سابق حکمرانوں نے ریاستی اداروں کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا ، شکیل احمد

سابق حکمرانوں نے ریاستی اداروں کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا ، شکیل احمد

 چکدرہ(نمایندہ پاکستان)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے بہبودآبادی شکیل احمد خان نے کہاہے کہ پچھلے 68سالوں میں حکمرانوں نے ریاستی اداروں کو ذاتی مفادات کی خاطرکرپشن اور سیاسی مداخلت کی بھینٹ چڑھاکر کوکھلاکردیاہے اور صورتحال یہ ہے کہ روائتی حکمرانوں کے ہاتھوں یرغمال اداروں میں عوام کے مسائل حل کرنے اور ملک کوترقی کی راہ پر گامزن کرنے کی سکت باقی نہیں رہی ہے۔وہ گزشتہ روز مالاکنڈتعلیمی بورڈ چکدرہ میں ستوری دا پختونخوا ایوارڈ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ عوام نے میرٹ کی بالادستی اور اداروں میں اصلاحات کے لئے تحریک انصاف کوووٹ دیاتھااوراگر پی ٹی آئی اس میں ناکام رہی تو اگلے الیکشن میں اس کاحشربھی روائتی سیاسی جماعتوں جیساہوگایہی وجہ ہے موجودہ صوبائی حکومت گوں ناگوں مشکلات کے باوجود اداروں کی بحالی کے لئے مژبت اقدامات اٹھارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ تعلیم حصول ترقی کاواحد زینہ ہے لیکن صوبہ خیبرپختونخواکی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں طبقاتی نظام تعلیم رائج ہے تاہم ان کی حکومت نے طبقاتی نظام تعلیم کے خاتمے کی غرض سے نرسری تاپنجم یکساں نظام رائج کردیاہے جوکہ بنیادی یونٹ ہے۔وزیراعلیٰ کے مشیر نے کہاکہ ان کی حکومت نے میرٹ کی پالیسی اور این ٹی ایس کے شفاف نظام کے تحت پچھلے تین سالوں کے دوران 30ہزاراساتذہ کوبھرتی کیاہے جبکہ 25ہزارمزید اساتذہ کوبھرتی کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم سمیت تمام شعبوں میں اصلاحات لارہے ہیں اورعوام واضح تبدیلی محسوس کرہے ہیں۔شکیل خان نے شکوہ کیاکہ گیس رائلٹی کی مدمیں صوبہ خیبرپختونخواکے اربوں روپے وفاق کے ذمے واجب الاداہیں مگر وفاق صوبے کوایک روپیہ نہیں دے رہاہے جس کی وجہ سے ان کاصوبہ مالی بحران کاشکارہے مگر اس کے باوجود ان کی حکومت اپنے منشورکے مطابق چل رہی ہے۔اس قبل چیئرمین بورڈپروفیسر شوکت علی اور سیکرٹری بورڈ پروفیسرطارق محمود نے بھی خطاب کیا۔چیئرمین بورڈ نے ایوارڈکے لئے نامزد طلباء وطالبات کو مبارکباددیتے ہوئے انہیں اپنی پڑھائی اسی طرح جاری رکھنے کی ہدایت کی اور کہاکہ قوم کامستقبل ان بچوں سے وابستہ ہے۔انہوں نے میرٹ کی پالیسی ،اخلاقی اقداراور سائنس وٹیکنالوجی سے استفادہ لینے پر زوردیتے ہوئے کہاکہ ان کے بغیرترقی کاحصول ممکن نہیں اورکسی بھی معاشرہ میں احساس محرومی کے خاتمہ اور ظلم وزیادتی کابہترین انتقام تعلیم ہی ہوتاہے۔سیکرٹری بورڈ نے اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت 2013سے ذہین طلباء کی حوصلہ افزائی کے لئے خصوصی گرانٹ کے تحت انہیں ایوارڈزسے نوازرہی ہے جس سے معیارتعلیم بڑھ رہاہے۔انہوں نے کہ طلباء میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے تاہم ان میں محنت اور لگن ہونی چاہئے۔تقریب میں ستوری داپختونخواسکالرشپ پروگرام کے تحت سال 2015میں میٹرک اور انٹرکے امتحانات میں سائنس اور آرٹس گروپ میں پوزیشن لینے والے 60سے زائد طلباء وطالبات کوایوارڈزدیئے گئے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر