جرائم پیشہ گروہ پولیس پر دباؤ کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے ،عرفان اللہ

جرائم پیشہ گروہ پولیس پر دباؤ کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے ،عرفان ...

چارسدہ (بیورورپورٹ) تھانہ ترناب کے ایس ایچ او عرفان اللہ نے کہاہے کہ علاقے کا منظم جرائم پیشہ گروہ پولیس پر دباؤ ڈالنے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعال کر رہے ہیں ۔پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے اور خاتون کو ننگی گالیاں دینے کے الزام میں تین سگے بھائیوں کو گرفتارکیا جسے اپنی بے عزتی سمجھ کر ملزمان ترناب پولیس پر من گھڑت الزامات لگا رہے ہیں۔ ملزمان کے بڑے بھائی سلیمان دیگر اضلاع کے پولیس کو ایک درجن سنگین مقدمات میں مطلوب ہیں۔ وہ چارسدہ میں میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے ۔ اس موقع پر مدعی مقدمہ بحرا للہ ولد حمایت اللہ سکنہ مر زا ڈھیر نے واقعہ کے حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ نصر اللہ وغیر ہ کے ذمہ میرے بھائی کے لاکھوں روپے واجب الادا تھے اور اس حوالے سے باقاعدہ تحریری معاہدہ بھی سٹامپ پیپرر پر موجود ہے اور مذکورہ معاہدہ ملزمان ہم سے چھیننا چاہتے تھے ۔11اگست کو ملزمان جدید اسلحہ سے لیس ہمارے دروازے پر آئے اور والدہ کو ننگی گالیاں اور دھمکیاں دیکر چلے گئے جس کے خلاف انہوں نے قانون ہاتھ لینے کی بجائے قانون کا سہارا لیا اور تھانہ ترناب میں ایف آئی آر درج کی جس پر پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کئے مگر معززین علاقہ نے تھانہ ترناب میں ملزمان اور ہمارے درمیان راضی نامہ کیا جس کے اگلے روزعدالت نے ملزمان کو ضمانت پر رہا ئی کا حکم دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان اب پولیس کو دبانے کیلئے منفی ہتھکنڈنے استعمال کررہے ہیں ۔اس حوالے سے ایس ایچ او تھانہ ترناب عرفان اللہ نے بتایا کہ ملزمان نے علاقے میں اپنا راج قائم کیا تھا اور قانون کو گھر کی لونڈی سمجھتے تھے ۔ ملزمان باقاعدہ سنگین مقدمات میں مختلف تھانوں کو ایک درجن مقدمات میں مطلوب ہیں اور پورے علاقے میں ایک دہشت قائم کی تھی جس کی وجہ سے شہری ان کے خلا ف قانونی کاروائی سے گریز کر تے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ پشاور پولیس کے اہلکار بحر اللہ کی رپورٹ پر ترناب پولیس نے قانون کے مطابق ملزمان کے خلاف کاروائی کی اور باقائدہ گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا ۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ملزمان کے ایک بھائی سلیمان تھانہ ترناب کے علاوہ عمرزئی ، کرک ، کوہاٹ ، خوازہ خیلہ ، دیر ،سوات ، مٹہ اور دیگر تھانوں میں سنگین مقدمات میں پولیس کو مطلوب ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے مذکورہ جرائم پیشہ گروہ کی راج دانی ختم کر نے کا اصولی فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے اعلی پولیس حکام سے مشاور ت کی جا رہی ہے ۔ملزمان کی طرف پولیس پر لگا ئے جانے والے الزامات کے حوالے سے انہوں نے اپنے موقف میں بتایا کہ پولیس نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے اور خاتون کو ننگی گالیاں دینے کے الزام میں تینوں ملزمان کو قانون کے مطابق گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جسے اپنی بے عزتی سمجھ کر ملزمان ترناب پولیس پر من گھڑت الزامات لگا رہے ہیں جس میں کوئی صداقت نہیں۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...