زیتون کے ایک کروڑ پودے مفت تقسیم کرینگے،شاہ فرمان

زیتون کے ایک کروڑ پودے مفت تقسیم کرینگے،شاہ فرمان

پشاور( پاکستان نیوز)خیبر پختونخوا کے وزیر آبنوشی شاہ فرمان نے کہا ہے کہ کوہ دامان کی چھ یونین کونسلز زیتون کی کاشت کے لئے نہایت موزوں ہیں اس لئے حکومت ایک کروڑ زیتون کے پودے یونین کونسل کے کاشتکاروں میں مفت تقسیم کرے گی جس سے ایک یونین کونسل کی سالانہ آمدنی 40کروڑروپے تک پہنچ جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے ر وز اپنے حلقہ نیابت پی کے۔10پشاورکے دورہ کے دوران زیتون کے کاشت شدہ پودوں اور نئے سولرٹیوب ویلوں کے معائنے کے موقع پرکیا۔وزیر آبنوشی شاہ فرمان نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یونین کونسل متنی،مریم زئی،شیریکرہ،ادیزئی،ازاخیل اور ارمڑ بالا کی زمین زیتون کے پودوں کی کاشت کیلئے انتہائی قیمتی ہونے کی وجہ سے موجودہ حکومت نے اس کے آبپاشی کے نظام کو مزید بہتر کیا ہے ۔حکومت نے اس حلقے میں اب تک30نئے سولر ٹیوب ویلوں کی تنصیب کی ہے جبکہ25ناکارہ یا بند بجلی کے ٹیوب ویلوں کو سولرسسٹم پر منتقل کیا جا رہا ہے جس سے تقریباً13ہزار جریب زمین قابل کاشت ہوگی۔انہوں نے کہاکہ لفٹ ایریگیشن کنال میں پانی کے بہاؤ کے لئے باڑہ کے قریب دو سولر پینل لگائے جا رہے ہیں جس سے ہر مہینے دو کروڑ روپے بجلی کی مد میں بچیں گے۔اسی طرح مریم زئی اورشریکرہ میں کاریز سسٹم کے ذریعے پانی کو زمینداروں کے زرعی مقاصدکیلئے استعمال میں لایا گیا ہے۔صوبائی وزیر نے مزیدکہاکہ ان کے حلقہ میں لڑکوں اور لڑکیوں کے تمام ہائی سکولوں کو ہائیر سیکنڈری سکولوں کا درجہ دے دیا گیا ہے جبکہ کوہ دامان میں نیا تعمیرکیا گیا گورنمنٹ ڈگری کالج فار بوائز اکتوبرکے مہینے میں محکمہ تعلیم کے حوالے کر دیا جائے گا جس سے تمام یونین کونسلوں کے بچے اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں گے ا وران کو تعلیم کیلئے اب دوردراز جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے حلقہ نیابت پی کے۔10میں سڑکوں کانیٹ ورک پھیلا دیا ہے ، ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی حاضری اور وہاں علاج معالجہ کی سہولیات کی دستیابی یقینی بنا ئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میںیہ حلقہ شدت پسندوں کی سرگرمیوں اور سیاسی رہنماؤں کی عدم دلچسپی سے کافی پسماندہ رہا ہے مگراب پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اس حلقہ کی ترقی اور اسے ترقیافتہ علاقوں کے ہم پلہ لانے کے لئے اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کر رہی ہے اور وہ دن دور نہیں جب یہاں کے عوام کا معیار زندگی بھی بلند ہوگا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...