سب رجسٹرار کی ملی بھگت سے سگے بھتیجوں نے بیوہ پھوپھو کو کروڑوں کی اراضی سے محروم کر دیا

سب رجسٹرار کی ملی بھگت سے سگے بھتیجوں نے بیوہ پھوپھو کو کروڑوں کی اراضی سے ...

ملتان (ملک اعظم سے) موضع کوٹلہ سادات میں واقع 40 کنال اراضی ہتھیانے کیلئے گل بقیہ کے بھتیجوں نے منچن آباد کا جعلی مختار نامہ تیار کیا رجسٹری برانچ ملتان سٹی کے عملہ کی آشیرباد حاصل کرنے کے بعد 20 کروڑ روپے سے زائد مالیت (بقیہ نمبر41صفحہ7پر )

والی اراضی صرف 90 لاکھ میں اپنے نام منتقل کروالی۔ اس فراڈ کا انکشاف اس وقت ہوا جب گل بقیہ کی اراضی ڈی ایچ اے کو فروخت کرنے کی کوشش کی گئی جعلسازی سامنے آنے پر ڈی ایچ اے حکام نے اراضی خریدنے سے انکار کردیا 1 سال سے زائد کے عرصہ گزارنے کے باوجود نا تو سب رجسٹرار ملتان سٹی کے خلاف کوئی ادارہ حرکت میں آیا اور نہ ہی جعلسازی میں مبینہ طور پر ملوث رجسٹری برانچ ملتان سٹی کے عملہ کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی بتایا جاتاہے کہ 20 مارچ 2015ء ؁ کو سید غلام مصطفی شاہ ولد سید محمد عارف شاہ نے ایک مختار نامہ نمبری 13/4 تیار کرلیا مختار نامہ رجسٹری برانچ منچن آباد کا ظاہر کیا گیا مختار نامہ گل بقیہ بحق غلام مصطفی شاہ کے نام پر تھا اس مختار نامہ کے ذریعہ گل بقیہ نے موضع کوٹلہ سادات میں واقع 40 کنال سے زائد اراضی کی فروخت اختیار غلام مصطفی شاہ کو دیا پر مختار نامہ مئی 2015 ء ؁ میں سب رجسٹرار ملتان سٹی ملک شفیق کے سامنے پیش کیا گیا اس موقع پر سب رجسٹرار سٹی نے مذکورہ مختار نامہ کی سرکاری طور پر تصدیق کرانے کی بجائے جعلسازوں کی ہی تصدیق کرانے کا کیا جس پر گل بقیہ کے رشتہ داروں نے ایک رپورٹ تیار کی جس میں تصدیق کی گئی کہ مختار نامہ نمبر 13/4 مورخہ 20 مارچ 2015ء ؁ بہی نمبر 4، صفحہ نمبر 159 زائد بہی جلد نمبر 4 وصفحہ نمبر 159 زائد بہی جلد نمبر 38صفحات 169تا 170درست ہے اور تاحال انتقال نہ ہوا ہے یہ رپورٹ 15 مئی 2015 ء ؁ کو تیار کی گئی ۔ بعد ازاں اس رپورٹ پر سب رجسٹرار منچن آباد کے دستخط موجود ہیں جو کہ جعلی ہیں اس رپورٹ کو رجسٹری برانچ ملتان مئی میں پیش کیا گیا جہاں رجسٹری برانچ کے عملہ نے نہ تو اس خود ساختہ رپورٹ پر اعتراض کیا اور نہ سرکاری طور پر تصدیق کرنے کی زحمت گوارا کی ، سب رجسٹرار ملتان سٹی نے آناً فاناً 30 مئی 2015 ؁ کو رجسٹری نمبر 7950 کے ذریعہ اراضی رجسٹریشن کی منظوری جاری کردی بتایا جاتا ہے موضع کوٹلہ سادات کا ایریا ڈی ایچ اے کے زیر کنٹرول مواضعات میں ایک ہے یہاں اراضی کی قیمت اس وقت 40 سے 50 لاکھ روپے فی کنال ہے گل مسماۃ گل بقیہ کی اراضی کی قیمت 20 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے لیکن جعل ساز گروہ نے مذکورہ اراضی صرف 90 لاکھ روپے میں اپنے نام ٹرانسفر کرا دی معلوم ہوا ہے کہ غلام مصطفی شاہ نے یہ اراضی سید حسین شاہ ولد سید محمد عارف شاہ سکنہ گاڑھے واہن اور سید خالد حسین بخاری ولد سید نوید آفتاب بخاری سکنہ نیل کوٹ کو فروخت کی جنہوں نے یہ اراضی جب ڈی ایچ اے کو فروخت کرنے کی کوشش کی تو اس وقت اس جعل سازی کا بھانڈا پھوٹ گیا جس کے بعد غلام مصطفی شاہ منظر عام سے غائب ہے معلوم ہوا ہے سب رجسٹرار ملتان سٹی نے کروڑوں روپے مالیت کی اراضی ہتھیانے کیلئے جعل ساز گروہ کا برابر ساتھ دیا اور اس کے عوض ایک بڑی رقم وصول کی اس کے بدلے میں مختار نامہ سرکاری طور پر تصدیق کے کرانے سے احتراز برتا جس کی وجہ سے ایک بیوہ گل بقیہ اپنی کروڑوں روپے مالیت کی اراضی سے محروم ہوچکی ہے گل بقیہ کے بھائی سید وارث شاہ نے مختلف فورم پر درخواستیں دیں لیکن 1 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود گل بقیہ کو انصاف نہیں ملا جبکہ سب رجسٹرار ملتان سٹی اور رجسٹری برانچ کے عملہ کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی تاہم تمام معاملات کو دبا دیا گیا۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...