بادشاہ کے گھوڑوں کے نگران کو جرمن زبان میں فیلڈ مارشل کہا جا تا تھا ، مختلف ممالک میں یہ رینک نافذ العمل ہے: رپورٹ

بادشاہ کے گھوڑوں کے نگران کو جرمن زبان میں فیلڈ مارشل کہا جا تا تھا ، مختلف ...
بادشاہ کے گھوڑوں کے نگران کو جرمن زبان میں فیلڈ مارشل کہا جا تا تھا ، مختلف ممالک میں یہ رینک نافذ العمل ہے: رپورٹ

  


لاہور (ویب ڈیسک) فیلڈ مارشل بادشاہ کے گھوڑوں کے نگران کو کہتے ہیں اور یہ جرمن زبان کا لفظ ہے،متعدد ممالک میں گزشتہ 830سال سے رینک نافذ العمل ہے جب 1185ءمیں جنرل البیرک کلائمنٹ کو فرانس کے بادشاہ کنگ فلپ آگٹس نے دنیا کا پہلا فیلڈ مارشل بنایا تھا۔ فیلڈ مارشل کلائمنٹ نے کنگ فلپ کے ساتھ تیسرے معرکے میں حصہ لیا تھا اور وہ 1191ءمیں انتقال کر گئے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق  فرانس میں یہ اعزاز 1793ءسے 1804ءتک ختم کر دیا گیا تھا اور 1870ءسے 1916ءکے درمیان اس کی بڑی اہمیت رہی۔ یہ اعزاز پہلے فرانسیسی فرمانروا کے دور میں بحال ہوا جب نپولین اول نے خود کو فیلڈ مارشل قرار دیا۔ جوہان ٹیسر کلائس کو 1618ءمیں سلطنت روم کا فیلڈ مارشل بنایا گیا اور انہوں نے پروٹسٹنٹ کے خلاف جاری رہنے والی 30سالہ طویل جنگ کی قیادت کی۔ یہ جنگیں 1618ءسے 1648ءکے درمیان لڑی گئیں جن میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں۔ جرمنی میں یہ رینک 1631ءسے نافذ العمل ہے اور 1806ءسے 1945ءکے درمیان 100کے قریب جرنیلوں کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا گیا۔ جنرل ہنس جارج کو جرمنی کے پہلے فیلڈ مارشل تھے۔

سلطنت روس کے پہلے فیلڈ مارشل کونٹ فیڈر گولون تھے جنہیں یہ اعزاز 1700ءمیں ملا۔ انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کے مطابق وہ اپنے تمام ہم عصر جرنیلوں پر فوقیت رکھتے تھے کیونکہ وہ حقیقی سٹیٹس مین تھے جبکہ ان کے دیگر ہم عصر ابھی وہ تمام تجربات سیکھ رہے تھے جو ان میں پائے جاتے تھے۔ برطانیہ میں یہ اعزاز لیفٹیننٹ جنرل ہملٹن کو 1736ءمیں دیا گیا۔ دنیا بھر میں فیلڈ مارشل کا اعزاز پانے والے جنرل بہت کم اور گنے چنے ہیں کیونکہ اس اعزاز کی انفرادیت ہے کہ خاص حالات یا حالت جنگ میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے والے جنرل کو یہ اعزاز دیا جاتا ہے۔ فیلڈ مارشل کو فائیو سٹار جنرل یعنی 5ستاروں کا جرنیل بھی کہا جاتا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد فیلڈ مارشل رینک کی حیثیت محض نمائشی رہ گئی،جب بہت سے جرنیلوں کو اس رینک سے نوازا گیا، برطانوی فیلڈ مارشل کلاڈ اچنلیک تقسیم ہند کے بعد ایک سال تک پاک بھارت افواج کے سپریم کمانڈر رہے،برصغیر پاک وہند میں فیلڈ مارشل برنارڈ منٹگمری کو 1946ءمیں فائیو سٹا رجنرل بنایا گیا،اسی طرح جرمنی میں بہت سے متحرک فیلڈ مارشل گزرے ہیں جیسا کہ ڈیزٹ فاکس اور فیلڈ مارشل رومیل قابل ذکر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق  پاکستان کی تاریخ میں یہ اعزاز صرف ایک جنرل کے پاس ہے۔ پاکستان کے دوسرے صدر اور آرمی چیف جنرل ایوب خان نے 1965ءکی پاک بھارت جنگ کے دوران خود کو فیلڈ مارشل قرار دے دیا تھا۔ بھارت میں تین فیلڈ مارشل ہوئے۔ جنرل سام ہرموسجی منیکشاہ پہلے جنرل تھے جنہیں یہ اعزاز دیا گیا وہ بھارتی فوج کے آٹھویں سربراہ تھے ان کی قیادت میں بھارت نے پاکستان سے 1971ءکی جنگ لڑی جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجودمیں آیا۔ اس وقت کے بھارتی صدر نے انہیں جنوری 1973ءمیں فیلڈ مارشل کا رینک دیا۔ بھارتی فوج کے پہلے سربراہ جنرل مداپا کریپا جنہوں نے 1947-48ءمیں پاکستان سے جنگ لڑی، انہیں 1986ءمیں حکومت نے اس اعزاز سے نوازا۔ جنرل منیکشاہ اور جنرل کریپا دونوں نے 94سال عمر پائی۔ لائل پور(موجودہ فیصل آباد) میں پیدا ہونے والے بھارتی فضائیہ کے افسر ارجن سنگھ کو 2002ءمیں مارشل آف دی ایئر فورس (فیلڈ مارشل کے مساوی )بنایا گیا۔ انہوں نے 1965ءمیں پاک بھارت جنگ میں فضائیہ کی قیادت کی تھی۔ ارجن سنگھ اب بھی حیات ہیں اور ان کی عمر 97سال ہے۔ وہ واحد بھارتی فیلڈ مارشل ہیں جو حیات ہیں۔ 20مارچ 2015ءمیں سری لنکن آرمی چیف جنرل سارتھ فونیسکا کو فیلڈ مارشل کا رینک دیا گیا۔ ان کی قیادت میں سری لنکا نے تامل ٹائیگرز سے 26سالہ طویل گوریلا جنگ میں فتح پائی۔ 2010ءمیں صدارتی انتخاب میں شکست کے بعد انہوں نے تمام اعزازات واپس کر دئیے۔ نیپال کے کنگ برندرا اور کنگ مہندرا کو برطانوی فوج کی جانب سے فیلڈ مارشل کا اعزاز دیا گیا۔ دنیا بھر میں فیلڈ مارشل کے رینک حاصل کرنے والے جرنیلوں کی تعداد چند سو ہے جن میں برطانیہ کے 141اور روس کے 64فیلڈ مارشل شامل ہیں۔

کمال اتاترک جو جدید ترکی کے بانی ہیں وہ بھی فیلڈ مارشل تھے۔ امریکا میں یہ رینک کبھی کسی کو نہیں ملا کیونکہ وہاں وہ یہ رینک رائج نہیں۔ سعودی عرب کے سابق نائب وزیر دفاع پرنس خالد بن سلطان کو 1991ءمیں عراق، کویت جنگ کے دوران شاہ فہد نے فیلڈ مارشل کا رینک عطا کیا۔

مزید : لاہور


loading...