’’ملک حالت جنگ میں ‘‘ حکومتی اداروں کی کار کردگی کا پول کھل گیا ، 7 کروڑ عوام کا کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں

’’ملک حالت جنگ میں ‘‘ حکومتی اداروں کی کار کردگی کا پول کھل گیا ، 7 کروڑ ...
’’ملک حالت جنگ میں ‘‘ حکومتی اداروں کی کار کردگی کا پول کھل گیا ، 7 کروڑ عوام کا کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں

  


اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور ریونیو کو بتایا گیا ہے کہ حکومتی ایجنسیوں اور اداروں کے پاس ملک کے 7 کروڑ عوام کا کوئی ریکارڈ ہی موجود نہیں۔

نجی خبر رساں ادارے’’این این آئی ‘‘کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اور ریونیو کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا۔چیف شماریات آصف باجوہ نے کمیٹی کو ملک میں مردم شماری کے انعقاد سے متعلق اقدامات کے حوالے سے بریفنگ کے دوران انکشاف کیا کہ ملک کی 19 کروڑ 60 لاکھ آبادی میں سے 7 کروڑ کا پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) اور نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے پاس کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ 7 کروڑ لوگ کیا کرتے ہیں؟  کہاں رہتے ہیں اور ان کا ذریعہ معاش کیا ہے ؟ اس حوالے سے ہمیں کچھ معلوم نہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک میں آبادی کے تعین کیلئے مردم شماری ضروری ہے اور لوگوں سے متعلق معلومات مردم شماری کے ذریعے ہی حاصل کی جاسکتی ہیں، جبکہ ملک میں مہاجرین کی تعداد کے تعین کے لیے بھی مردم شماری ناگزیر ہے۔

آصف باجوہ نے کہا کہ مردم شماری کرانے کے لیے پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی تیاری مکمل ہے اور مردم شماری کرانے کا مسمم ارادہ بھی ہے، تاہم دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی وجہ سے پاک فوج کی عدم دستیابی کے باعث تاحال مردم شماری کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا۔انہوں نے بتایا کہ مردم شماری کرانے کے لیے ایک لاکھ 66 ہزار شمار کنندہ کی ضرورت ہے، جبکہ یہ کام فوج کے بغیر ممکن نہیں اور نہ ہی فوج کے بغیر مردم شماری کرانے کا کوئی متبادل پلان موجود ہے۔کمیٹی اراکین نے مردم شماری میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو تجویز دی کہ وہ اس کے لیے کوئی متبادل پلان تیار کرے۔

مزید : اسلام آباد


loading...