2 خواتین کا سسرالیوں کے ہاتھوں قتل ‘ شاہ جمال پولیس ملزموں پر مہربان

2 خواتین کا سسرالیوں کے ہاتھوں قتل ‘ شاہ جمال پولیس ملزموں پر مہربان

ملتان(کرائم رپورٹر) مظفر گڑھ میں 2 مختلف واقعات میں 2حاملہ خواتین کو موت کے گھاٹ اتارنے والے درندہ صفت ملزمان کے خلاف علاقہ پولیس کاروائی سے گریزاں ہے۔ وزیر ااعلیٰ کے نوٹس کے باوجود مقامی پولیس روایتی حربے آزماتے ہوئے کاروائی میں تاخیر کر رہی ہے حکام (بقیہ نمبر39صفحہ12پر )

سے نوٹس لینے کا مطالبہ ۔ مظفر گڑھ کے تھانہ شاہ جمال کے علاقے کی نور مائی نے روزنامہ پاکستان دفتر آکر بتایا کہ اس کی اپنی بیٹی طاہرہ بی بی کی شادی کچھ عرصہ قبل سلمان سے ہوئی۔ شادی کے شروع میں ہی گھر میں اکثر جھگڑا رہتا تھا۔ طاہرہ کا سسر عبدالحمید اس پر بری نظر رکھتا تھا ،جبکہ سلمان لاہور محنت مزدوری کرتا تھا۔طاہرہ نے اپنے سسر کی بری نظر کے بارے جب دیگر گھر والوں کو بتایا تو الٹا اس پر الزام لگایا اور اس سے جھگڑا کیا جس پر طاہرہ بی بی اپنے میکے آگئی۔بعدازاں عبدالحمید اور دیگر اہل خانہ اسے منا کر گھر لے آئے۔6جون 2016ء کو عبدالحمید نے طاہرہ بی بی کے ساتھ بد اخلاقی کی اور حسینہ بی بیِ ، کے ہمراہ بلال نامی شخص کے گھر لے جاکر اس کا گلہ گھونٹ کر قتل کردیا۔اور اس کی لاش نہر میں پھینک دی،بعدازاں پولیس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ سے قبل ہی اسے خود کشی قرار دیا جو کہ سراسر نا انصافی بعدازاں پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں ثابت ہوا کہ اس کا گلہ گھونٹ کر قتل کیا گیا اور اس پر بہیمانہ تشدد بھی کیا گیا۔پولیس نے ملزمان عبدالحمید اور حسینہ بی بی کو گرفتار کرلیا جبکہ بلال کو بے قصور قرار دے رہی ہے۔ڈی پی او مظفر گڑھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائے اور انہیں کیس کے اصل محرکات سے آگاہ کیا جائے،دوسرے واقع میں اسی تھانہ کے علاقے میں قتل ہونے والی مقتولہ فوزیہ بی بی کے بھائی احمد کا کہنا تھا کہ اس کی بہن کو جو 8 ماہ کی حاملہ خاتون تھی اس کی ساس نندوں اور دیوروں اللہ رکھا ،اللہ دتہ،حق نواز،ربنواز،حاجراں بی بی ،حلیمہ بی بی ،انور مائی ہے نے تشدد کر کے پیٹ میں کلہاڑے کا وار کیا جس سے وہ اور اس کا بیٹا جاں بحق ہوگئے۔پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ221/16درج کیا تاہم کاروائی نہ کی دو ملزمان کو گرفتار کیا اور دو ماہ گزر گئے ہیں پولیس ان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ان کا بھی ڈ ی پی او مظفر گڑھ سے مطالبہ ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...