بے نامی ٹرانزیکشن کے تحت پراپرٹی رکھنے پر7 برس تک قید ہو گی: قائمہ کمیٹی خزانہ سے بل کی متفقہ منظوری دیدی

بے نامی ٹرانزیکشن کے تحت پراپرٹی رکھنے پر7 برس تک قید ہو گی: قائمہ کمیٹی خزانہ ...
بے نامی ٹرانزیکشن کے تحت پراپرٹی رکھنے پر7 برس تک قید ہو گی: قائمہ کمیٹی خزانہ سے بل کی متفقہ منظوری دیدی

  

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے بے نامی ٹرانزیکشن کی روک تھام کے بل 2016ءکی ترامیم کے ساتھ متفقہ طور پر منظوری دے دی۔

وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق بل کے تحت بے نامی ٹرانزیکشن کے تحت پراپرٹی رکھنے والوں کو 1 سال سے 7 سال قیدکی سزا اور پراپرٹی کی مارکیٹ ویلیو کا 25 فیصد جرمانہ کیا جائے گا اور پراپرٹی ضبط بھی کی جائے گی، غلط معلومات فراہم کرنے والوں کو 6 ماہ سے 5 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے، بل سے ٹیکس چوری، دہشت گردوں کو فنڈنگ، کرپشن کی روک تھام میں مدد ملے گی اور غیر رسمی معیشت کا سائز بھی کم ہوگا۔ رشید گوڈیل نے کہا کہ ایف بی آر پانامہ لیکس میں شامل ساڑھے چار سو لوگوں کے خلاف نوٹس نہیں بھیج سکا تو بے نام پراپرٹی رکھنے والوں کے خلاف کارروائی کی صلاحیت کیسے حاصل کرے گا۔

اسد عمر نے کہا کہ سٹیٹ بنک سے چار ماہ سے زائد عرصہ ہوگیا ہے دبئی میں سرمایہ کاری کرنے والے پاکستانیوں کی تفصیل مانگی جو ابھی تک فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی پانامہ لیکس میں شامل ساڑھے چار سو لوگوں کے خلاف ایکشن ہوا ،کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں نیشنل بنک اور سٹیٹ بنک کے سربراہوں کو اجلاس میں طلب کرکے تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔ مذہبی اداروں، ٹرسٹ، فلاحی تنظیموں کوبے نامی ٹرانزیکشن ، بل سے استثنیٰ دینے والی شق کو حذ ف کردیاگیا۔ اب کوئی بھی شخص بے نامی ٹرانزیکشن کے تحت ٹرسٹ، مدرسہ، فلاحی تنظیم نہیں رجسٹرڈ کر سکے گا۔ بے نامی ٹرانزیکشن میں ملوث شخص کے ورثاءکے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوگا۔

مزید : اسلام آباد