اقتصادی راہداری گیم چینجر، بڑی کمپنیاں پاکستان کے توانائی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی خواہشمند ہیں: مصری سفیر

اقتصادی راہداری گیم چینجر، بڑی کمپنیاں پاکستان کے توانائی سیکٹر میں سرمایہ ...
اقتصادی راہداری گیم چینجر، بڑی کمپنیاں پاکستان کے توانائی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی خواہشمند ہیں: مصری سفیر

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان میں تعیناتی مصر کے سفیر شریف شاہین نے کہا ہے کہ پاکستان ایک بڑا اور ہمارا برادر اسلامی ملک ہے،اس وقت دونوں ممالک کے درمیان 300 ملین ڈالر سالانہ کی تجارت ہورہی ہے، دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں مزید تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے، مستقبل میں تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہدری خطے میں گم چینجر ثابت ہوگی، مصر کے سرمایہ کار بھی اس سے فائدہ اٹھانا چاہیں گے۔ پاکستان میں آکر ایسے محسوس ہورہا ہے جیسے اپنے گھر آگیا ہوںِ یہاں کے لوگ بڑے گرم جوش، مہمان نواز اور محبت کرنے والے ہیں۔

ہماری روایات اور اقدار مشترکہ ہیں جنوری 1949ءمیں سفارتی تعلقات تائم ہوئے اس وقت سے دونوں ممالک مصر اور پاکستان کے درمیان بہترین دوستانہ اور برادرانہ تعلقات ہیں جنوری 1949ءمیں سفارتی تعلقات قائم ہوئے اس وقت سے دونوں ممالک بیشتر اہم معاملات پر دونوں ممالک کے موقف میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے، ہمیں سیاسی اور معاشی میدان میں سب سے زیادہ تعاون کی ضرورت ہے، مصر اور پاکستان نے بین الاقوامی فورم پر ہمیشہ ایک دوسرے کو سپورٹ کیا ہے، ہم نے پاکستان کو کشمیر کے مسئلے پر سپورٹ کیا، پاکستان مسلم ممالک کے باہمی تنازعات کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

روزنامہ خبریں کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مصر میں ٹیکسٹال کے شعبے میں سرمایہ کاری کررکھی ہے اور ہم نے یہاں ٹیلی کام سیکٹر میں سرمایہ کاری کی ہے، موبائل کمپنی موبی لنک نے پاکستان میں خطیر سرمایہ کاری کررکھی ہے۔ موبائل کمپنی موبی لنک کا تعلق مصر سے ہے، مصر کی مزید کمپنیاں بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہیں۔ توانائی کے شعبے میں مصرف کا وسیع تجربہ ہے اور مستقبل میں اسے شعبے میں سرمایہ کاری کرکے پاکستان میں توانائی کا بحران ختم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان اس سلسلے میں بات چیت جاری ہے اور مثبت پیشرفت کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر کی کئی بڑی کمپنیاں پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ خطے کے تمام ممالک کے علاوہ ہمارے لئے بھی فائدہ مند ہوسکتا ہے اور خطے کے لئے حقیقی گیم چینجر ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعاون کو بڑھانے کے لئے وفود باہم دونوں ممالک کے دورے کررہے ہیں اور امید ہے کہ حکومت پاکستان اس حوالے سے ہماری مدد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر رابطے بڑھانے کی ضرورت ہے، ہماری کوشش ہے کہ جیسے ہی اسلام آباد کا نیو ائیرپورٹ تیار ہوگا تو مصر کی ائیرلائن پاکستان سے اپنی سروس کا آغاز کرے گی۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر رابطہ بڑھے گا اور باہمی تجارت میں بھی اضافہ ہوگا اور دونوں ممالک کے درمیان مذہبی ثقافتی رشتے بھی مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی سطح پر دونوں ممالک کے درمیان بھی تعاون موجود ہے اور اسے مزید بڑھانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔

حال ہی میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مصر کا کامیاب دورہ کیا ہے اور ہمارا دفاعی تعاون کئی دہائیوںپر محیط ہے۔ انہوں نے ہمارے صدر، آرمی چیف، وزیر دفاع سے مثبت ملاقاتیں کیں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں شریف شاہین نے کہا کہ بیشتر اسلامی ممالک دہشت گردی سے متاثر ہیں جن میں مصرف بھی ایک ہے۔ داعش نہ صرف ہمارے لئے بلکہ پورے خطے اور دنیا کے لئے ایک خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب بہت اہم ہے اور اس کی وجہ سے پاکستان میں امن وامان کی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک دہشت گردی کے خلاف باہمی تعاون سے داعش کے خطرے پر قابو پاسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے ہمیں لیبیا کی حکومت کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ وہ داعش کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرسکے۔ تمام ممالک کو بھی لیبیا کی مدد کرنا ہوگی اور ہمیں انٹیلی جنس تعاون کو بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس تعاون سے نہ صرف خطے میں امن آئے گا بلکہ پوری دنیا بھی پرامن ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ او آئی سی کو بھی اس حوالے سے کردار ادا کرنا ہوگا۔ ماضی میں بھی 1974ءمیں پاکستان نے کامیاب اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے مصر نے ہمیشہ پاکستانی موقف کی حمایت کی ہے اور ہم کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی پرزور حمایت کرتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مصر میں حکومت کی حالیہ تبدیلی سے ملک کے اندر استحکام آیاہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات چھوٹے موٹے واقعات ہوجاتے ہیں لیکن مجموعی امن وامان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اس حوالے سے مصر کے صدر بڑا اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ایک منتخب پارلیمنٹ کام کررہی ہے، معاشی حالے سے ملک میں بہتری آئی ہے، انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں استحکام آئے گا اور دہشتگردی اور غربت کا خاتمہ ہماری ترجیحات میں شامل ہے جو کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مصر کی صورتحال ایک جیسی ہے ہم کو مل کر غربت اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں مصر کے سفیر شریف شاہین نے کہا کہ مصر اور پاکستان کی قدریں مشترکہ ہیں۔ دونوں اسلامی ممالک ہیں سب سے اہم چیز اسلام ہے، اس کے علاوہ دونوں ممالک کے عوام شاعر مشرق علامہ اقبال کو اپنا ہیرو تصور کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی قدریں مشترکہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تعاون اور عوامی و سماجی سطح پر رابوں کو فروغ دے کر ان تعلقات کو مزید مضبوط اور اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی سطح پر بھی وسیع تعاون موجود ہے۔ پاکستان سے دوسو کے قریب طلبا مصر کی الازہر یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں جبکہ ہمارے کئی پروفیسرز پاکستان کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں پڑھارہے ہیں۔ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی حوالے سے تعاون میں اضافے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن فہمی کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کے درمیان مستقبل قریب میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی وفود کا دورہ متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے لوگ محنتی اور محب وطن ہیں۔ انہوں نے ایک سال کے جواب میں کہا کہ پاکستان اس خطے کا ایک اہم ملک ہے اور امن و استحکام کے لئے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے، پاکستان کی معیشت میں بہتری آرہی ہے، پاکستان امت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی کے لئے اہم کردار ادا کررہا ہے، اہم بین الاقوامی اور علاقائی ایشوز پر دونوں ممالک کے موقف میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے، دونوں ممالک کے درمیان بہترین سیاسی، سفارتی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔

مزید : اسلام آباد