سرحد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو اکنامک زون میں ضم کرنے پر جواب طلب

سرحد ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو اکنامک زون میں ضم کرنے پر جواب طلب

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس قیصررشید اور جسٹس روح ا لامین پرمشتمل دورکنی بنچ نے صوبائی حکومت کی جانب سے سرحدڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اکنامک زون ڈویلپمنٹ منیجمنٹ کمپنی میں ضم کرنے کے خلاف دائررٹ پرایڈوکیٹ جنرل کونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیاہے جبکہ ایس ڈی اے کے ملازمین کی حیثیت برقراررکھنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں فاضل بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز میاں محب اللہ کاکاخیل ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائرایس ڈی اے ایمپلائزفیڈریشن خیبرپختونخوا کے صدر محمداسماعیل خلیل کی جانب سے دائررٹ پرجاری کئے اس موقع پر عدالت کو بتایا گیا کہ خیبرپختونخواحکومت نے ایک آرڈیننس جاری کیاہے جس کے تحت سرڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اثاثے اورملازمین کو اکنامک زون ڈویلپمنٹ منیجمنٹ کمپنی میں ضم کردیاگیاہے جبکہ ایس ڈی اے کے متعدد صنعتی زون ہیں اوران کے اثاثے ایک ارب سے زائد مالیت کے ہیں تاہم صوبائی حکومت بعض افراد کو نوازنے کے لئے صوبے کے ملکیتی قیمتی اثاثے بعض صنعت کاروں کے حوالے کرناچاہتی ہے اورقبل ازیں ایس ڈی اے کی تحلیل کو پشاورہائی کورٹ کالعدم قرار دے چکی ہے تاہم اس حکم کو غیرموثرقرار دینے کے لئے مذکورہ آرڈیننس جاری کیاگیاہے اس موقع پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل وقاراحمد نے عدالت کو بتایاکہ آرڈیننس کے تحت تمام ملازمین کو تحفظ حاصل ہے اورانہیں گولڈن ہینڈشیک کاآپشن بھی دیاگیاہے جبکہ مذکورہ آرڈیننس کے حوالے سے قانون سازی بھی صوبائی اسمبلی میں جاری ہے فاضل بنچ نے بعدازاں سماعت ستمبرکے تیسرے ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے اس حوالے سے ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا سے رائے طلب کرلی ہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر