کہنا ہے کہ گھنے جنگلات کی وجہ سے اس علاقے کا مطالعہ ممکن نہیں تاہم سیٹلائٹ تصاویر میں کچھ ایسے نشانات ابھرے ہوئے نظر آتے ہیں جن سے یہ پتا لگتا ہے کہ یہاں کوئی شہر ہوسکتا ہے۔ایک اور ماہر آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ کی مدد سے ایک ایسی تصویر لی گئی ہے جس سے یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ یہ کوئی قدیم شہر ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ایک تصویر سے یہ گمان ہوتا ہے کہ یہ قدرتی جنگل کی نہیں بلکہ اس میں انسانی عمل دخل نظر آتا ہے جس سے یہاں شہر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اس کا کہنا ہے کہ نوجوان کی اس دریافت اور طریقے کے بعد ’مایا‘تہذیب کے مزید شہر ڈھونڈنے میں مدد ملے گی۔

مزید : صفحہ آخر


loading...