کہوٹہ پولیس نے بچوں سے جنسی زیادتی کے 150مقدمات میں ملوث گروہ گرفتار کر لیا

کہوٹہ پولیس نے بچوں سے جنسی زیادتی کے 150مقدمات میں ملوث گروہ گرفتار کر لیا
کہوٹہ پولیس نے بچوں سے جنسی زیادتی کے 150مقدمات میں ملوث گروہ گرفتار کر لیا

  


راولپنڈی(نیوز ڈیسک)تھانہ کہوٹہ پولیس نے طویل عرصہ سے علاقہ میں بچوں سے جنسی زیادتی کے150 مقدمات میں نامزد مرکزی ملزم کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا، ملزمان کا گروہ زیادتی کا نشانہ بننے والے بچوں کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کی دھمکیاں دے کر ان سے رقم بٹورتے اور بلیک میل کر کے انھیں اپنے غیر قانونی دھندوں میں استعمال کرتے تھے۔

اطلاعات کے مطابق اس گروہ کے سرغنہ کے خلاف مختلف تھانوں میں متعدد مقدمات درج ہوئے لیکن بعض مقامی افراد کی مداخلت اور مختلف طریقوں سے متاثرہ بچوں کے لواحقین کو راضی نامے پر مجبور کر دیتے ،تاہم 9اگست کو تھانہ کہوٹہ کے علاقے بلنگھڑی کے رہائشی حسن علی ولد امجد علی نے تھانہ کہوٹہ میں درخواست دی کہ وہ اپنے گھر پر موجود تھا کہ اس کا ایک کلاس فیلو حسیب ارشد اس کے گھر آیا اور ساتھ اس کے گھرچل کر اسکا کمپیوٹر ٹھیک کرنے کو کہا جس پر وہ اپنے والد کی اجازت سے اس کا کمپیوٹر ٹھیک کرنے اس کے ساتھ چل پڑا لیکن حسیب ارشد اسے اپنے گھر لے جانے کی بجائے مبین ماڈل سکول کے پاس ایک گھر میں لے گیا،جہاں عدنان بنگش ، احتشام اور 2نامعلوم افراد موجود تھے، اس دوران عدنان ستی کے علاوہ تمام لوگ کمرے سے باہر چلے گئے اور عدنان ستی نے ان کے جاتے ہی کمرے کی کنڈی لگا دی اور حسن علی سے چھیڑ چھاڑ کرنے لگا ،منع کرنے پر اس نے گولی مارنے کی دھمکی دی اور کوئی وزنی چیز حسن علی کے سر پر مار دی جس سے اس کے سر سے خون نکل آیا اور وہ بیہوش ہو گیا ،تب عدنان ستی نے اسے برہنہ کر کے زیادتی کا نشانہ بنایابعد ازاں حسن نے باتھ روم جانے کا بہانہ کر کے چھت پر جا کرباہرچھلانگ لگائی جس سے اسے چوٹیں آئیں لیکن وہ وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔

تھانہ کہوٹہ پولیس نے درخواست پردفعہ 337کے تحت مقدمہ درج کر کے عدنان بنگش کو اس کے دیگر ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا ایس ایچ اورسردار ذوالفقارکے مطابق پولیس طویل عرصہ سے عد نان بنگش کی تلاش میں تھی  ، یہ جنسی زیادتی کے متعدد مقدمات میں مطلوب ہے ، مذکورہ ملزمان کے پاس 150سے زائد بچوں کی وڈ یوز بھی موجود ہیں۔

مزید : راولپنڈی


loading...