فلپائن میں منشیات کے سمگلرز کے خلاف آپریشن،گلیاں لاشوں سے بھرنے لگیں

فلپائن میں منشیات کے سمگلرز کے خلاف آپریشن،گلیاں لاشوں سے بھرنے لگیں
فلپائن میں منشیات کے سمگلرز کے خلاف آپریشن،گلیاں لاشوں سے بھرنے لگیں

  

منیلا(نیوزڈیسک)فلپائن حکومت کی منشیات کے سمگلروں کے خلاف چلائی گئی بدترین مہم سے سمگلروں کی حیثیت کیڑوں مکوڑوں سے بھی کم ہو کر رہ گئی ہے۔گلی گلی میں خون آلود لاشیں دلوں کو دہلانے لگیں۔

ڈیلی میل کے مطابق فلپائن میں حکومت نے منشیات کے سمگلروں کے خلاف خصوصی آپریشن کا آغاز کردیا ہے جس میں جس شخص پر ذرا سا بھی گمان ہو کہ وہ منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہے کو دیکھتے ہی گولی مار دی جاتی ہے۔

فلپائنی صدر روڈریگو ڈیوٹرٹے کے حکم پر شروع کیئے گئے اس آپریشن کے بعد سے اب تک ایک ہزار مبینہ ڈرگ سمگلرز کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس آپریشن میں سکیورٹی فورسز کو اس قدر بااختیار کردیا گیا ہے کہ وہ جس شخص پر منشیات فروشی یا منشیات کی سمگلنگ کا ذرا سا بھی شبہ ہو اسے گرفتار یا ہلاک کردیا جائے۔

فلپائنی صدر نے ملک میں موجود ایسے سینکڑوں سیاستدانوں ،فوجی اہلکاروں اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کے نام لے کر کہا کہ یہ لوگ ملک کے بچوں کا مستقبل تباہ کررہے ہیں۔انہوں نے احکامات جاری کئے کہ مذکورہ افراد سرنڈر کردیں ورنہ ان کا ’شکار ‘کیا جائے گا۔

صدر کی جانب سے جاری کرد ہ ان احکامات کے بعد سکیورٹی فورسز حرکت میں آگئیں اور منیلا سمیت ملک کے مختلف شہروں کی گلیوں میں مبینہ منشیات سمگلرز کی لاشیں بکھری ہوئی نظر آتی ہیں۔

مزید : بین الاقوامی