ہمالیہ کے پہاڑوں میں چین نے ایسا منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کردیا کہ دنیا میں کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا؟ جان کر آپ کو خوشی بھی ہوگی اور بے حد حیرانی بھی

ہمالیہ کے پہاڑوں میں چین نے ایسا منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کردیا کہ دنیا میں ...
ہمالیہ کے پہاڑوں میں چین نے ایسا منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کردیا کہ دنیا میں کسی نے تصور بھی نہ کیا تھا؟ جان کر آپ کو خوشی بھی ہوگی اور بے حد حیرانی بھی

  



بیجنگ (نیوزڈ یسک) کوہ ہمالیہ کے ہزاروں میٹر بلند برف پوش پہاڑوں کے متعلق کبھی کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ اس ناقابل تسخیر جگہ سے بھی ریلوے لائن گزرسکتی ہے، لیکن چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ناصرف ممکن ہے بلکہ 2030ءتک آپ تبت سے نیپال تک 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار پر فراٹے بھرتی ریل گاڑی دیکھ سکیں گے، جو ہمالیہ کے برف پوش پہاڑوں میں سے گزرے گی۔

اگرچہ دنیا بھر کے ماہرین آج تک اس بات کو ایک لطیفہ قرار دیتے رہے ہیں کہ کوہ ہمالیہ میں سے ریلوے لائن گزرسکتی ہے، مگر چین ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس یہ کارنامہ سرانجام دینے کے لئے مطلوبہ ٹیکنالوجی اور مہارت موجود ہے اور وہ دنیا کو یہ کام کرکے دکھائیں گے۔

امریکہ کے 50 ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں ایسی خبر آگئی کہ امریکی فوج کے پیروں تلے زمین نکل گئی، پوری دنیا کیلئے بڑا خطرہ!

اخبار پیپلزڈیلی کی رپورٹ کے مطابق بیجنگ میں منعقد ہونے والی چائنہ تبتالوجی ریسرچ سنٹر کی ایک میٹنگ میں چینی ماہرین نے انکشاف کیا کہ تبت کے شہر سگاسگی سے شروع ہونے والی ریلوے لائن جائی رونگ کے مقام پر نیپالی سرحد پر جاملے گی اور دنیا کے بلند ترین برف پوش پہاڑوں میں سے گزرتی ہوئی نیپال کے دارالحکومت کٹھمنڈو تک پہنچے گی۔

واضح رہے کہ چینی صوبے کنگ ہائی سے تبت تک پہلے ہی 2000کلومیٹر طویل ریلوے لائن تعمیر کی جاچکی ہے۔ ڈیڑھ ہزار کلومیٹر سے زائد نئی ریلوے لائن کی تعمیر کے بعد مین لینڈ چین کا رابطہ براستہ تبت و کوہ ہمالیہ نیپال تک قائم ہوجائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمالیہ کے پہاڑوں کی بلندی اور برف سے ڈھکے علاقے کو مدنظر رکھا جائے تو اسے دنیا کا دشوار گزار ترین ریلوے ٹریک قرار دیا جاسکتا ہے۔ منصوبے پر کام 2020ءمیں شروع ہوگا اور 2030ءتک یہ عجوبہ مکمل ہو جائے گا۔

مزید : بین الاقوامی


loading...