4 برس ساتھ نبھانے کے باوجود مسلم لیگ (ن) نے اہمیت نہیں دی: ممتاز بھٹو

4 برس ساتھ نبھانے کے باوجود مسلم لیگ (ن) نے اہمیت نہیں دی: ممتاز بھٹو
4 برس ساتھ نبھانے کے باوجود مسلم لیگ (ن) نے اہمیت نہیں دی: ممتاز بھٹو

  


لاہور، کراچی (ویب ڈیسک) سابق وزیراعلیٰ و سابق گورنر سندھ سردار ممتاز علی بھٹو کے قریبی ساتھیوں نے ایک مرتبہ پھر انکی طرف سے سندھ نیشنل فرنٹ کی بحالی کے بعد میدان میں آگئے ہیں اور کہاہے کہ چارسال ساتھ دینے کے باوجود حکمران جماعت نے اہمیت نہیں دی ، ممتاز بھٹو نے سندھ نیشنل فرنٹ کو 2012ءمیں مسلم لیگ (ن) میں ضم کردیا تھا۔ ممتاز بھٹو سندھ میں پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنا چاہتے تھے۔ انکے نزدیک پیپلز پارٹی ممتاز بھٹو اور انکے قریبی افراد کیخلاف مسلسل انتقامی کارروائیوں میں مشغول ہے۔

ممتاز بھٹو آصف زرداری کیخلاف سخت زبان استعمال کرتے رہے اور وزیراعظم نواز شریف سے اس بات پر ناراض ہوگئے کہ وہ پیپلز پارٹی کیخلاف کوئی کارروائی کرنے کی بجائے مفاہمانہ پالیسی کیوں اپنائے ہوئے ہیں۔  ممتاز بھٹو نے اپنی جماعت سندھ نیشنل فرنٹ کو بحال کردیا اور انکے صاحبزادے نے مشیر کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ۔ ممتاز بھٹو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) سے 4 سال ساتھ نبھایا مگر ان کی جانب سے کسی قسم کی نمایاں اہمیت نہیں دی گئی اور نہ ہی کئے گئے معاہدے پر عمل کیا گیا جس کے بعد ساتھیوں کے مشورے سے ہم نے سندھ نیشنل فرنٹ کودوبارہ بحال کیا ہے۔ ہم مسلم لیگ (ن) میں کوئی شخصی مفاد حاصل کرنے نہیں گئے تھے۔ ملک بڑی مشکلات میں ہے جس کی وجہ حکمرانوں اور اپوزیشن کی مفاہمت ہے۔

مزید : کراچی


loading...