توہین رسالت قانون میں تبدیلی نہیں ہوگی، سینیٹ کمیٹی میں تجاویز پر غور

توہین رسالت قانون میں تبدیلی نہیں ہوگی، سینیٹ کمیٹی میں تجاویز پر غور
توہین رسالت قانون میں تبدیلی نہیں ہوگی، سینیٹ کمیٹی میں تجاویز پر غور

  


اسلام آباد(این این آئی)سینیٹ فنکشنل کمیٹی انسانی حقوق کے منگل کو پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں توہین رسالت قانون پر عمل درآمد یا طریقہ کار میں تبدیلی کے علاوہ معاملہ زیرغور آیا۔چیئر پرسن سینیٹر نسرین جلیل نے کہا کہ قانون میں نہ ترمیم چاہتے ہیں نہ چھیڑ رہے ہیں۔قانون کے غلط استعمال کو روکے جانے کا معاملہ ہے۔چاہتے ہیں کہ کوئی بے گناہ نشانہ بن کر سزا نہ پائے۔ اس قانون سے غیر مسلوں کی نسبت مسلمان ذیادہ نشانہ بن رہے ہیں۔کمیٹی قانون کے درست عمل درآمد کی تبدیلی تجویز کریگی۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ توہین رسالت قانون میں ترمیم نہیں چاہتے اس کا غلط استعمال روکنے کی اشد ضرورت ہے۔توہین رسالت قانون کے غلط استعمال روکنے پر مثبت ،بہتر اور جامع تجاویز دی جا سکتی ہیں۔ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے جہاں سے بھی رہنمائی ملے لی جانی چاہئے۔این سی ایچ آر کے چیئرمین نے اچھی سفارشات دی ہیں جن پر غور کر کے اور بہتر تجاویز دی جانی چاہئیں۔ سینیٹر نثار محمد مالاکنڈ نے کہا کہ عام قانون سازی نہیں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔علماءسے بھی مشاورت کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک میں توہین رسالت کے قوانین کا بھی جائزہ لیا جانا چاہئے۔سینیٹر میر کبیر نے کہا کہ ہم توہین عدالت قانون میں ترمیم کا سوچ بھی نہیں سکتے لیکن قانون پر عمل درآمد کے حوالے سے تحفظات موجود ہیں۔

مفتی عبد الستار نے کہا کہ توہین رسالت قانون کو چھیڑا گیا تو بہت مسئلہ بن جائیگا۔زیر غور تجاویز پر اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی رہنمائی لی جائے۔ سینیٹر ثمینہ عابد نے کہا کہ80 فیصد بے گناہ مارے جاتے ہیں اسلامی نظریاتی کونسل کے تین چار فیصلوں سے دکھ ہو اہے۔ چیئرمین این سی ایچ آر جسٹس (ر) علی نواز چوہان نے کہا کہ میں نے قانون پر عمل درآمد کے حوالے سے جو سفارشات مرتب کی ہیں ان کے تحت کیس کی تحقیقات ایس ایس پی سے کم درجے کا پولیس افسر نہ کرے۔سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سے کم کا نہ کرے۔جھوٹا مقدمہ دائر کرانے والے پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے جب تک الزام ثابت نہ ہو مقدمہ قابل ضمانت قرار دیا جائے ایسے مقدمات کیلئے امام مسجد اور پولیس اہلکاروں کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔حضور نے بہت سے ایسے افراد کو معاف کیا تھا۔ اس مقدمے میں فرد کی پشیمانی کو بھی مدنظر رکھا جائے اگر کوئی توہین رسالت کرنے سے انکار کرتا ہے تو اس صورت میں شبہ کو بھی مدنظر رکھا جائے۔سیکرٹری وزارت انسانی حقوق ندیم اشرف نے کہا کہ اس قانون کے حوالے سے خوف کی فضا قائم ہو گئی ہے کوئی وکیل دفاعی مقدمہ لینے پر آمادہ نہیں۔ججز بھی مقدمات لینے سے خوف کا شکار ہوتے ہیں۔

توہین رسالت قانون کے غلط استعمال روکنے پر توجہ رکھی ہو گی اور آگاہی کے ذریعے پیغام بھی جائے کہ نیک نیتی سے کام لیا جا رہا ہے۔ توہین رسالت قانون کے غلط استعمال روکنے کیلئے کمیٹی کے مزید اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ ہوا جس میں سول سوسائٹی اور معاشرے کے دیگر شعبوں سے متعلقہ اسلامی نظریاتی کونسل،علمائے کرام ،ماہرین ،قانون دانوں کو بھی مشاورت کیلئے مدعو کیا جائیگا۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ میرے اسلامی نظریاتی کونسل پر تحفظات موجود ہیں۔اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی کا طلبگار نہیں روشنی کی بجائے اسلامی نظریاتی کونسل درجہ حرارت بڑھاتی ہے۔سینیٹر ستارہ ایاز نے کہا کہ تمام فریقین کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد فیصلے کئے جائیں۔سینیٹر سحر کامران نے کہا کہ قانون کا غلط استعمال روکنا ضروری ہے۔

مزید : اسلام آباد


loading...