تھانہ زیدہ کے شہید ایس ایچ او سرکاری اعزاز کیساتھ سپرد خاک

تھانہ زیدہ کے شہید ایس ایچ او سرکاری اعزاز کیساتھ سپرد خاک

صوابی( بیورورپورٹ)تھانہ زیدہ کے شہید ایس ایچ او اصغر خان کو منگل کے روز ان کے آبائی گاؤں موضع تانو ( مانکی) علاقہ تھانہ چھوٹا لاہور ضلع صوابی میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا شہید ایس ایچ او کا جنازہ منگل کی علیٰ الصبح پونے دو بجے پولیس لائن میں ادا کی گئی جس میں ڈی آئی جی محمد اعجاز خان ،ڈی پی او صوابی جاوید اقبال خان، تمام سرکلز کے ڈی ایس پیز ، ڈی پی او مر دان دیگر پولیس آفسران اور اہلکاروں نے شرکت کی۔ اور شہید کی میت کو سلامی دی بعد ازاں اس کی میت شہید کے گاؤں موضع تانوپہنچائی گئی جہاں پونے گیارہ بجے نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی عبدالکریم خان کے علاوہ تمام ڈی ایس پیز ، ایس ایچ اوز ، انسپکٹرز ، منتخب نمائندوں ، سیاسی و سماجی کارکنوں ، صحافیوں ، تاجر برادری اور ضلع بھر کے عمائدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی شہید نے اپنے پیچھے چار سالہ بیٹا عباس ، ایک سالہ بچی اور بیوہ سوگوار چھوڑے ان کا ایک بھائی راضی خان پولیس انسپکٹر کے پوسٹ پر تعینات ہے والد انعام گل کے علاوہ بھائیوں میں بڑا بھائی رضا خان اور فورتھ ائیر میڈیکل کے طالب علم وقار شامل ہیں مجروح اے ایس آئی پولیس اسٹیشن زیدہ محمد نعیم خان نے تھانہ زیدہ میں ایف آئی آر درج کراتے ہوئے بتایا کہ وہ اور ایس ایچ او اصغر خان پولیس پارٹی کے ہمراہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن کر رہے تھے جب وہ پُرانا بازار زیدہ پہنچے تو ایک بالا خانہ سے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایس ایچ او اصغر خان اور ان کے علاوہ دو کانسٹیبل ذوالفقار، مرتضیٰ اور ایک راہ گیر بچہ جہانگیر خان زخمی ہو گیا۔ایس ایچ او اصغر خان رحمن میڈیکل انسٹی ٹیوٹ میں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بساانہوں نے قتل کی دعویداری مبینہ طور پر منیب ولد لیاقت اور ان کے نامعلوم ساتھیوں پر کی اور پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے تفتیش شروع کر دی ۔ شہید اصغر خان 1985میں پیدا ہوئے تھے پانچ سال قبل پبلک سروس کمیشن سے برائے راست اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے پوسٹ پر تعینات ہوئے ان کی تقرری ڈی پی او آفس میں بحیثیت پی آر او ہوئی بعد ازاں وہ ڈی پی او صوابی کے ریڈر بن گئے اعلیٰ کارکردگی اور فرض شناسی کے بناء پر وہ تیزی سے ترقی کے منازل طے کر تے ہوئے تھانہ زیدہ میں پہلی بار ایس ایچ او کے عہدے پر تعینات ہو گئے ۔وہ صوبہ خیبر پختونخوا میں بہت کم عمر ایک ایسے پولیس آفیسر تھے جنہوں نے محکمہ پولیس میں فرض شناسی، بہادری، ایمانداری اور دیانتداری میں اپنا لوہا منوایا تھا ان کے ان صلاحیتوں کے عوض انہیں کئی بار ایوارڈز سے بھی نوازا گیا ہے وہ صوم و صلوٰۃ کے نہایت پابند تھے ان کی شہادت سے ضلع بھر میں صف ماتم بچھ گئی ہر آنکھ اشکبار اور پُر نم تھی جب کہ محکمہ پولیس صوابی میں ان کی شہادت سے جو خلاء پیدا ہو گیا وہ مدتوں تک پُر کرنا ممکن نہیں وہ مظلوموں کے ہمدرد تھے یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے آج ضلع بھر میں انکی شہادت پر لوگ انتہائی آفسردہ دکھائی دے رہے ہیں#

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...