گھر سے بھاگے بچوں سے ” مکروہ دھندے “ کرانیکا انکشاف

گھر سے بھاگے بچوں سے ” مکروہ دھندے “ کرانیکا انکشاف
 گھر سے بھاگے بچوں سے ” مکروہ دھندے “ کرانیکا انکشاف

  


لاہور (ویب ڈیسک)گھر سے بھاگے ہوئے بچوں سے منشیات فروشی ،جیب تراشی اور جسم فروشی کا کام کرانے کا انکشاف ہواہے ، لاہور ، راولپنڈی ملتان میں18 بڑے گروہ اس کام کیلئے متحرک ہیں، اغواکارگھروں سے بھاگے ہوئے بچوں کو مینار پاکستان ، درباروں، ٹرانسپورٹ کے اڈوں اور مختلف سنوکراینڈ بلیئرڈ کلبوں سے بہلا پھسلا کر لے جاتے ہیں اوران بچوں کو نشہ آور سیرپ اور دیگر نشہ آور اشیا کھلا کر کچھ عرصہ تک اپنے پاس رکھتے ہیں اس کے بعد ان کے ذریعے منشیات فروشی ، جیب تراشی اور جسم فروشی کا دھندا کر ا یا جاتا ہے۔

روزنامہ دنیا کے مطابق اغواکارگروہوں کے سینکڑوں کارندے سارا دن گھر سے بھاگے ہوئے بچوں کی تلاش میں مختلف پارکوں،ٹرانسپورٹ اڈو ں اور مزاروں پر موجود رہتے ہیں ،وہ بچوں کو کھانا کھلانے کے بہانے لے جاتے ہیں اور نشہ ملا کھانا کھلا دیتے ہیں۔لاہور میں لاری اڈا ،داتا دربار ، ریلوے سٹیشن ، باغبانپورہ ، شاہدرہ ، ملتان روڈ ، ٹھوکر نیاز بیگ ، چونگی امر سدھو اور سندر کے علاقوں میں ان گروہوں نے کرائے پر جگہیں لے رکھی ہیں جہاں ان بچوں کو رکھا جاتا ہے۔ پنجاب حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گھر سے بھاگے ہوئے بچوں سے مختلف گروہ مکروہ کام کراتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ لاہور میں داتا دربار کے علاقہ میں جید ا باورچی ، ارشاد عرف شادا، منظور احمدعرف بورا اور رفیق عرف فیقا سائیں ،لاری اڈا میں جیرا کلچے والا جبکہ ملتان روڈ پر فضل خان ایسے گروہوں کے سربراہ ہیں۔ داتا دربار کے باہر ایک معروف شربت کی دکان ، نیازی اڈا میں ایک چائے کے بڑے ہوٹل اور مال روڈ پر ایک معروف آ ئس کریم پارلر کے باہر بچوں کی منڈیاں لگتی ہیں ،جہاں سے عیاش لوگ بچوں کو جسم فروشی کیلئے لے جاتے ہیں۔

داتا دربار ، لاری اڈااور نیازی اڈ ا میں بچوں کو ورغلانے کیلئے ایسی چیزیں رکھی ہوئی ہیں جن میں بچے دلچسپی لیتے ہیں اوربرائی کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ جن بچوں سے منشیات بکوائی جاتی ہے ان کو منشیات سکول بیگوں ، روٹی کے ڈبوں اور پالش کی ڈبیوں میں دی جاتی ہے ،32 بچے اس وقت لاہور کی جیلوں میں موجود ہیں جو منشیات فروشی کے الزام میں پکڑے جا چکے ہیں۔ملتان میں اجمل بلوچ اور جمال خان ،ڈیرہ غازی خان میں اسد سکھیرا، رشید ملتانی ، بابا ملنگ، سنی ، عاصم کھوٹا اور باقر خان،راولپنڈی میں شکیل عرف شکیلا، شاہد چھادا، افضل کلچے والا، عثمان موٹا ، سعید ستی اور جھارا بچوں کو جیب تراشی سکھا کر انکوکام پرلگاتے ہیں۔بچوں سے مکروہ کام کرانے والے مختلف گروہ آپس میں رابطے میں رہتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2 سالوں میں 3 ہزار سے زائد بچے جو گھروں سے بھاگے ہیں ان میں سے اکثر ان دھندوں میں ملوث پائے گئے ہیں ، یہ بچے واپس گھروں میں آکرپھر بھاگ جاتے ہیں ،اکثر بچوں کو نشے کی لت لگ چکی ہے۔

مزید : لاہور


loading...